برطانوی شہر ی شام نہ جائیں ، مسلمان علماءکی اپیل

برطانوی شہر ی شام نہ جائیں ، مسلمان علماءکی اپیل

  

                                               لندن (بیوررپورٹ)برطانوی مساجد کے سنی اور شیعہ مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد آئمہ کرام نے ایک خط کے ذریعے برطانوی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جہادی سرگرمیوں میں شرکت کے خیال سے شام یا عراق جانے سے باز رہیں۔ جاری کیے جانے والے اس کھلے خط میں برطانیہ کی مسلمان کمیونٹیز سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ شام کے بحران اور عراق کے واقعات سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے اپنی حمایت اور امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسا کرنے کے لیے انھیں شام جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ برطانیہ میں رہتے ہوئے بھی زیادہ محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے امدادی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ 500 برطانوی مسلمان شام میں جاری خانہ جنگی کا حصہ بن چکے ہیں۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ برطانوی شہری جو شام میں بشارالاسد کی فوج کے خلاف جہاد میں شامل ہیں، جب جنگ لڑنے کے بعد واپس گھر کا رخ کریں گے تو یہ نوجوان پرتشدد کارروائیوں کے مرتکب ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے مغرب کو دہشت گردی کا طویل مدتی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔دوسری جانب امریکہ کی جانب سے خطرے کی انتباہ کے بعد برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور امریکہ کے لیے براہ راست پروازوں کے سلسلے میں ہوائی اڈوں پر مزید سختی کی جارہی ہے۔مغربی سکیورٹی حکام کی جانب سے ظاہر کئے جانے والے اندیشوں کے مطابق شام اور یمن میں القاعدہ کے کارکنوں نے ایسے بم تیار کئے ہیں جنھیں طیاروں میں اسمگل کیا جاسکتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ایوی ایشن دہشت گردوں کا بدستور سب سے پسندیدہ ٹارگٹ ہے۔سکیورٹی پر مامور افسران کا کہنا ہے کہ حال ہی میں عراق اور بحیرہ روم کے میدان جنگ میں کامیابیوں اور امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے جہادیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مغربی ممالک کے ایسے شہریوں کے لیے صرف ایک پرواز کے ذریعے امریکی شہروں تک آسان رسائی موجود ہے۔قاری محمد عاصم، جن کا تعلق لیڈز کی جامع مسجد سے ہے۔

 کا کہنا ہے کہ اب جبکہ رمضان کریم کا پہلا ہفتہ اختتام پذیر ہونے جارہا ہے۔ اس بابرکت مہینے میں برطانیہ کی مسلم کمیونٹیز سے ہماری یہ استدعا ہے کہ وہ فرقہ ورانہ تقسیم یا سماجی اختلاف کی کسی بھی شکل کا شکار نہ ہوں۔جبکہ برطانوی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ شامی صدر بشار الاسد کو شکست دینے کے لئے ایک لاکھ اعلیٰ تربیت یافتہ باغیوں کی فوج تیار کرنا چاہتا تھا برطانوی میڈیا کے مطابق شامی باغیوں کو جدید اسلحہ سے مزین کرنے اور انہیں تربیت فراہم کرنے کا مسودہ 2 سال قبل اس وقت کے برطانوی وزیر دفاع جنرل ڈیوڈ رچرڈ نے پیش کیا تھا برطانوی وزیر دفاع کی جانب سے بھیجے گئے خفیہ مسودے کا وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور قومی سلامتی کونسل کے علاوہ امریکی حکام نے بھی جائزہ لیا تھا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسودے میں شامی باغیوں کو ترکی اور اردن میں تربیت فراہم کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع کی جانب سے اس حوالے سے کسی بھی قسم کا بیان جاری کرنے سے گریز کیا گیا ہے واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر براک اوباما نے بھی شامی باغیوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے کے لئے کانگریس سے 500 ملین ڈالر منظور کرنے کا مطالبہ کیا تھاشام میں گزشتہ 3 سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں جب کہ لاکھوں افراد اپنے ہی ملک یا بیرون ملک پناہ لے چکے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -