درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 50

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 50
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 50

  

گھنے جنگل اور خنک ہوا کے پس منظر میں غروب آفتاب کا نظارہ بڑا دلکش ہوتا ہے لیکن کان قدرتی موسیقی سننے اور آنکھیں شفق کے رنگ دیکھنے کی بجائے چیتے پر مرکوز تھیں۔عین اسی وقت چیتے نے گزشتہ شام پیاری پر حملہ کیا تھا۔اسی لیے مجھے امید تھی کہ ایک اور شکار ملنے کی توقع میں وہ آج پھرادر آئے گا۔

جلد ہی اندھیرا بڑھنے لگا۔عقب میں ریسٹ ہاؤس قریب ہونے کے باوجوددھندلا سا گیا۔اوپر ستارے جھلملا رہے تھے اور ان کی کرنیں بلند وبالا درختوں سے چھن چھن کر زمین پر پڑی رہی تھیں۔

میرے بائیں طرف ایک جھاڑی میں سرسراہٹ ہوئی۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی مگر بے سود،کچھ نظر نہ آسکا۔میرے ہاتھ غیر ارادی طور پر بھری ہوئی رائفل کی طرف بڑھ گئے۔ میں نے ٹارچ کا بٹن دبا دیا۔ سوکھے ہوئے پتوں کے درمیان کالا سانپ رینگ رہا تھا۔ایک ڈھیلا پھینک کر اسے دور بھگا دیا لیکن اس سے صورت حال خراب ہو گئی۔ممکن ہے،چیتا کہیں آس پاس ہی ہو۔ٹارچ کی روشنی نے میری پوزیشن واضح کر دی تھی۔اس سے وہ خبردار ہو کر کمال عیاری سے اچانک مجھ پروار کر سکتا تھا۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 49  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اسی لمحے بیرونی سگنل کے قریب مال گاڑی کے انجن نے لمبی سیٹی دی اور پھر چھک چھک کی آواز آنا بند ہو گئی۔معلوم ہوتا تھا گاڑی کھڑی ہو گئی ہے کیونکہ انجن ڈرائیور اور فائر مین کی تیز تیز باتیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ان کی آواز میں گھبراہٹ کا عنصر نمایاں تھا۔ شاید نندیال جانے والی مسافر گاڑی کو راستہ دینے کے لیے مال گاڑی بیرونی سگنل پر روک دی گئی تھی۔ میرا اندازہ درست نکلا، تھوڑی ہی دیر بعد مسافر گاڑی انتہائی سرعت سے نکل گئی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ رات کے بارہ بج رہے تھے،پہلے مجھے احساس ہی نہ ہو سکا کہ وقت کس قدر تیزی سے بیت رہا ہے۔

گاڑی روانہ ہو جانے کے بعد امید تھی کہ ماحول پر خاموشی طاری ہو جائے گی لیکن صد حیف یہ آرزو پوری نہ ہوئی۔بہت سے لوگ لالٹینیں لیے بنگلے میں داخل ہوئے۔چونکہ اس شوروغل میں میرا بٹھا رہنا کسی طرح بھی سود مند نہ تھا، لہنذا میں وہاں سے اٹھ کر ان لوگوں کی طرف آیا۔

اس پارٹی میں اسٹیشن ماسٹر،فارسٹ رینجر،مال گاڑی کے ڈرائیور،گارڈ اور فائر مین شامل تھے۔ڈرائیور نے بتایا کہ جونہی گاڑی لمبی سرنگ سے باہر نکلی انجن کی روشنی میں ریلوے لائن کے درمیان ایک مڑی تڑی لاش دکھائی دی۔ لوگوں نے اسکو خودکشی کا رنگ دیا کہوہ جان بوجھ کر ریل کے سامنے کودا ہوگا ، میں نے دیکھا تو کہا کہ لگتا ہے اسے چیتے نے مار کر ادھر پھینکا ہے یا اس نے ادھر بیٹھ کر ہی اسکا شکار کیا ہے۔اس پر لوگ بولے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔یہ آدمی آدمی خود چل کر یہاں آیا ہوگا۔چیتا تو اسے اٹھا کر نہیں لایا ہوگا ۔

شاید میں انکی بات پر یقین کرلیتا لیکن جب لاش کا مکمل جائزہ لیا تو میرا اندازہ درست تھا ۔ اسے چیتے نے ہی ہلاک کیاتھاکیونکہ اس کی ہڈیاں چبائی ہوئی تھیں۔اگر میں زور نہ دیتا تو وہ اسے چیتے کی کارروائی نہ مانتے۔

خیر اس واقعے کی اطلاع وگوماتا کے اسٹیشن ماسٹر کو دی گئی تاکہ وہ بذریعہ تار پولیس کو مطلع کر سکے۔اسٹیشن ماسٹر کو میری آمد کا علم تھا۔وہ ان لوگوں کو ساتھ لے کر میری طرف چلا آیا۔ سب کا یہی خیال تھا کہ لاش چنچو قبیلے کے کسی فرد کی ہے۔

میں نے وعدہ کیا کہ درندے کو ٹھکانے لگانے کی پوری کوشش کروں گا۔اس کے بعد وہ لوگ رخصت ہو گئے۔میں چار پائی پر لیٹ رہا۔صبح چار بجے چائے پینے کے بعد علیم کو ساتھ لیا اور لاش کا معائنہ کرنے کے لیے سرنگ کی راہ لی۔ ریلوے لائن کے ساتھ ہم آگے پیچھے چل رہے تھے۔ندی کا پل عبور کیا تو سامنے سرنگ کا دہانہ نظر آگیا۔ہمارے بائیں طرف لائن کے اوپر ہی لاش کے باقی ماندہ ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔شاید چیتا ساری ر ات اس پر دانت تیز کرتا رہا تھا۔

ہم لاش کا بغور معائنہ کرنے میں مصرو ف تھے کہ سرنگ میں گرج سنائی دی۔شاید کوئی گاڑی آرہی تھی،فوراً ریلوے لائن سے ہٹ کر کھڑے ہو گئے۔اچانک مجھے ایک خیال آیا۔ میں نے زور زور سے ہاتھ ہلانا شروع کر دیا۔ تکہ ڈرائیور گاڑی روک لے میری یہ کوشش کامیاب رہی لیکن فورا گارڈ اور چند پولیس والوں نے مجھے گھیر لیا کہ گاڑی کیوں رکوائی ہے۔میں نے انہیں صورت حال سمجھائی اور درخواست کی کہ علیم کو اسٹیشن تک لیتے جائیں تاکہ وہ وگوماتا پولیس اسٹیشن میں اس حادثے کی اطلاع دے سکے اور لوگوں کو خبردار کردیا جائے کہ وہ ادھر آنے سے گریز کریں۔اس طرح ہم کامل سکون سے چیتے کا سراغ لگا سکیں گے۔میں نے علیم سے کہا وہ کھانے کی کچھ چیزیں لے کر دو بجے کی اپ ٹرین کے ذریعے یہاں آجائے۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس اثناء میں مسافر بھی گاڑی سے نیچے اتر آئے تاکہ حقیقت حال معلوم کر سکیں۔بعض تو لاش کے گرد جمع ہو گئے۔ڈرائیور کو گاڑی حرکت میں لانے کے لیے پندرہ منٹ لگ گئے۔

جوں جوں روشنی پھیلتی گئی، چیلیں اور گدھ پر منڈلانے لگیں۔میں پتھر مار مار کر انہیں دور رکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ پروگرام کے مطابق دو بجے علیم واپس آگیا۔اب ہم نے چھپ کر بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کی۔سرنگ کے دہانے سے زیادہ موزوں جگہ کون سی ہو سکتی تھی؟وہاں لائن سے ذرا ہٹ کر کمبل بچھایا اور بیٹھ گئے۔ہم تاریکی میں تھے۔چیتا ہمیں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کے برعکس ہماری آنکھوں کے سامنے پورا منظر تھا۔ چار بجے سر پہر تک ہر طرح سے تیار ہو کر ہم وہاں بیٹھ چکے تھے۔سرنگ کے اندر حبس کی وجہ سے برا حال ہو رہا تھا۔ نیچے سے زمین کوئلوں کی طرح دہک رہی تھی۔

شام تک ایک مال گاڑی وہاں سے گزری لیکن وہ بغیر رکے آگ ے بڑھ گئی۔شاید ڈرائیور ہمیں نہ دیکھ سکا۔ اب آہستہ آہستہ تاریکی پھیلنے لگی۔یہاں تک کہ ہمیں لاش بھی نظر نہ آرہی تھی۔

اچانک سرنگ کے اوپر سے پتھر کا ایک ٹکرا ڈھلک کے نیچے گرا۔ میں چوکنا ہو گیا۔شاید چیتا ہمیں چھپ کر بیٹھے دیکھ چکا تھا اور اب رینگ رینگ کر ہماری طرف بڑھ رہاتھا کہ دفعتہ جھٹ کر ہم میں سے کسی ایک کی گردن دبوچ لے۔اس نے یہ مرحلہ بھی انتہائی راز داری سے طے کرلیا۔ہمیں اس وقت نظر آیا جب وہ سامنے کی ٹانگیں آگے پھیلا کر اور پچھلے پنجے سخت زمین میں گاڑ کر ہماری طرف جھپٹنے کے لیے تیار ہو رہا تھا، وار کرنے سے پہلے وہ غرایا تاکہ ہم پر دہشت طاری ہو جائے۔علیم تو واقعی سراسیمہ ہو گیا اور دبک کر سرنگ کی دیوار سے جا لگا۔ میں اتنی دیر میں رائفل تان چکا تھا۔ جونہی چیتے نے اگلے پنجے زمین سے اٹھائے، میں نے اندھا دھند فائر کر دیا۔درندہ ایک لمحے کے لیے پیچھے کی طرف گر پڑا۔ اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا ،میں نشانہ لے کر دوسری بار ٹریگر دبا چکا تھا۔وہ ڈھیر ہوگیا۔ پیاری کا قاتل مارا جا چکا تھا لیکن پیاری اب واپس نہیں آسکتی تھی۔(جاری ہے)

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 51 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

آدم خور -