میرے دل میں ہزار وسوسے ہیں!

میرے دل میں ہزار وسوسے ہیں!
میرے دل میں ہزار وسوسے ہیں!

  


سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے کہ جس میں ایک آسٹریلوی خاتون سینیٹر شدید برہمی کے عالم میں سفید فام نسل پرست سینیٹر فریزر اینگ پر برستی ہوئی نظر آتی ہیں۔تیزی سے عام ہوتی ہوئی ویڈیو کے نیچے جہاں ہم مسلمانوں کی طرف سے داد و تحسین کا سلسلہ جاری ہے۔آج جب ایک قومی ٹی وی چینل نے مذکورہ بالاویڈیو ہیڈ لائن کے طور پر نشر کی تو میرے دل میں ہزار وسوسوں نے سر اٹھایا۔نیوزی لینڈ میں حالیہ دہشت گردی کے دلدوز واقعہ نے جہاں انسانیت کو بلا رنگ و نسل جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ، وہیں ملک کی خاتون وزیراعظم کے انسان دوست رویے نے پوری دنیا میں ان کے تدّبر،اخلاص اور قائدانہ صلاحیتوں کی دھاک بٹھا کر رکھ دی ہے ۔مسلم معاشروں کے اندر بالخصوص ان کو بے حد محبت ، احترام اور اپنائیت کے احساسات کے ساتھ دیکھا اور سنا جا رہا ہے۔ ان کے سر پر دوپٹے،ٹی وی پر براہ راست اذان اور پارلیمنٹ میں ان کے ہمدردانہ خطاب کی دل کھول داد دی جا رہی ہے۔یہی نہیں بلکہ نیوزی لینڈ کے عوام نے بھی بلا رنگ و نسل مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر سروں کو ڈھانپ لیا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران عام شہری نمازیوں کی حفاظت کیلئے تن کر کھڑے ہو گئے۔آسٹریلیا کے عوام نے بحیثیت مجموعی اپنے ہم نسل و ہم وطن دہشت گرد سے برآت کا اعلان کرتے ہوئے مختلف شہروں میں واقع مسجدوں کے دروازوں کوپھولوں سے لاد دیا۔سفید فام انتہا پسند سینیٹر اینگ کے سر پر انڈہ پھوڑنے والے نوجوان کو راتوں رات کاندھوں پر اٹھا لیا گیا۔آج جب اس خاتون سینیٹر نے دُم دبا کرکھسکتے اینگ کی پیٹھ پر چیخ کر کہا ’تم ہم میں سے نہیں ہو‘،تو سوشل میڈیا پر مسلمانوں نے خاتون کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔اس سرشاری کے عالم میں مگر میں کیوں اندیشوں اور وسوسوں میں گھرا بیٹھا ہوں!

سال۲۰۰۷ء میں میرے بچے کیتھڈرل سکول لاہور میں زیر تعلیم تھے تو اکثر اوقات ان کی تعلیمی کارگزاری سے آگاہی کیلئے ہم میاں بیوی ان کے اساتذہ سے ملاقات کیلئے سکول جاتے۔ایسی ملاقاتیں بالعموم سکول کی خاتون وائس پرنسپل کے دفتر میں ہوتیں۔سکول کے اساتذہ اور دیگر عملے کی اکثریت مسیحی برادری جبکہ طلباء کی کثیر تعداد کا تعلق مسلمان گھرانوں سے تھا۔ ایک دفعہ ایسی ہی ایک ملاقات کے دوران معلوم پڑا کہ خاتون وائس پرنسپل اپنے خاندان سمیت امریکہ منتقل ہو رہی ہیں۔کچھ حد تک ان سے شناسائی ہو جانے کی بنا پر میں نے ان سے پاکستان چھوڑنے کی وجہ دریافت کی۔کسی قدر ٹال مٹول کے بعد خاتون نے بتایا کہ معقول حد تک خوشحال ہونے کے باوجود پاکستان کو خیر باد کہنے کے پیچھے دراصل بے یقینی اور خوف کا وہ مسلسل احساس ہے جس سے ان کا خاندان خود کو دوچار پاتا ہے ۔بات بڑھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جس دن سکول میں اسلامیات کے پرچے کا دن ہو، سکول کا مسیحی سٹاف سارا دن سوُلی پر لٹکا رہتا ہے۔مسلمان بچے اسلامیات کی کتابوں کے ورقے پھاڑ کر’ بوٹیاں‘ بناتے اور امتحان کے دوران ٹائیلٹس میں ان سے نقل کر کے وہیں پھینک کر چلے جاتے ہیں جبکہ مسیحی عملہ ان اوراق کو فوراً سے بیشتر وہاں سے اٹھانے کو جٹا رہتا ہے ۔ اگرچہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسا ہونا معمول کی بات ہے تا ہم کسی مسیحی درسگاہ کے ٹائیلٹ میں ایسے اوراق کا یوں پایا جانا یقیناً ایک خوف طاری کردینے والا معاملہ ہے۔ ایک عشرے سے زائد بیت گیا مگر مجھے آج بھی اس خاتون کے لہجے کی اداسی اور اس میں چھپا کرب اچھی طرح یاد ہے ۔ یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی۔ معلوم نہیں وہ امریکہ میں کیا کر رہی ہیں اور کیسی زندگی بسر کر رہی ہیں۔تا ہم میں ان کیلئے اور پاکستان میں بسنے والے دیگر مسیحی خاندانوں کی عافیت کیلئے دعا گو ہوں۔

غیر مسلم اقلیتوں کے جان و مال کی حفاظت اسلام کے اوّلین اصولوں میں سے ایک ہے۔ خالصتاً عالمگیر انسانی اصولوں پر استوار معاہدہ’ میثاقِ مدینہ‘ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین تعلقاتِ کار کی لافانی دستاویز ہے۔جو بات مسیحی برادری کو دیگر غیر مسلم مذاہب کے ماننے والوں سے ممتاز کرتی ہے وہ اﷲ کے نبیؐ کی طرف سے مسیحؑ کے ماننے والوں کے حقوق، بہبود اور سلامتی کے پیمان کے طور پر لکھی گئی ایک دستاویز ہے ،جو آج بھی سینٹ کیتھر ائن کی خانقاہ میں آویزاں ہے۔ آپؐ نے ایک موقع پر خبر دار کیا کہ اقلیتوں پر ظلم ڈھانے والے مسلمانوں کی بجائے ، روز قیامت آپؐ مظلوم غیر مسلموں کے وکیل ہوں گے۔ کیا اس کے بعد بھی مسلمانوں کیلئے اس باب میں کسی اور وعید کی ضرورت باقی رہتی ہے؟

حضرت عمرؓ بیت المقدس کی فتح کے بعد مسیحوں کے گرجا گھر سے سامنے سے گزرے تو راہباؤں نے ان کو اندر آنے کی دعوت دی۔آپؓ نے ایک قدم بڑھایا،ٹھٹکے اور پھر معذرت کرلی کہ مبادہ مسلمان فاتحین کیلئے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں دراندازی کی روایت قائم نہ ہو جائے۔اُسی دور کے آس پاس مصر کی فتح کے دوران کسی نے گرجا گھر میں آویزاں حضرت مریمؑ کے مجسمے کی ناک کاٹ ڈالی۔مسلمانوں کے سپہ سالار کو معلوم ہوا تو ایسا کرنے والے کو ڈھونڈ کر لانے کا حکم دیا گیا،جب کوئی گرفتار نہ ہوسکا تو فاتح سالار نے مغلوب مسیحوں کو اپنی ناک بطور قصاص پیش کردی۔تاریخِ اسلام ایسی درخشندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔خود وطن عزیز میں بانئ پاکستان نے اقلیتوں کو ملک میں برابر کا شہری قرار دیا۔ ہمارا ایک چوتھائی پرچم غیر مسلموں کا نشان دار ہے ۔

نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی حکومتوں اور عوام نے فروری کی دہشتگردی کے بعد جو رویہ اپنایا ہے اسے انسان دوست کہا جائے یا کہ مسلمان دوست،ہر دو صورتوں میں اس میں مغرب سے زیادہ ہم مسلمانوں کیلئے سبق پوشیدہ ہے۔ میری رائے میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینے کی بجائے ہم مسلمانوں کو روزِ محشر اپنے شافع محمد رسول ﷺ کا سامنا کرنے کی تیاری کا سوچنا چاہئیے کہ روز حساب جن کی شفاعت کی آس میں ہم جیتے ہیں۔ وہ مسلمان جن کے ہاتھ بے گناہ غیر مسلموں کے خونِ ناحق سے رنگے ہوں، داورِ محشر کے دربار میں اگر آپﷺ کو ستائے جانے والے غیر مسلموں کے ساتھ پائیں تو کیا کسی اور شافع و مددگار کو ڈھونڈیں گے؟

قیامت تو جب آئے گی تب آئے گی ،میں تو دل میں اندیشہ پالتا ہوں کہ کل کوئی نیوزی لینڈ کے شہداء کا بدلہ لینے کیلئے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر حملہ آور ہوگیاتو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ہم کیا جواب دیں گے؟بے کیفی کے اس عالم میں و سوسہ سر اٹھاتا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے حق میں تاویلیں تراشنیں والوں کے بارے میں ہم نے تب بھی چیخ کر نہ کہا کہ’یہ ہم میں سے نہیں‘، تو سینیٹر اینگ پر برسنے والی آسٹریلوی خاتو ن کو ہم کیا منہ دکھائیں گے؟

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’ dailypak1k@gmail.com  ‘ یا ’ksfarooqi@gmail.com‘پر بھیج دیں۔ 

مزید : بلاگ


loading...