حکام بتائیں پٹرولیم پر ٹیکس میں کتنی کمی ممکن ؟ بیماریوں کو سستے سٹنٹ چاہئیں : چیف جسٹس

حکام بتائیں پٹرولیم پر ٹیکس میں کتنی کمی ممکن ؟ بیماریوں کو سستے سٹنٹ چاہئیں ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) تمام اسٹیک ہولڈرز جائزہ لے کر بتائیں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کتنے کم ہوسکتے ہیں، اتوار تک ہوم ورک مکمل کرکے تشریف لائیں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پرجواز دینا ہوگا، میں توایک لاکھ روپے میں سٹنٹ کی خوشخبری دے چکاتھا،بیمارلوگوں کوسستے سٹنٹ کاتحفہ ملناچاہئے ، متعدد کیسوں میں دوران سماعت چیف جسٹس کے ریمارکس، سپریم کورٹ کا موبائل فون کارڈز اور لوڈ پر ٹیکسزتاحکم ثانی معطل رکھنے کا حکم،خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز کا معاملہ بھی 15 دن میں حل کرنے کی ہدایت۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو گزشتہ تین ماہ کا بریک اپ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز جائزہ لے کر بتائیں کی ٹیکسز کتنے کم ہوسکتے ہیں۔ اتوار تک ہوم ورک مکمل کرکے تشریف لائیں، تمام سٹیک ہولڈرز سوچیں کہ نقصان کے بغیر قیمت کتنی کم ہوسکتی ہے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمارے نوٹس لینے کے بعد سات روپے پیٹرول کی قیمت کیوں بڑھا دی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بین الاقوامی منڈی میں قیمت بڑھنے پر مجبوراً قیمت بڑھائی پڑی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اپنا خسارہ پورا کرنے کے لئے سیلز ٹیکس کسی اور چیز پر لگائیں پیٹرول زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ آپ نے اسے لوگوں کی پہنچ سے باہر کردیا مختلف قسم کے ٹیکس لگانا غیر منصفانہ ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے مزید کہا ہے کہ قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں اس کا جواز دینا ہوگا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیل پرائس اور لینڈڈ پرائس میں بہت فرق ہے جب کہ چیف جسٹس نے کہا کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے، کبھی سیلز ٹیکس بڑھا دیتے ہیں اور کبھی کسٹم ڈیوٹی، یہ کس بات کی ہیں، ہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ماہرین کی رائے چاہتے ہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ سب سے بنیادی چیز ڈیزل کی قیمت پر پندرہ روپے اضافہ کیا گیا جو ظلم ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے دل کے سٹنٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریماکس دیئے کہ میں توایک لاکھ روپے میں سٹنٹ کی خوشخبری دے چکاتھا، بیمارلوگوں کوسستے سٹنٹ کاتحفہ ملناچاہئے، لگتا ہے ہم وہیں کھڑے ہیں،آگے نہیں بڑھے۔ کون لوگ ذمہ دارہیں جن کی وجہ سے عمل نہیں ہوا؟اور وزیرآبادمیں کارڈیالوجی ہسپتال فعال کیوں نہیں ہوا؟ڈاکٹراظہرکیانی نے عدالت میں موقف اپنا یا کہ ڈالرکی قیمت بڑھنے سے معاملات میں مسائل آئے،سٹنٹ کوڈالرکی قیمت سے منسلک کردیا گیا ۔جس پر چیف جسٹس بولے کہ بتایاگیاتھاسٹنٹ 60 ہزار سے ایک لاکھ میں ڈالاجائیگا،میں توایک لاکھ روپے میں سٹنٹ کی خوشخبری دے چکاتھا۔ دریں اثناسپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈز اور لوڈ پر بھاری ٹیکسز کو تاحکم ثانی معطل رکھنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے موبائل کارڈز پر ٹیکس صرف 10 دن کے لیے معطل نہیں کیا تھا،عدالتی حکم کی روشنی میں شہریوں کو 100 روپے کے ری چارج پر 100 روپے بیلنس ہی ملتے رہیں گے۔ عدالت نے حکم دیا کہ موبائل کارڈز پر ٹیکس تاحکم ثانی معطل رہے گا۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز کا معاملہ 15 دن میں حل کرنے کا حکم دے دیا‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ توقع تھی آج سب کو شناختی کارڈز جاری ہوچکے ہوں گے‘ سپریم کورٹ کا حکم صرف پنجاب کی حد تک نہیں تھا۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ جاری ہونا شروع ہوئے؟ چیئرمین نادرا نے بتایا کہ اب تک نوے فیصد شناختی کارڈز جاری ہوچکے ہیں موبائل رجسٹریشن یونٹس کو فعال کیا گیا ہے۔ نادرا حکام نے بتایا کہ چاروں صوبوں کی نمائندہ میٹنگ رواں ماہ ہوگی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس(ر) عارف کو کمیٹی کا سربراہ بنائیں۔ خواجہ سراؤں کے لئے میڈیکل سرٹیفکیٹ لینے سے منع کیا تھا۔ چیئرمین نادرا نے بتایا کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ لینا نادرا پالیسی میں شامل نہیں۔ الماس بوبی نے بتایا کہ ہمیں کسی میٹنگ میں نہیں بلایا جاتا۔ چیف جسٹس نے کہا انسانی حقوق کی بنیاد پر معاملے

مزید :

صفحہ اول -