شارک کھانے والا خونخوارمگرمچھ

شارک کھانے والا خونخوارمگرمچھ
شارک کھانے والا خونخوارمگرمچھ

  

سڈنی (نیوزڈیسک) 5.5 میٹر لمبے مگرمچھ کے منہ میں شارک کی تصویر نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی۔ عالمی میڈیا میں اس تصویر کی اشاعت کے بعد یہ مگرمچھ اب معروف ترین رینگنے والا جانور بن چکا ہے۔ لیکن یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ 2ٹن وزنی 80 سالہ اس جانور کو بروٹس کا نام دیا گیا ہو۔ آسٹریلیا کے شمالی علاقہ میں بہنے والے دریا ایڈلیڈیا میں پایا جانے والا یہ مگرمچھ 2011ءمیں بھی ایسے مناظر سے سیاحوںکو محظوظ کر چکا ہے۔ دریا پر آنے والے سیاح اس دیوہیکل مگرمچھ میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں، جو بلاشبہ لڑائی میں ایک بڑی شارک کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ دریائے ایڈلیڈیا پر موجود ایک سرکاری اہلکار ہیری بومین کا کہنا ہے کہ ”مجھے متعدد ایسی درخواستیں اور فون کالز موصول ہوتی ہیں کہ ہم بروٹس (دیوہیکل مگرمچھ) کو دیکھنا چاہتے ہیں، ہم گزشتہ کئی سالوں سے بروٹس کے ساتھ ہیں، لیکن ہم کسی کو یہ گارنٹی نہیں دے سکتے کہ بروٹس کب پانی سے باہر آکر انہیں اپنا دیدار کروائے گا۔ سیاحوں کی کثیر تعداد صرف اس مگرمچھ کو دیکھنے کےے لئے دریائے ایڈلیڈیا پر آتی ہے اور جب سیاح اس بروٹس کو دیکھتے ہیں تو وہ حیران رہ جاتے ہیں۔“ گزشتہ دنوں اس دیوہیکل مگرمچھ کی تصویر عالمی میڈیا پر شائع ہونے کے بعد آج کل ہر جگہ اسی کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ یہ تصاویر سڈنی سے تعلق رکھنے والے ایک فوٹو گرافراینڈریو پیس نے اتاری ہیں، جو دریائے ایڈلیڈیا پر ایک دوست اور اپنی 7 سالہ بیٹی کے ساتھ تفریح کی غرض سے گیا تھا۔ مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے اینڈریو پیس نے بتایا کہ وہ چھوٹے چھوٹے مگرمچھ دیکھ کر اکتاہٹ کا شکار ہونے کے باعث واپسی کا سوچ رہے تھے کہ اچانک انہوں نے دیوہیکل مگرمچھ دیکھا، جس کے منہ میں شارک تھی۔ وہ شارک زندہ تھی اور جبڑے سے نکلنے کے لئے تلملا رہی تھی، اتنے میں اینڈریو پیس نے کیمرہ نکال کر ان مناظر کو قید کر لیا۔ دیوہیکل مگرمچھ کی عمر تقریباً 80 سال جبکہ اس کی ایک ٹانگ نہیں تھی، جس کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ وہ ایک شارک سے لڑائی کے دوران ٹوٹ گئی تھی۔

مزید :

تفریح -