یوم یکجہتی کشمیر، لاہور میں پیپلز پارٹی، دفاع پاکستان کونسل اور دوسری جماعتوں، تنظیموں کے اجتماعات، مظاہرے!

یوم یکجہتی کشمیر، لاہور میں پیپلز پارٹی، دفاع پاکستان کونسل اور دوسری ...

بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا جسے اب ستر سال سے زیادہ ہو گئے۔ کشمیری، بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے جدوجہد میں مصروف اور مسلسل قربانیاں دے رہے بھارتی فوج ان حریت پسندوں کو کچلنے کے لئے جدید اسلحہ استعمال کر کے نوجوانوں کو شہید کرتی ہے۔ تشدد اور فائرنگ سے اب تک ہزاروں کشمیری اپنی زندگی قربان کر چکے۔ معذور ہوئے اور آنکھوں کی بینائی سے بھی محرومی اٹھانا پڑی۔ جیلوں ا ور تھانوں میں بھی وہی بند ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ سے زیادہ فوجی موجود ہیں جبکہ پولیس اور بعض تنظیمی لوگ بھی ان مظالم میں شریک ہیں۔ نوجوان وانی کی شہادت نے اس تحریک حریت کو نئی جلا بخشی اور اب مقبوضہ کشمیر میں حالات بھارتی حکومت کے بس سے باہر نظر آ رہے ہیں، اس کے باوجود بھارت قبضہ مسلط رکھنے پر مضر ہیں۔

کشمیریوں کی اس جدوجہد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے کشمیر سمیت پوری دنیا میں 5 فروری یوم یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے اس مرتبہ کشمیریوں کی قربانیوں نے دنیا بھر کو متوجہ کیا اور پاکستان کے علاوہ پوری دنیا میں کشمیریوں کا ساتھ دینے کا عزم بھی کیا گیا۔ پاکستان میں یہ دن پورے جوش اور اخوت کے ساتھ منایا گیا۔ بلا لحاظ ہر جماعت نے اس میں حصہ لیا مظاہرے اور جلسے بھی ہوئے، اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ کشمیر کے سلسلے میں خود اپنی منظور کردہ قراردادوں پر عمل کرائے کشمیریوں پر مظالم کا نوٹس لیا جائے۔

ملک کے دیگر حصوں کی طرح لاہور میں بھی سیاسی، دینی اور دینی سیاسی جماعتوں کے علاوہ سول سوسائٹی اور دوسری تنظیموں کی طرف سے بھی مظاہرے کئے گئے اور اجتماعات منعقد ہوئے، پاکستان پیپلز، جماعت اسلامی، دفاع پاکستان کونسل، مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف ا ور دوسری جماعتیں سرگرم عمل رہیں۔ جماعت اسلامی کی طرف سے دو روز تک احتجاج ہوا، اور جلوس نکالے گئے۔

دفاع پاکستان کونسل کی طرف سے معمول کے مطابق مال روڈ پر جلسہ ہوا اور اسمبلی ہال (فیصل چوک) تک مارچ کیا گیا، حافظ سعید اور دیگر اکابرین نے خطاب کیا اور کہا گیا کہ آزادی کشمیر تک جدوجہد جاری رہے گی، مقررین نے حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور زور دیا کہ کشمیریوں سے تعاون کے لئے بھرپور کوشش کی جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تاریخی اور قدیمی جلسہ گاہ باغ بیرون موچی دروازہ کو پھر سے آباد کردیا گیا، قریباً 26سال بعد پارٹی نے یہاں عام جلسے کا اہتمام کیا، اس سے سابق صدر آصف علی زرداری نے مرکزی خطاب کیا، جو پارٹی جلسے سے لاہور میں ان کا پہلا خطاب تھا، اس سے پہلے انہوں نے متحدہ اپوزیشن والے جلسے سے فیصل چوک میں تقریر کی تھی، اس بار جیالے پر جوش تھے، اس جلسے کو سیاسی قوت کے مظاہرے کا ذریعہ بنایا گیا، جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے، زرداری کے علاوہ قمر زمان کائرہ، اعتزاز احسن یوسف رضا گیلانی، خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف اور دوسرے لیڈروں نے بھی تقریریں کیں، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا مطالبہ کیا گیا اور ان کو یقین دلایا گیا کہ پیپلز پارٹی ان کی جدوجہد کی بھرپور حمائت کرتی ہے اور کرتی رہے گی، اس جلسہ میں مقررین نے سیاسی فائدہ بھی حاصل کیا اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور حکومت کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا، موچی دروازہ کے باغ میں اس لحاظ سے شاید یہ پہلا جلسہ تھا کہ دور دور تک کرسیاں لگائی گئیں، فلیکس اور ہورڈنگ نصب ہوئے اور بھاری روشنیوں کا انتظام کیا گیا، اس جلسے کے لئے حفاظتی انتظامات بھی کئے گئے تھے اور ٹریفک بند کرکے متبادل راستوں سے رواں کی گئی۔

الیکشن کمشن کی طرف سے سینٹ کی نصف نشستوں کے لئے انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا گیا جس کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے، لاہور میں بھی جوڑ توڑ شروع ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے چودھری محمد سرور اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کی طرف سے کامل علی آغا کو میدان میں اتارا گیا ہے، اس حوالے سے دونوں جماعتوں اور پیپلز پارٹی کے پاس بھی عددی حمائت پوری نہیں ہے، چنانچہ ایڈجسٹمنٹ کے لئے کوشش شروع ہوگئی، تحریک انصاف کے چودھری محمد سرور اپنی جماعت کے سینئر راہنما شاہ محمود قریشی کے ساتھ چودھری برادران کی رہائش پر پہنچ گئے اور ان کے ساتھ سینٹ الیکشن کے لئے مذاکرات کئے چودھری برادران نے اس امر پر تواتفاق کیا کہ پنجاب اور وفاق میں اپوزیشن کو مل جل کر انتخاب لڑنا چاہئے تاہم انہوں نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا کہ مسلم لیگ (ق) اپنا امیدوار دستبردار کراکے چودھری سرور کو مشترکہ امیدوار بنالے، چودھری برادران نے واضح کیا کہ وہ اپنا امیدوار دستبردار نہیں کرائیں گے، اسی روز آصف علی زرداری نے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہٰی کو عشائیہ پر بلاول ہاؤس میں مدعو کیا اور سیٹ الیکشن کے حوالے سے طویل مذاکرات کئے مل جل کر حصہ لینے پر تو اتفاق ہوا، چودھری برادران نے حمائت مانگ لی کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ’’نگ‘‘ کم ہیں باور کیا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سمجھوتہ ہوجائے گا کہ پیپلز پارٹی بلوچستان سے اپنے امیدوار جتوانا چاہتی ہے، بہر حال یہاں بھی ساتھ چلنے کا فیصلہ ہوگیا اور مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

دوسری طرف ایک اور سیاسی تبدیلی ہوئی مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل (غیر فعال) مشاہد حسین سید نے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد مسلم لیگ (ق) سے مستعفی ہوگئے اور مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کرلی، یہ بھی بتایا گیا کہ ان کو سینٹ کے لئے امیدوار نامزد کرکے ٹکٹ جاری کردیا گیا۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...