لیگی قیادت پر بغاوت کا مقدمہ قانون کے ساتھ مذا ق، خلیل طاہر 

   لیگی قیادت پر بغاوت کا مقدمہ قانون کے ساتھ مذا ق، خلیل طاہر 

  

لاہور(جنرل رپورٹر)لیگی رہنماؤں پر بغاوت کے مقدمہ کا معاملہ سابق صوبائی وزیر و قانونی ماہر خلیل طاہر سندھو نے مقدمہ کو غیر آئینی قرار دے دیا لیگی قیادت پر مقدمہ قانون کے ساتھ مذاق ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان پینل کورٹ کے مطابق جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ قانون کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں مقدمہ پاکستان کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے مقدمہ میں منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کو بھی نامزد کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مقدمہ لڑنے والے پر ہی بغاوت کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے عمران خاں خود کشمیر پر کچھ کر نہیں رہے جو کشمیر کی ترجمانی اور انکا بیانیہ پیش کر رہا ہے اس پر ہی مقدمہ درج کر دیا گیا ہے مادر ملت فاطمہ جناح کے بعد یہ مقدمہ پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے حکومت اندر سے خوف ذدہ ہے خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ مقدمے میں عام شہریوں کو اکسانے کی دفعات شامل ہیں۔مقدمے میں صدر اور گورنر کو کام سے روکنے کی دفعات شامل ہیں ہمارے بند کمرے کے اجلاس کی کارروائی پر یہ دفعات نہیں لگائی جاسکتیں۔

ؒخلیل طاہر 

مزید :

صفحہ آخر -