بین الاقوامی سطح پر ٹیکسٹائل مصنوعات کو فروغ دینا چاہئے: راناتنویرحسین

بین الاقوامی سطح پر ٹیکسٹائل مصنوعات کو فروغ دینا چاہئے: راناتنویرحسین

فیصل آباد (آئی این پی)وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے کہاہے کہ جدید خطوط پر استوار تحقیقی اور تخلیقی نظام ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت کیلئے لازم ہے ،اس مقصد کے لئے دنیا کی ترقی کرتی ہوئی اقتصادی ریاستوں مثلا چین، سنگا پور، بھارت اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو بھی بین الاقوامی سطح پر اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات کو فروغ دینا چاہئے، موجوہ حکومت وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں قوم کو اقتصادی ترقی کی راہوں پر گامزن کر نے کیلئے پر عزم ہے ۔ وہ پیر کو یہاں نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے ۔ٹیکسٹائل انڈسٹری ویلیو ایڈیشن کے چیلنجز اور مواقع کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ کا انعقاد پاکستان کونسل برائے سانئس اور ٹیکنالوجی اور نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ وفاقی وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید خطوط پر استوار تحقیقی اور تخلیقی نظام ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت کیلئے لازم ہے اس مقصد کے لئے دنیا کی ترقی کرتی ہوئی اقتصادی ریاستوں مثلا چین، سنگا پور، بھارت اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو بھی بین الاقوامی سطح پر اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات کو فروغ دینا چاہئے۔

انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنے علم و تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اس ضمن میں بھر پور حصہ لیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا میں کپاس کی پیداوار میں چوتھے جبکہ ٹیکسٹائل کی بر آمدات میں دسویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کی اقتصادیات بڑی حد تک اس صنعت کی کارکردگی پر انحصار کرتی ہے۔ تازہ اعداد وشمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی برآمدات میں ٹیکسٹائل شعبے کا حصہ 55% ہے۔ جبکہ 2008-09 میں یہی شعبہ 65% کا حصہ دار تھا اگلے پانچ سالوں میں اس شعبے کی کارکردگی بیتر بناتے ہوئے ہم اسکا ہدف 26 ارب ڈالر تک لے جانے کے خواہاں ہیں اس مد میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹ ویژن 2020 ء اور پاکستان ٹیکسٹائل پالیسی 2014-19 ہمارے لیئے مشعل راہ ہیں۔ وفاقی وزیر نے ورکشاپ کے انعقاد پر دونوں اداروں کے سربراہان کو سراہا اور بطور وزیر اپنی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس سے پہلے نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد ارشد نے کہا کہ نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھے کردار کا حامل بھی ہونا چاہئے تاکہ معاشرے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی ماں کا درجہ رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کپاس کی پیداور میں دنیا میں سرفہرست ہے جبکہ ٹیکسٹائل منصوعات میں ہمار ا وہ مقام نہیں جبکہ موجودہ ٹیکنالوجی پر عمل در آمد کر کے ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔اس کے بعدبولٹن یونیورسٹی ، یو کے کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر حسین شاہ ، فیصل آباد چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر چوہدری محمد نواز او رپاکستان کونسل فار سانئس اینڈ ٹیکنالوجی کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر انوارالحق گیلانی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سائنسدانوں اور طلباء سمیت شرکاء کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

مزید : کامرس