غلطی ہائے نظم و نثر!

غلطی ہائے نظم و نثر!
غلطی ہائے نظم و نثر!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

غلطی تو غلطی ہوتی ہے، چاہے ارادی ہو ،چاہے غیر ارادی، چاہے بے دھیانی میں ہو، سہل پسندی کی وجہ سے ہو، تحقیق کا مادہ نہ ہونے کے سبب ہو، علم کی زیادتی کی وجہ سے ہو یا جہالت کی وجہ سے۔

غلطی بہرحال غلطی ہے اور غلطی وہی پکڑ سکتا ہے جو مطالعے کے عمیق سمندر سے گہر ہائے مراد لانے کا خُوگر ہو، خود غلطی نہ کرنے یا ارادی طورپر نہ کرنے کا رَسیا ہو۔ مطالعہ، مطالعہ، مطالعہ اور محفلِ مُعلّماں سے صحیح معنوں میں فیض حاصل کرنے والا ہی غلط اور صحیح میں امتیاز کر سکتا ہے۔

یہ کہنے والے کہ ’’ناصر زیدی صاحب تو لوگوں کی غلطیاں ہی پکڑتے رہتے ہیں‘‘۔۔۔ بھئی میں محض غلطیاں پکڑتا نہیں، اُن کی اصلاح بھی کرتا ہوں کہ غلطی مستقل طور پر دنیائے ادب میں رائج نہ ہو جائے۔

کچھ ایسی ہی ادبی غلطیاں، غلط بخشیاں اور غلط گوئی و غلط نویسیوں کی طرف توجہ دلاتا ہوا، آج کے کالم کے ذریعے اپنے قارئین کے ساتھ رواں دواں ہوں۔ ملاحظہ فرمایئے۔


ماہنامہ ’’نیا زمانہ‘‘ لاہور کے شمارہ ستمبر 2005ء میں سرِ ورق کے اندرونی آرٹ پیپر پر ایک کارٹون کے نیچے، یہ مشہور زمانہ شعر بغیر شاعر کے نام کے اس طرح پڑھنے کو ملا:


اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا
ورنہ مَیں تیرا نہ تھا اور تو میرا نہیں تھا
پہلے مصرعے سے تو ہمیں کلام نہیں کہ اتفاق سے وہ تو درست ہے مگر دوسرا مصرع احمد فراز نے ہرگز متذکرہ شکل میں بے وزن نہیں کہا تھا، دوسرے مصرعے کے ساتھ جناب احمد فراز کا صحیح شعر دراصل یوں ہے:


اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا
ورنہ تو میرا نہیں تھا اَور میں تیرا نہ تھا


ماہنامہ ’’ادب لطیف‘‘ لاہور کے ایک پرانے شمارے جنوری 2010ء میں مطبوعہ محترمہ پروفیسر فرخ صابری کا ایک طویل تبصرہ ’’عالمی اُردو ادب کے منتخب افسانے مطبوعہ 2009ء مرتبہ نند کِشور و کرم پڑھنے کا اتفاق ہوا مضمون کے آخر میں محترمہ نے ایک بہت مشہور شعر بغیر شاعر کے نام کے اس طرح تحریر کیا!


یہ اَور بات ہے شرمندۂ تعبیر نہ ہوں
ورنہ ہر ذہن میں کچھ تاج محل ہوتے ہیں
متذکرہ شکل میں پہلے مصرعے کے غلط سلط ہونے سے پورے شعر کا ہی دھڑن تختہ ہو گیا ہے صحیح شعر در اصل یوں ہے!


یہ الگ بات کہ شرمندہ تعبیر نہ ہوں
ورنہ ہر ذہن میں کچھ تاج محل ہوتے ہیں
ہمارے ایک کرم فرما پروفیسر اسرار بخاری کبھی روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں ’’سرِ راہے‘‘ کا مقبول عام کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ ان دنوں وہ ’’سر رہگزر‘‘ کے عنوان سے ’’جنگ‘‘ میں روزانہ کالم لکھتے ہیں۔

ان کے انتخاب قلم میں سے اکثر و بیشتر غلطی ہائے اشعار، اور غلط بخشی شعر کی اکثر پکڑ دھکڑ ہوتی رہتی تھی۔ موجودہ کالم ’’سرِ رہگزر‘‘ مطبوعہ ’’جنگ‘‘ اتوار 22 اکتوبر 2017ء سے حوالہ دے رہا ہوں کہ پروفیسر صاحب نے غالب کا ایک مشہورِ زمانہ مقطع یوں تحریر کیا ہے:


جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی سے گلہ کرے کوئی
جب کہ ہر عہد پر غالب، میرزا اسداللہ خاں غالبؔ نے دوسرے مصرعے میں ’’کیوں‘‘ نہیں کہا تھا۔ ’’کیا‘‘ کہہ رکھا ہے۔ گویا صحیح شعر اس طرح ہے:


جب توقع ہی اُٹھ گئی غالبؔ
کیا کسی کا گِلہ کرے کوئی
ماہنامہ ’’حیات‘‘ نئی دہلی شمارہ مارچ 2001ء میں مدیر شمیم حنفی کے قلم سے مضمون اے موجِ حوادث کے عنون سے مضمون میں ایک مشہور زمانہ شعر اس طرح درج ہے:


اے موجِ حوادث ان کو بھی دو چار تھپیڑے ہلکے سے
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارا کرتے ہیں
جبکہ معین احسن جذبی کی غزل کا یہ بہت ہی مشہور شعر درست یوں ہے:
اے موجِ بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارا کرتے ہیں
اسی غزل کا ایک اور مشہور شعر ملاحظہ ہو۔


اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اُتارا کرتے ہیں
پروفیسر امجد علی شاکر کی خاکوں کی نئی کتاب ’’مکتب‘‘ کے نام سے زیر نظر ہے۔ جیلانی کامران کے خاکے میں ایک مشہور زمانہ شعر اقبال کے نام سے منسوب یوں نظر سے گزرا:


نکل جاتی ہے سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
فقیہہ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا
جبکہ یہ شعر ہرگز حضرت علامہ کا نہیں بلکہ مولانا ظفر علی خاں کا ہے۔۔۔ مولانا کی اس نظم کے دو تین شعر اس طرح ہیں:
اگر دیں سے تمسخر کرنیوالے ہی مہذب ہیں
تو ان تہذیب کے پتلوں سے مجھ جیسا گنوار اچھا
حسینانِ فرنگ اچھے ہیں لیکن آفتِ جاں ہیں
نہ رکھنا ان سے بیر اچھا نہ کرنا ان سے پیار اچھا
مری روزی نہ کی قرق اس نے میری سرکشی پر بھی
خدا وندان لندن سے مرا پروردگار اچھا
نکل جاتی ہے سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
فقیہہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا
پی ٹی وی ’’نیوز‘‘ سے ایک مذاکرہ بعنوان ’’غیر مسلموں کے حقوق اور قائد اعظم‘‘ 13 اگست 2017ء کی شام پونے سات بجے دیکھنے، سننے کا اتفاق ہوا ، شرکائے گفتگو ڈاکٹر رمیش کمار (اقلیتی ایم این اے) اور سابق ایم این اے اور وفاقی وزیر بہبود آبادی جے سالک بھی تھے۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے انکشاف کیا کہ جوگندر ناتھ نامی ایک شاعر تھا جو کشمیر کمیٹی کا ممبر بھی تھا اسے قائد اعظم نے خود کہا کہ پاکستان کا قومی ترانہ لکھو!‘‘۔۔۔

اس سے قطع نظر کہ قائد اعظم نے کسی شاعر سے کبھی ترانہ لکھنے کو براہ راست نہیں کہا البتہ غلط طور پر مشہور جو بات ہے وہ جگن ناتھ آزاد سے منسوب ہے نہ کسی جوگندر ناتھ سے وہ تو جوگندر ناتھ منڈل اور شخصیت تھے جو وزیر بھی رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -