برہان مظفر وانی کی شہادت مظلوم کشمیریوں کے لئے پیام نجات(1)

برہان مظفر وانی کی شہادت مظلوم کشمیریوں کے لئے پیام نجات(1)
 برہان مظفر وانی کی شہادت مظلوم کشمیریوں کے لئے پیام نجات(1)

  



بھارت دُنیا کا واحد مُلک ہے جو سر کاری سطح پردہشت گردی کوفروغ دیتا،پروان چڑھاتا، دہشت گردتیار کرتا اوراپنے پڑوسی ممالک میں ایکسپورٹ کرتا ہے دوسری طرف بھارتی حکمرانوں کی ڈھٹائی اور بے شرمی کی انتہا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو دہشت گرد قراردیتے ہیں،حالانکہ مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری جدوجہددہشت گردی نہیں،بلکہ۔۔۔آزادی کی تحریک ہے یہاں تک کہ اہلِ کشمیر کا آزادی کا حق جواہر لال نہرو نے بھی تسلیم کیا تھااور یو این او نے بھی تسلیم کر رکھا ہے ۔چنانچہ اہل کشمیر نے حق خودارادیت تسلیم کروانے کے لئے ہر شریفانہ کوشش کرڈالی، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہا۔ سو۔۔۔اہلِ کشمیر نے ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے1988ء میں مسلح جدوجہدکا آغاز کیا ۔بھارت اس تحریک کو دبانے اورکچلنے کے لئے ہر حربہ و ہتھکنڈہ استعمال کرچکا ہے۔ بھارتی مظالم کا اندازہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی درج ذیل رپورٹ سے کیا جا سکتا ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ ’’مقبوضہ جموں کشمیر میں روا رکھے جانے والے بھارتی مظالم کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔بیٹوں کو ماؤں بہنوں کے سامنے ننگا کرکے ماراجاتا ،ان کے جسموں پر کھولتا ہوا پانی ڈال دیا جاتاہے، جس سے ان کی کھال اُتر جاتی ہے۔ بعدازاں ان کے زخموں پر مرچیں چھڑک دی جاتی ہیں،جس سے وہ تڑپ تڑپ اور سسک سسک کر موت کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں‘‘۔2007ء میں ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ’’مقبوضہ جموں کشمیر میں گرفتار شدہ افراد پر وحشیانہ تشدد کے علاوہ ان کی خوراک اور پانی بند کردیاجاتا ہے،انہیں سونے نہیں دیا جاتا،بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے اورجسموں میں سوراخ کردیئے جاتے ہیں‘‘۔مقبوضہ جموں کشمیر کے سرکاری انسانی حقوق کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ ایم وائی نے اپنی رپورٹ میں صورتِ حال کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ’’مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی میں انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں،ہزاروں ماؤں کی گود اجڑ چکی،لاتعداد بچے یتیم و معذور ہوچکے اورہزاروں معصوم نوجوانوں کی لاشوں سے قبرستان آباد ہو چکے ہیں‘‘۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بھارتی فوج کے مظالم تحریک آزادی کو تیز دم کر رہے،تازہ ایندھن اورگرم خون مہیا کر رہے اور تحریک آزادی کشمیر کمزور ہونے کی بجائے مضبوط ہورہی ہے۔جب ایک نوجوان بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے تو کئی نوجوان اسلحہ تھام کر انتقام لینے کے لئے میدان میں آجاتے ہیں۔ اس کی تائید ہیومن رائٹس واچ کی عہدیدار پیٹر یشیا نے بھی وائس آف امریکہ کو انٹریو دیتے ہوئے کی تھی۔اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک رپورٹ سے بھی اس کی تایئد ہوتی ہے۔بی بی سی کے مطابق ایک انڈین فوجی نے اپنی ڈائری میں ایک واقعہ لکھا ’’بھارتی میڈیا اور بھارتی حکمران کہتے ہیں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہے، مگر ایسا نہیں ہم جموں کشمیر میں جنہیں مارہے ہیں وہ بے گناہ لوگ ہیں باقی رہے ہم فوجی ہم تو حکم کی تعمیل پر مجبور ہیں ہمیں جو کہا جاتا اور تربیت میں سکھایا جاتاہے ہم وہ کرتے ہیں‘‘۔مئی 2006ء میں بھارتی مصنفہ ارون دتی رائے نے کہا تھا ’’مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج نے صورتِ حال کو ابتر بنا رکھا ہے بھارتی معاشرہ نازیوں جیسا ہے اورمقبوضہ جموں کشمیر سے بھارتی فوج کے انخلا تک امن ممکن نہیں‘‘۔حقِ خودارادیت کے وعدوں کو ایفا نہ کرنے اور بھارتی فوج کے اس طرح کے بے پناہ مظالم نے کشمیری نوجوانوں کو اسلحہ اٹھانے ،مسلح تحریک چلانے،مرنے اورمارنے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ مجاہدین کی کاروائیاں صرف بھارتی افواج تک محدود ہیں اس بات کا اعتراف مقبوضہ جموں کشمیر کے سیکرٹری داخلہ تلک راج کاکڑ نے ان الفاظ میں کیا تھا ’’مجاہدین کسی سیاح یا بے گناہ شہری کو نشانہ نہیں بناتے،بلکہ ان کا ہدف صرف اور صرف بھارتی فوج اور چند بھارت نواز سیاست دان ہیں۔اگر مجاہدین بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنائیں تو یقینی بات ہے کہ ان کے کاز کو نقصان پہنچے گا‘‘۔

یہ مقبوضہ جموں کشمیر کے زمینی حقائق ہیں جہاں تک بھارتی حکمرانوں کا تعلق ہے ان کا رویہ اس سے مختلف ہے وہ کبھی اہلِ کشمیر کی تحریک آزادی کا الزام پاکستان کے سر تھوپتے ہیں،کبھی کہتے ہیں وادی میں مسلح تحریک دم توڑچکی ہے،کبھی کہتے ہیں ہم نے دراندازی کے تمام راستے بند کردیئے ہیں ،کبھی فوج کے انخلا کا ڈرامہ کرتے اور کبھی کہتے ہیں دراندازی جاری ہے‘‘۔اس ضمن میں مختلف اوقات میں بھارتی فوج کے مختلف ذمہ داران کے بیانات اگر اکٹھے کئے جائیں تو نہایت ہی مضحکہ خیز صورتِ حال بنتی ہے۔بہرحال بھارتی فوج کے جرنیلوں کے بیانات جو بھی ہوں امر واقعہ یہ ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی گلے کی ایسی ہڈی بن چکی ہے جسے بھارت نگل سکتا ہے اور نہ اگل سکتا ہے، جس کی تازہ مثال ابوالقاسم اوربرہان مظفر وانی کی شہادت اور اس کے بعد کی پیدا شدہ صورتِ حال ہے۔

آیئے دیکھتے ہیں وادی کشمیر کا یہ بہادر و دلیر سپوت برہان وانی کون تھا اس نے میدان جہاد میں کب اور کیوں قدم رکھا۔۔۔؟ مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال کے گاؤں داد سارامیں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ متوسط گھرانے میں برہان نے آنکھ کھولی۔شہیدکے والد مظفر وانی گورنمنٹ سیکنڈری اسکول لوری گرام ترال کے ہیڈماسٹراورحساب کے استادہیں۔والدہ میمونہ ظفر سائنس گریجوایٹ اوراتوارکے روزگاؤں کی خواتین کو قرآن پڑھاتی ہیں۔ان دونوں کے چار بچے تھے ۔بڑا بیٹا خالد مظفر وانی ایم کام تھا۔ چھوٹا بیٹا برہان وانی میٹرک میں تھا۔18سالہ بہن ارم مظفروانی انٹرکی طالبہ اور 16سالہ چھوٹابھائی نویدعالم وانی میٹرک کاطالب علم ہے۔ترال گاؤں کے لوگ بتاتے ہیں کہ اب سے چھ برس پہلے 2010ء کے کسی ایک دن دو نوں بھائی خالد مظفر ، برہان مظفر اور ان کا ایک دوست موٹرسائیکل پر جا رہے تھے کہ پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے انہیں بلاوجہ روکا تلاشی کا مطالبہ کیا تینوں نے نہایت ہی خاموشی اور شرافت سے تلاشی دی، لیکن پولیس اہلکاروں نے ان کی خاموشی کو بزدلی سمجھتے ہوئے پیٹنا شروع کردیا۔ ناز و نعم میں پلا خالد بے ہوش ہوگیا، جبکہ برہان اور اس کا دوست وہاں سے فرار ہو گئے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم