دینی نصاب اور عقلی دلیل

دینی نصاب اور عقلی دلیل
 دینی نصاب اور عقلی دلیل

  

پانچویں صدی کے اوائل میں بغداد میں ایک نابغہ روزگار مدرس امام موافق کا دینی مدرسہ کئی صدیوں تک شہرت حاصل کرنے والا تھا اس بات کی آگاہی تب شاید امام موافق کو بھی نہ ہوگی کہ اس کے دینی مدرسے میں زیر تعلیم تین ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے محیرالعقول کارناموں سے رہتی دنیا تک ان کو بھلایا نہ جاسکے گا۔ان تینوں ہم عمر ہم مکتب نوجوانوں میں ایک کا نام حسن بن صباح دوسرے کا عمر خیام اور تیسرا حسن علی تھا ۔

تاریخ کا ملعون کردار شداد تو اپنی بنائی ہوئی جنت میں داخل نہ ہو سکا لیکن فدائی حملوں کا بانی حسن بن صباح 35 سال تک قلعتہ الموت میں بنائی اپنی جنت میں رہا جہاں وہ فدائی حملوں کے لیے جان دینے والے نوجوان تیار کرتا وہ 90برس زندہ رہا اور اپنی طبعی موت مرا اس گمراہ انسان نے اپنی زندگی میں متعدد بادشاہوں ،وزیروں،عالموں اور نامور لوگوں کو فدائی حملوں سے موت کے گھاٹ اتارا اور کوئی بھی حکومت اس کے قلعتہ الموت میں داخل نہ ہوسکی حتی کہ اپنے ہم مکتب اور دوست حسن نظام الملک طوسی کو بھی اس نے فدائی حملے سے قتل کروا دیا تھا۔

عمر خیام آج بھی بہترین شاعر،علم دان اور محقق کے طور پر علمی کتابوں میں زندہ ہے۔انہی کا تیسرا ساتھی بعد میں سلجوقی مسلم سلطنت کے بادشاہ الپ ارسلان کا وزیر اور اس کے بیٹے ملک شاہ کا اتالیق اور وزیر اعظم رہا ۔

پوری دنیا میں بادشاہوں کوبادشاہی سکھانے کے لیے تین کتابوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے جن میں نکولو میکاولی کی دی پرنس،کوتلہ چانکیہ کی تصنیف ارتھ شاستر اور نظام الملک طوسی کی سیاست نامہ شامل ہے ان تینوں کتابوں کے یورپ کی مختلف زبانوں میں بھی تراجم ہو چکے ہیں ۔یہ وہی حسن نظام الملک طوسی ہیں جو حسن بن صباح اور عمر خیام کے دوست اور ہم مکتب تھے تینوں ایک ہی استاد کے شاگرد تھے ۔

دو دنیا بھر میں اپنے علم اور لازوال کارناموں سے آج بھی مشہور ہیں جبکہ تیسرا ساتھی آج بھی خودکش حملوں کا جد امجد سمجھا جاتا ہے ۔حسن نظام الملک طوسی نے جہاں اپنی ذہانت ،فطانت سے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے وہیں اس نے مسلمانوں کے مذہبی علوم کی حفاظت اور آبیاری کے لیے بہت بڑی دولت خرچ کر کے ،مدرسہ نظامیہ، کی بنیاد بھی رکھی آج ایک ہزار سال گزرنے کے بعد بھی ،درس نظامیہ، کے حامل کو ہی مذہبی عالم تصور کیا جاتا ہے ۔

زیر نظر مضمون لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آگئی کہ گزشتہ سنڈے میگزین میں ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور اوقاف محترم ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کا ایک انٹر ویو شایع ہوا ہے جس میں نظام الملک طوسی کے ساتھ ملانظام الدین سہالوی کو درس نظامی کا بانی قرار دیا گیا ہے ملا نظام الدین سہالوی اتر پردیش کے گاوں سہالی میں 1088 ہجری میں پیدا ہوئے ۱ور 1161 ھ ان کا سال وفات بتایا جاتا ہے ۔

بارہویں صدی کے بعد لکھنو کافرنگی محل ان کا مرکز تھا جس دوران انہوں نے درس نظامی کے نصاب سے طبع آزمائی کی ۔حسن نظام الملک طوسی 408 ھ میں پیدا ہوئے تھے اپنی وزارت عظمی کے دوران بغداد میں انہوں نے دیگر مسلم ممالک کے ہم پلہ ،مدرسہ نظامیہ ، کی جب بنیاد رکھی تب اس وقت کی دنیا میں مصر کے جامعہ ازہر، اصفہان کے مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ،نشیا پور کے مدرسہ ابو اسحاق الا سفرائینی کا ڈنکا بج رہاتھا ۔

محترم ڈاکٹر طاہر رضا بخاری ایک قد آور مذہبی محقق ہیں اور ان سے منسوب کوئی بھی بات سند کا درجہ رکھتی ہے یہ غالب امکان ہے کہ ملا نظام الدین سہالوی کو، درس نظامی ،کا بانی قرار دینا ان کی ذاتی رائے نہیں ہو سکتی وہ کسی چھپے مواد سے ٹرانسفر ہوئی ہوگی ۔

کسی بھی چھپی ہوئی تحریر کو تحقیق کا فوری مقام حاصل نہیں ہوسکتا اسی لیے وہ فرما گئے کہ دینی مدارس کے حقیقی بانی کا تعین مشکل مسئلہ ہے ۔مسلم ممالک کے جن دینی مدارس کا اوپر ذکر ہوچکا ہے ان سب کا سلسلہ رسالت مابؐ سے جا کر ملتا ہے ۔

علم حاصل کرنے کے تین ذرائع ہیں پہلا حواس خمسہ یعنی سننا،دیکھنا،چھونا،سونگھنااور چکھنا ،دوسرا ذریعہ عقل اور تیسرا ذریعہ وحی ہے پہلے دو ذرائع سے غلطی کا امکان ممکن ہے لیکن تیسرے ذریعہ میں غلطی کا تصور ہی نہیں ہے کیونکہ وحی خالق کائنات سے انبیاء تک پہنچی اور اسی سے قرآن و حدیث اور سنت معرض وجود میں آئے اور انہی علوم پر مبنی کتابیں دینی مدرسوں کا نصاب قرار پائیں لہذا وحی کے علم کو چھوڑ کر عصری علوم کی کتابیں دینی مدرسوں میں داخل کرنے کو نئی جہت یا نئی بنیاد قرار دینا درست نہیں بلکہ دینی نصاب میں تحریف کے مترادف ہے ۔

دینی مدرسوں کی تعلیم کا بنیادی مقصد علوم قرآن وسنت کی ترویج ،اشاعت اور حفاظت کرنا ہے تاکہ امت محمدیہ کا ہر فرد اپنی اخروی زندگی میں بھی کامیابی حاصل کر سکے ۔

مدارس میں پڑھائے جانے والے دینی علوم میں حفظ القران ،علم تجوید،علم تفسیر،علم اصول تفسیر،علم حدیث،علم اصول حدیث،علم فقہ،علم اصول فقہ،علم میراث،علم عقاید،علم نحو،علم صرف ،علم بلاغت اور علم نافع وغیرہ شامل ہیں جبکہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں عصری علوم کی تعلیم دی جاتی ہے جن کا نصاب زمانے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے لیکن قرآن و حدیث میں تبدیلی صرف کسی اور زبان میں ترجمے کی حد تک ہی کی جاسکتی ہے ۔

درس نظامی کو اس کے رائج نصاب تعلیم کے ساتھ ہی چلنا چاہیے تھا یعنی علوم قرآن و حدیث اورسنت کو ہی بنیادی اور لازمی مضامین کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے تھا کیونکہ قرآن و حدیث کی مستند کتابیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں ۔

عصری نظام تعلیم میں جس طرح میڈ یکل میں انجینئرنگ نہیں پڑھائی جاسکتی اسی طرح دینی مدارس کے نصاب میں بھی عصری تعلیم کی کتابیں شامل نہیں کی جا سکتیں ۔

دینی مدرسے عصری کالجز اور یونیورسٹیوں کے ہم پلہ جس سٹیٹس کے خواہاں ہیں وہ سٹیٹس ان کو انہی کے قرآن وحدیث پر مبنی نصاب پر ہی مل جانا چاہیے تاکہ ان کا احساس کمتری ختم ہو کیونکہ دینی تعلیم بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے جتنی کہ دنیاوی تعلیم عصری تعلیم کے ہم پلہ ہونے کے لیے دینی نصاب میں دنیاوی نصاب شامل کرنا عقلی دلیل نہیں ہے۔

ملا نظام الدین سہالوی نے مدرسہ نظامیہ کی بنیاد کے 8 سو سال بعد مدرسہ نظامیہ کے نصاب میں دنیاوی علوم کا اضافہ کر کے اسے اصل مقصدیت سے ہٹا کر عصری علوم سے الجھایا ہے اگر درس نظامی کے رائج نصاب کو ہی پروان چڑھایا جاتا تو آج درس نظامی بھی مصر کے جامعہ ازہر کے ہم پلہ ہونا تھا اور درس نظامی کے طلباء بھی عصری تعلیم سے احساس محرومی کا شکار نہ ہوتے ۔

ملا نظام الدین سہالوی نے درس نظامی کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ عصری علوم پر مشتمل نیا نصاب تیار کر کے درس نظامی کے دینی نصاب میں ڈال دیااس سے قبل درس نظامی میں فقہ ،اصول فقہ،اور تفسیر کے 13 موضوعات کی 40 کتابیں پڑھائی جاتی تھیں اور ملا نظام الدین نے ان میں عصری علوم کی کتابوں ریاضی ،فلکیات،ہندسہ،(انجینئرنگ) طب ،منطق اور فلسفہ کا نصاب شامل کر کے درس نظامی کو عصری تعلیم کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا جس کے بعد تیرہویں صدی میں درس نظامی سے دارالعلوم دیو بند نے جنم لے لیا اور وقت کے ساتھ ساتھ درس نظامی کا اصل مقصد کہیں گم ہو کر رہ گیا پہلے ادوار میں جو چپقلش دینی مدرسوں اور خانقاہوں کے مابین تھی وہ اب دینی مدرسوں اور عصری کالجز ،یونیورسٹیوں کے درمیان آ کھڑی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -