وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر61

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر61
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر61

  

اکھاڑے خون میں نہا گئے تھے۔ وہ چاہتوں بھرے لہجے اور جان نثار کرنیوالے ہندو جو کبھی مسلمان پہلوانوں کو دیوتا سمجھتے تھے اور ان کی پوجا اور درشن کو ترستے تھے یکایک معدوم ہو گئے اور افق سیاست کی بلندیوں پر سرخ بادلوں کے امڈتے ہی ان کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے۔ ہندوستان میں علیحدگی کی تحریک نے ہندوؤں اور سکھوں کو مسلمانوں کو گاجر اور مولی کی طرح کاٹنے کا ایک سنہری موقع دیا تھا، اس لئے انہوں نے بلاامتیاز مسلمانوں کو بھی تہہ تیغ کر دیا۔ اس دور میں شاہ زوری کے میدان میں مسلمانوں کو مکمل طور پر دسترس حاصل تھی اور ان کے نام کا سکّہ چلتا تھا۔اس سے قبل تو کبھی ایسا نہ ہوا تھا مگر 40ء کی دہائی کے ساتھ ہی ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمان شاہ زوروں کے خلاف سازشیں شروع کر دی تھیں اور جہاں کسی کا بس چلتا مسلمان پہلوانوں کو رسوا کرنے کا بھرپور اہتمام کیا جاتا۔ جواب میں مسلمان شاہ زور خاموش رہتے۔ وہ طاقت کا پہاڑ ہونے کے باوجود فرنگی دور غلامی میں صبر و تحمل کی بھاری سل اپنے سینے پر رکھنے پر مجبور تھے۔ یہ درباروں میں نوکریوں اور اعزازت کا نتیجہ تھا یا کوئی اور وجہ، مسلمان پہلوان سوائے اکھاڑے کے اندر رہنے کے، باہر کی کسی سرگرمی میں حصہ نہ لیتے تھے اور خاص طور پر تو وہ لڑائی مارکٹائی کے واقعات سے دامن ہی بچاتے تھے۔ اب جونہی علیحدگی کا اعلان ہوا تمام سکھ اور ہندو مسلمان پہلوانوں کے خلاف ڈٹ گئے۔ وہ مسلمانوں کو ملنے والی جائیدادوں پر دانت گاڑنے کے منتظر تھے، اکھاڑے تو پہلے ہی سنسان ہو گئے تھے۔ اب مسلمان شاہ زوروں نے ہجرت بھی شروع کر دی تھی۔ وہ پہلوان جن کے پاکستان میں شامل ہونیوالے علاقوں میں آبائی گھر تھے اور محض نوکریوں کیلئے درباروں سے وابستگی کے باعث ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے تھے، انہیں پاکستان میں داخل ہونے میں قدرے آسانی رہی۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر60 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

گاماں پہلوان اور امام بخش پہلوان پہلے ہی سے لاہور میں تھے۔ گاماں پھلیریاں والی گلی محلہ ستھان میں تھا تو امام بخش اپنے بچوں کے ساتھ لوہاری میں گلی بھولو میں رہائش پذیر تھا۔ گاماں نے پٹیالہ میں اور امام بخش نے امرتسر میں قیام کے دوران ہی یہاں اپنے لئے شاندار مکانات خریدے ہوئے تھے۔ قیام پاکستان سے چند ماہ قبل گاماں پہلوان نے یہ مکان بھی بیچ دیا اور دریائے راوی کے پار کامران کی بارہ دری میں رہائش اختیار کی۔ یہ ایکڑوں رقبہ پر پھیلا ہوا پھلوں کا باغ تھا۔ دریا کے کنارے ایک وسیع و عریض حویلی میں گاماں پہلوان کے شب و روز بسر ہونے لگے تھے۔اس کا دل ابھی یہاں لگا نہیں تھا۔ جن چاہتوں سے اس نے پھلیریاں والی گلی میں مکان خریدا تھا اب اسے چھوڑنے کا گاماں جی کو رنج تو تھا مگر اس حویلی میں پھولوں کے باغات لگوا کر اس کمی کو کسی حد تک پورا کر لیا تھا۔

پھلیریاں والی گلی کا مکان گاماں پہلوان کیلئے بڑا خطرناک بن گیا تھا۔گاماں جی کو یہ مکان خریدنے سے قبل معلوم تھا کہ یہ مکان پراسرار ہے مگر انہوں نے پروا نہ کی تھی۔ یہ مکان مائی اللہ جوائی کا تھا۔ اللہ اللہ کرنیوالی خاتون تھی۔ خاوند فوت ہو چکا تھا اور اولاد کوئی نہ تھی۔ مائی غم تنہائی کو دور کرنے کیلئے اللہ کی یاد میں مشغول رہتی۔ اس نے اپنی دنیا صرف ایک کمرے تک محدود کر لی تھی اور دنیا سے ملنا جلنا بالکل ترک کر دیا تھا۔ لہٰذا جب اس کا انتقال ہوا تو کسی کو خبر نہ ہوئی۔ تیسرے دن پڑوسیوں کو لاش کے سڑنے گلنے کی وجہ سے خبر ہوئی۔ محلے داروں نے مائی کے ’’پچھلوں‘‘ سے رابطہ کیا جو قصور کے گاؤں دسنیک میں رہتے تھے۔مائی بلھے شاہ کی بڑی عقیدت مند تھی۔ اپنے عزیزوں کو کہہ رکھا تھا کہ وہ جب رحلت کرے تو اسے بلھے شاہ کے احاطے میں دفنایا جائے۔ لہٰٰذا اس کی یہ وصیت پوری کی گئی۔

گاماں پہلوان نے بسا پہلوان کی وساطت سے یہ مکان مائی اللہ جوائی کے لواحقین سے خریدا تھا۔گاماں کی ابھی شادی بھی نئی نئی ہوئی تھی۔ وہ اپنی شریک حیات وزیر بیگم کے ہمراہ یہاں قیام پذیر ہوا۔ ابھی انہیں یہاں منتقل ہوئے دو روز ہی گزرے تھے جب مکان پراسرار وارداتوں کے حصار میں آ گیا۔ کبھی کسی کمرے میں ڈراؤنا کتا بھونکتا تو کبھی کسی میں۔گاماں اسے تلاش کرتا مگر وہ نہ ملتا۔ کبھی کمرے کے دروازے بجنے لگتے اور بلیوں کی آوازیں آنے لگتیں۔ کبھی دھماکہ ہوتا اور رسوئی گھر کے برتن کمروں میں بکھر جاتے۔ وزیر بیگم کی تو جان نکلتی جا رہی تھی۔ اس نے شکایتاً گاماں جی سے کہا۔

’’آپ دیکھ بھی رہے ہیں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے پھر بھی یہ جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہو رہے۔ میں مر جاؤں گی یہاں رہ کر۔۔۔ خدا کیلئے کہیں اور چلئے۔ یہاں تو بھوتوں نے بسیرا ڈال لیا ہے‘‘۔

گاماں بیگم کی بات ہنسی میں ٹال دیتے۔ ’’یہ صرف تمہارا وہم ہے۔ بھلا ہم سے بھوتوں نے کیا لینا ہے۔ تو رات کو آیت الکرسی پڑھ کر سویا کر پھر ایسا نہیں ہو گا‘‘۔

انہی دنوں گاماں پٹیالہ چلے گئے اور یہ مکان خالی ہو گیا۔ پھر 1946ء میں وہ یہاںآ ئے تو یہ پراسرار واقعات دوبارہ شروع ہو گئے۔ حالانکہ قیام کے دوران جب بھی وہ لاہور آتے، چند روز کیلئے اسی مکان میں بسیرا کرتے تھے۔اسی دوران گاموں پہلوان لاہوریہ رستم ہند کے پوتے اور وزیر بیگم کے بھتیجے ریاض کی شادی ہوئی۔ وہ اپنی پھوپھی سے ملنے آئے۔ وہ اس مکان کی پراسراریت سے ناواقف تھے۔بیگم ریاض، پراسرار واقعات کی سرزمین دھرم سالہ گانگڑھ کی رہنے والی تھی۔ پہلی بار یہاں آئی تو مرتے مرتے بچی۔وہ ایک رات ہی یہاں ٹھہرے تھے اور دن چڑھے ہی بھاگ گئے تھے۔ بیگم ریاض رات کے وقت کمرے میں تنہا تھی جب اچانک درجنوں دئیے روشن ہو گئے۔ مٹیالی روشنی کے پس منظر میں کریہہ شکل لوگوں کا ہجوم تھا۔ بیگم ریاض نے یہ منظر دیکھا تو ایک دلدوز چیخ مار کر باہر کو بھاگی۔ گھر والے بھی ادھر کو لپکے۔ بیگم ریاض کی بات سن کر سب نے کمرے میں جھانکا تو اسے خالی پایا۔ گاماں پہلوان نے اسے تسلی دی اور رات بھر ان کا پہرہ دیا مگر بیگم ریاض رات بھر نہ سو سکی۔ وزیر بیگم نے گاماں جی کو یہ مکان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ گاماں جی نے بھی اسی میں بہتری جانی اور مکان عبدالحمید جھنڈا نامی ایک شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا۔جھنڈے کو یہ مکان خوب راس آیا اس کی نسلیں آج بھی یہاں آباد ہیں۔

عبدالحمید جھنڈا کے قیام کو ابھی یہاں آئے ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ اسے مائی اللہ جوائی خواب میں ملی۔ جھنڈے کا بڑا لڑکا سمی اسی کمرے میں رہتا تھا جہاں مائی اللہ جوائی رہا کرتی تھی۔ مائی اللہ جوائی نے جھنڈے کو اس کے بیٹے کی شکایت کی اور سمجھایا۔ ’’دیکھو جھنڈے! اگر تم یہاں رہنا چاہتے ہو تو شرافت کے ساتھ رہو۔تمہارا لڑکا رات کو لنگوٹی باندھ کر سوتا ہے جو شریفانہ لباس نہیں۔ ہم نے یہاں عبادت کرنی ہوتی ہے۔تم اپنے لڑکے کو کسی دوسرے کمرے میں منتقل کر دو، ورنہ تمہارا جینا حرام ہو جائے گا‘‘۔

جھنڈے نے اپنے بیٹے سے اس معاملے کی بازپرس کی۔ اس نے تسلیم کیا کہ وہ واقعی رات کو لنگوٹی پہن کر سوتا ہے۔ پھر اسی روز کمرے کو مقدس مقام کا درجہ دے دیا گیا اور تیل کا دیا روشن کر کے خوشبویات کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ جھنڈے نے دوسرے ہی دن قصور جا کر مائی اللہ جوائی کی قبر پختہ کرا دی۔ عبدالحمید جھنڈے کے تو دن ہی پھر گئے۔ انہیں مائی اللہ جوائی کی نسبت سے سب کچھ ملا۔ انہی دنوں اس کی لاڈی بیٹی ڈولی بیمار ہو گئی۔اس کا بچنا محال تھا۔ عبدالحمید نے مائی سے منت مانگی۔ ’’اگر میری لخت جگر صحت یاب ہو گئی تو میں آپ کی قبر پر مزار بناؤں گا‘‘۔

ڈولی دوسرے ہی دن حیرت انگیز طور پر صحت یاب ہو گئی۔ عبدالحمید نے وعدے کے مطابق مائی اللہ جوائی کا عالیشان مزار بنوایا اور وہاں عرس کا اہتمام کرنے لگا۔ مائی اللہ جوائی کے مزار پر آج بھی عرس ہوتا ہے۔ گاماں پہلوان کے اس مکان میں رہائش اختیار کرنیوالے تمام کردار آج زندہ تو نہیں مگر عبدالحمید جھنڈا کی بیٹی ڈولی اور اس کی اولاد آج بھی یہاں رہائش پذیر ہے۔

(جاری ہے )

مزید :

طاقت کے طوفاں -