شکار کا وقت اپنا اپنا ہے

شکار کا وقت اپنا اپنا ہے
شکار کا وقت اپنا اپنا ہے

  

میرے ہم نام اور پرائمری ومڈل سکول کے ہم جماعت دوست اپنی بہن کو معدہ کی خرابی کی دوا دِلوانے کے لئے گاؤں آئے ہوئے اپنے ایک عزیز ڈاکٹر کے پاس لے گئے جو بنیادی طور پردِل کا ڈاکٹر ہے۔ڈاکٹر نے مریضہ کامعائنہ کرنے کے بعد میرے دوست سے کہاکہ مریضہ کو باقاعدہ علاج کی ضرورت ہے۔ لہٰذا وہ اُسے لاہور میں ڈاکٹر کے کلینک پر لے آئے۔ میرے دوست نے سوچا کہ معدہ کی خرابی کوئی ایسا مرض نہیں،جس کے لئے وہ لاہور جا کر علاج کرائے۔ اس لئے وہ مریضہ کو ایک مقامی حکیم کے پاس لے گیا، جس نے دو دن کی دیسی دوائی دے کر بد پرہیزی سے اجتناب کی نصیحت کی۔ دوائی کو باقاعدہ کھانے اور مجوزہ پرہیز سے مریضہ دو دن میں ٹھیک ہو گئی۔ چند دن بعد اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر ڈاکٹر کے بارے میں ہولناک انکشافات ہوئے کہ وہ سادہ لوح لوگوں کو بہلاپھسلاکر اپنے کلینک پرلاہور لے جاتا اور ان کے گردے نکال لیتا۔میرا دوست خوش تھا کہ اس کی بہن کے گردے عزیز ڈاکٹر کی ہوس کا نشانہ بننے سے بچ گئے۔

یہ ڈاکٹر آج بھی آزاد اور پر تعیش زندگی کے مزے لے رہا ہے۔یہ بات نوشتہ دیوارہے کہ لالچ کا کوئی حدبنانہیں ہوتا۔ہرشخص شکاری ہے،مگر لازمی نہیں کہ اس کا طریقہئ شکار کسی مُسلَّم روایت پرقائم ہو۔ہر ایک کا فنِ شکار اور وقت ِ شکار اپنا اپناہے۔دامِ فریب میں لانے کے لئے کسی کو چند لمحے درکار ہوتے ہیں اور کچھ لمبی مدت کا انتظار کرتے ہیں۔ اپنے شکار پراپنی شرافت اور اعتمادکی دھاک بٹھاتے ہیں۔ جونہی شکار جال میں پھنستا ہے قابو پانے میں دیر نہیں لگاتے۔ 

دوست احباب سے غیر رسمی گفتگو کے دوران عموماً کہتے ہوئے سُنا گیا ہے کہ فلاں سے ایسی امید قطعاً نہیں تھی کہ اس عمر میں وہ یوں کرے گا۔یا پھر اس مرتبے پر ہوتے ہوئے وہ ایسی گھٹیا حرکت کا مرتکب ہو گا۔ ایسا ہم اس لئے سوچتے اورکہتے ہیں،کہ ہم نے اپنے ذہنوں میں لوگوں کے ایسے معیارات ومقامات بنا رکھے ہیں،جو صرف فرشتوں کے شایانِ شان ہیں۔

عام زندگی میں خواتین مردوں پر اُن کے مرتبہ،بزرگی،لباس اورچہرے سے ٹپکتی ظاہری دین داری اور شرافت، اعلیٰ تعلیم اورقریبی،خاندانی تعلق یا رشتہ داری کی وجہ سے اعتماد و اعتبار کھا جاتی ہیں، یہ جانے اور سمجھے بغیر کہ مردکے تمام رُوپوں میں کہیں نہ کہیں شکاری چُھپا ہوتا ہے جو مناسب وقت پر بغرضِ شکار ہاتھ بڑھا دیتا ہے۔ اسی لئے جب خواتین کے اعتماد کے نگینے ٹوٹتے ہیں تب اُن پر یہ آشکار ہوتا ہے کہ مرد ہر معتبر رُوپ میں بھی مرد ہے اور وہ کبھی اپنے ظاہری ارفع مقام سے گر سکتاہے۔اگردین کی ترویج کے اداروں پربلا مذہب یا فرقہ نظر دوڑائیں تو اچھی خاصی تعداد میں شکاری مل جاتے ہیں۔قباؤں اورعباؤں کے در پر دہ شکار کرنے والوں اور ہونے والوں کی خبریں ذرائع ابلاغ میں عموماًشہ سرخیوں کے ساتھ ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔

تربیت یافتہ، قد آور اور ہر دِل عزیز شکاری، میدانِ سیاست میں بھی بستے ہیں۔ انتخابات سے کچھ عرصہ قبل، اپنے کارندوں کو حلقہ میں ہونے والی اموات کی خبر رسانی پر مامور کرتے ہیں۔کارندے کی اطلاع پر ایسے گھروں میں بھی تعزیت کیلئے قدم رنجہ فرماتے ہیں جن کے باسیوں سے دیگر حالات میں ملنا تو درکنار شایدہاتھ ملانا بھی ناگوار گزرتا ہو۔ لیکن اُن کا دامن ِ فریب اتنامُنظّم اور مضبوط ہوتا ہے کہ اُن کے اُٹھ کر چلے جانے کے بعد متعلقہ گھرانے کے لوگ اُن کی ”عاجزی، شرافت اور ملنساری“ بیان کرنے میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کے درپَے ہوتے ہیں۔ گویا وہ سب کے سب شکار ہو  چکے ہوتے ہیں۔

سرگودھا میں قیام کے دوران میں اپنے گھر کی طرف جانے والی گلی میں سائیکل پر سوار داخل ہوا تو میرے آگے آگے ایک تانگہ جارہا تھا۔تانگہ کی پچھلی نشست پر چودہ، پندرہ سالہ طالبہ اکیلے بیٹھی تھی۔ گلی میں یکدم داخل ہونے کی وجّہ سے تانگہ بان کو میرے پیچھے ہونے کا پتہ نہ چلا اور وہ اتنی آواز میں جو میرے کانوں پر ٹھیک سے پڑ رہی تھی،طالبہ سے کہہ رہا تھا، اتنا عرصہ سے میں تمہیں گھر سے سکول اور سکول سے گھر چھوڑ رہا ہوں۔ تمہاری وجہ سے میں نے اور بچیاں اپنے تانگہ پر بٹھانا بھی چھوڑدی ہیں،مگر تم ہوکہ ”میرااتناساکام“بھی نہیں کر رہی۔تانگہ بان اِسی طرح کی دیگر باتیں کرتا جارہاتھااوربچی،غالباًشرم کے مارے،سرجھکائے بیٹھی تھی۔ میں نے سائیکل روک لی اور تانگہ بان پر نظر رکھی کہ وہ کس گھر کے آگے رُک کر بچی کو اتارتا ہے۔ بالآخر ایک گھر کے سامنے تانگہ رُکا،بچی اُتری اور بھاگتی ہوئی گھر میں داخل ہوگئی۔ رات کو گھر میں بیٹھ کر میں نے ایک خط لکھا، جس میں بچی کے شکار ہو جانے کے ممکنہ خطرہ کوصاحب ِ خانہ کے علم میں لانے کی جسارت کی تاکہ وہ بچی کو تانگہ بان کے جال سے دور رکھ سکیں۔ میں نے وہ خط اسی رات اُس گھر کے دروازہ کے اُوپر سے پھینکا اور سائیکل پر بھاگ کھڑا ہوا۔ مجھے خوشی ہوئی، اُس کے بعد وہ تانگہ بان کبھی اُس گلی میں نظر نہ آیا۔ ایسے کتنے شکاری گلی گوچوں میں، بازاروں میں، پڑوس میں اور تفریحی مقامات پر دامِ فریب بچھائے، شکار کے منتظر ہوتے ہیں۔

گفتگو کا مطلب یہ قطعاً نہیں ہے کہ لوگوں پر اعتمادیا اعتبار نہ کیا جائے۔بھلے گردے نکالنے والا ڈاکٹر ہو، میدانِ سیاست کا پرندہ ہو، بچیوں کو سکول چھوڑنے والا تانگہ بان ہویاکوئی بھی اورکسی بھی نسل کا شکاری ہو،اعتماد اور اعتبار کرتے وقت اپنی حد کاتعین کرلینا اشدضروری ہے۔ایسا نہ کرنے سے جتنا شکاری قصور وارہوتا ہے اُتنا ہی ”شکار“ ذمہ دار ہے۔تبھی تو شاعر نے کہا ہے۔    ؎

جو کوئی اپنی حد میں رہے گا

پورے قدو قد میں رہے گا

مزید :

رائے -کالم -