بھارت کے غاصبانہ تسلط کے خاتمے تک جدوجہد آزادی جاری رہے گئی

بھارت کے غاصبانہ تسلط کے خاتمے تک جدوجہد آزادی جاری رہے گئی

  

سری نگر(کے پی آئی)ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف ،پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت دنیا بھر میں کشمیری عوام کا یوم حق خودارادیت منگل کو انتہائی جوش و خروش سے اس تجدید عہد کے ساتھ منایا گیا کہ جب تک مقبوضہ کشمیر بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزاد ی حاصل نہیں کر لیتا ہماری پرامن خود رو پودوں کی طرح اگنے والی جہد مسلسل جاری رہے گی یوم حق خود ارادیت کے موقع پر جلسئے جلوس ریلیاں ،احتجاجی مظاہر ے ہوئے ۔ آزادکشمیر کے تمام ضلعی تحصیل سٹی مقاما ت پر اجتماعات کا انعقاد کیا گیاجبکہ مرکزی اجتماع سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام منعقدہوا جس سے سیاسی مذہبی جماعتوں اور حریت کانفرنس سمیت تمام مکاتب فکر کے زعماوں نے خطاب کیابعد ازاں اولڈ سیکرٹریٹ سے اقوام متحدہ کے مشن دفتر تک شرکا پیدل مارچ کرتے ہوئے ریلی کی شکل میں سیکرٹری جنرل بان کی مون کے نام احتجاجی میمورنڈم پیش کیا جس کا مقصد کشمیر میں بھارتی مظالم پر اقوام عالم کی توجہ مبذول کروانا ہو گی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے فوجی منصر مشن کے سامنے مظاہرہ کیا گیا ادھر سری نگر میں کشمیر تحریک خواتین کی سر براہ زمردہ حبیب کی قیادت میں پریس کالونی میں ایک پر امن احتجاج کیا گیا ۔ احتجاج میں شریک خواتین ہم کیا چاہتے آزادی اور جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے کے نعرے بلند کر رہی تھیں۔

اس موقعہ پر زمردہ حبیب نے بتایا5 جنوری کشمیر کے حق خودارادیت کے طور یاد کیا جارہا ہے ، اسی دن1947 کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایک قراداد کے تحت یہ طے پایا گیا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دی جائے گی اور رائے شماری کے ذریعے کشمیری لوگ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور سیاسی شعبدہ بازی کی وجہ سے کشمیر 68 سال گزرنے کے باوجود بھی بھارت کے قبضے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف اپنے کئے ہوئے وعدوں سے مکر رہا ہے بلکہ یہاں کے لوگوں کو جو حق خوددارادیت کی بات کرتے ہیں ،انہیں اذیت کا نشانہ بنا رہا ہے۔زمردہ حبیب نے کہا آج ہم یو این او کے سیکریٹری جنرل اور سکیورٹی کونسل کے ان ممبران، جو حق خود ارادیت کے مسودے کے شاہد ہیں اور تمام ممبران سے اپیل کرتے ہیں کہ کشمیر کے دیرینہ مسئلے کو حل کروانے میں ہماری مدد کریں۔

مزید :

عالمی منظر -