پاک ٹی ہاؤس کے بھارتی مہمان!

پاک ٹی ہاؤس کے بھارتی مہمان!
پاک ٹی ہاؤس کے بھارتی مہمان!

  

’’شہرِ زندہ دلانِ لاہور‘‘ کا مشہورِ زمانہ چائے خانہ ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ ہرچند کہ اب وہ نہیں ہے جو کبھی تھا مگر لوگ باگ اب بھی اسے دیکھنے کیللک میں کھنچے چلے آتے ہیں، کبھی شعراء و ادباء کی کوئی کھیپ شمالی علاقوں گلگت، بلتستان اور سکردو سے ، کبھی چارسدہ،ایبٹ آباد اور ریاست آزاد جموں و کشمیر، میرپور، مظفر آباد سے غرض پاکستان ہی نہیں دنیا کے کونے کونے سے ایک قطار در قطار ہے جو پاک ٹی ہاؤس کی یاترا کو آ رہی ہے، جا رہی ہے۔ یاترا کا لفظ یہاں میں نے دانستہ استعمال کیا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے بھارت سے دو ادیب شاعر، مدیر دانشور پاک ٹی ہاؤس آئے۔ہمیں شرفِ ملاقات بخشا اور ہماری میز پر جاری چائے کے لنگر میں شریک ہوئے یہ دوادیب شاعر افسانہ نگار، مدیر، دانشور ،الیاس انجم اور ندیم راعی مرادآبادی تھے۔

الیاس انجم، اٹھارویں صدی کے باکمال صاحبِ دیوان شاعر قائم چاند پوری اور ممتاز افسانہ نگار کوثر چاند پوری کے ہم وطن نکلے کہ ان کا تعلق بھی چاند پور ضلع بجنور [یو پی انڈیا] سے ہے، آپ وہاں کے ایک ہفت روزہ اخبار ’’شانِ بجنور‘‘ کے ایڈیٹر انچیف ہونے کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے زمینی سطح پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ الیاس انجم صاحب ’’انڈوپاک رائٹرز سوسائٹی‘‘ کے صدر ہیں اور مدتِ مدید سے سال میں تین چار سیمینار اردو زبان کے حوالے سے منعقد کراتے ہیں، بھارت کے سب سے بڑے صوبے یوپی [اُتر پردیش] کی سیاست میں بھی نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔ اسی ماہ میں اسی سال میں یعنی 26 دسمبر 2016ء کو ’’پروین شاکر، عہد اور شخصیت‘‘ کے عنوان سے ایک بڑا سیمینار منعقد کرنے جا رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے بہ وقتِ ملاقات بہ زبان خود سنائی اور بتایا کہ پاکستان سے بھی پانچ شعراء وشاعرات کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

قارئین کرام اور حاسدینِ عُظام خاطر جمع رکھیں ان پانچ سواروں میں بحمداللہ میں نہیں ہوں۔ الیاس انجم صاحب صحافی اور ایڈیٹر ہونے کے ساتھ تعلیمی اور سماجی و ثقافتی میدان میں بھی سرگرمِ عمل ہیں۔ ہم نے انہیں کھلے بازوؤں سے ویلکم کیا اور کہا ’’اے گُل تو بہ خورسندم تو بوئے کسے داری‘‘!

آپ ہمارے عزیز ترقی پسند دوست اور منفرد لب و لہجے کے شاعر نور بجنوری مرحوم کے دیس بجنور ضلع سے تعلق رکھتے ہیں جہاں کے مشہورِ زمانہ نقاد عبدالرحمن بجنوری بھی تھے جن کا ایک ہی جملہ ، کتابوں پر بھاری ہے کہ ہندوستان میں صرف دوہی تو چیزیں ہیں’’ ایک مرزا غالب دوسرے تاج محل‘‘۔ہم کہتے ہیں تاج محل بھی کیا غالب ہی غالب ہے۔ ہر عہد پر غالب مرزا اسد اللہ خان غالب کہ جو روز ہی یاد آتے ہیں:

بلائے جاں ہے غالب ’’تیری‘‘ ہر بات

عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا

دوسرے مہمانِ عزیز، ندیم راعی مراد آبادی تھے کہ جہاں کے حضرتِ جگر مراد آبادی اور راز مراد آبادی بھی تھے اور جہاں کے لوٹے بھی صنعت و حرفت میں لاجواب و بے مثال حیثیت رکھتے ہیں، ہمارے ہاں کی طرح کے سیاسی لوٹے نہیں کہ بے پیندے کے لوٹے ہوتے ہیں۔آزادی سے پہلے تو ایک مشہور سیاست دان کا تخلص ہی ’’لوٹا‘‘ مشہور ہو گیا۔ ڈاکٹرمحمد عالم لوٹا۔! خیر یہ تو جملہ معترضہ درمیان میں آگیا ذکرِ خیر کرنا ہے ندیم راعی مراد آبادی کا کہ وہ مراد آباد میں ’’آئینہ راعین‘‘اور ’’راعین سنسار‘‘ نامی دو جریدوں کے بیک وقت مدیر ہیں۔ ان کے دو عدد شعری مجموعے بھی مطبوعہ ہیں جو ہم نے اپنی گناہگار نظروں سے ہنوز نہیں دیکھے۔ پڑھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان میں ایک شعری مجموعہ ’’اساس‘‘ کے نام سے اردو میں اور ایک ’’سو کروڑ‘‘ کے عنوان سے ہندی میں ہے۔ ندیم راعی مراد آبادی کی زیرطباعت کتب میں 1980ء کی عید [افسانے]۔ لب کشائی [شعری مجموعہ] عروج و زوال [مضامین] اور ’’آوارہ تحریریں‘‘ [مضامین] شامل ہیں، وہ بزم اربابِ سخن مراد آباد کی ’’ہم آواز‘‘ سوسائٹی کے صدر بھی ہیں۔گفتگو کے دوران ہم نے انہیں بتایا کہ آپ ندیم راعی ہیں ہمارے پاکستان میں ایک مشہورصحافی، ادیب،شاعر، مدیر ایثار راعی بھی ہو گزرے ہیں۔مرحوم ایثار راعی کا تعلق ملتان سے تھا جو اس فارسی شعر کی وجہ سے لازوال ہے:

چہار چیز است تحفہ ء ملتان

گرَد، گرما، گدا و گورستان

میں نے اپنی ایک غزل کے شعر میں ملتان کو یوں محفوظ کر رکھاہے کہ کسی زمانے میں ایک ملتانی محبوبہ میری زلفِ گرہ گیر کی اسیر تھیں:

میں ہوں لاہور میں لیکن یارو!

بھولتا ہی نہیں ملتان مجھے

ندیم راعی صاحب!بہرحال آپ کی اپنی انفرادیت اپنی جگہ ہے کہ آپ ایک ہی شخصیت میں بہت کچھ ہیں۔ ندیم راعی مراد آبادی سے ہند میں اردو زبان و ادب اور ثقافت کے فروغ کے حوالے سے سیرحاصل گفتگو رہی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور الیاس انجم اکٹھے آئے ہیں اور وہاں بھی اکٹھے ہی مل کر سیمینار وغیرہ کراتے ہیں۔۔۔!

بھارت کے ان ادبی مہمانوں جناب الیاس انجم چاند پوری اور ندیم راعی مراد آبادی کو لاہور میں ہر سطح پر خاصی پذیرائی ملی، ہر شخص انہیں اس طرح دبوچے ہوئے تھا جیسے کُڑک مرغی اپنے بچوں کو پَروں میں سمیٹے رہتی ہے۔ ہر متواضع شخص اپنی جگہ اسی امید سے تھا کہ وہ پروین شاکر سیمینار میں 26دسمبر کو بجنور طلب کر لیا جائے گا۔ ان متوقع مہمانوں میں یہ خاکسار امیدوار نہیں ہے کہ الیاس انجم صاحب نے اپنے بیٹوں کی شادی میں فروری 2017ء کے لئے ابھی سے شرکت کا وعدہ لے لیا ہے، یہ وعدہ بشرطِ صحت و تندرستی پورا کیا جائے گا۔اسی طرح جس طرح ’’مودی‘‘ نوازشریف صاحب کی سالگرہ کی تقریب میں پاکستان جاتی امراء پہنچ گئے تھے! اپنے چند شعر جو مہمانانِ عزیز کو سنائے وہ کچھ یوں ہیں:

بِلا سبب بھی کوئی بدگمان ہوتا ہے

مجھے یقیں ہے کوئی درمیان ہوتا ہے

****

ہر اک کا ظرف بھی ہوتا ہے اس کے پیشِ نظر

وہ دیکھ کر ہی حسب اور نسب بناتا ہے

****

ہے شاعری میں نہاں شخصیت بھی ناصر کی!

دوگونہ لطف کو مجموعہ کلام تو لو

****

گرہنیں مانتے نقاد نہ مانیں ناصر!

مہ جبینوں میں مرا رنگِ سخن عام تو ہو

****

نشانی اپنے گھر کے کیا بتاؤں

چلے آؤ جہاں تک روشنی ہے

****

میں اپنی ذات میں جیسا بھی ہوں جو کچھ بھی ہوں ناصر

فرشتوں سے کہیں بہتر ہے مجھ سا بھی بشر ہونا

الیاس انجم صاحب کو ہم نے بصد التفات اپنا مجموعہ غزل ’’التفات‘‘ پیش کیا، ان سے کلام سننے اور پڑھنے کا وعدہ رہا۔ انہوں نے کہا ’’ انڈوپاک کے لوگوں میں محبت کا رشتہ بہت مضبوط ہے، لڑائی بھڑائی اوپر کی سطح پر سیاستدانوں میں ہے‘‘!*

مزید :

کالم -