مدرز ڈے پر ایک مردانہ کالم

مدرز ڈے پر ایک مردانہ کالم
 مدرز ڈے پر ایک مردانہ کالم

  


خاندان میں کسی بزرگ کی رحلت پر بال بچوں میں جائیداد کے جھگڑے کوئی نئی بات تو نہیں ، لیکن میری تائی جان کے دنیا سے چلے جانے پر ایک غیر معمولی مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ یہ کہ جو ظمیں اور غزلیں میں نے ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مل کر کہی تھیں ، اب ان کی ملکیت کا کیا ہو گا۔یہ نہیں کہ میرے اس بھائی نے، جسے بچپن میں حکیم الامت کے فرزند کی طرح ’’ببا‘‘ کہا گیا، مباحثوں اور مشاعروں میں جو ایک درجن سے زائد طلائی تمغے جیتے ان کے پیچھے میرا ہی کیمیائی نسخہ کار فرما تھا۔جی نہیں، بس جڑاؤ زیورات کی تراش خراش میں ٹانکا لگانے سے لے کر موتی نگینے اور پالش کے ’’فل‘‘ لشکار ے تک جو نازک موڑ آتے ہیں،ان میں کہیں کہیں کسی تجربہ کار زرگر کا ہاتھ بھی ہوا کرتا ہے ۔یہ دوسری بات کہ جواں ہمت کاریگر کے کام سیکھ جانے کے بعد اکثر کسی دستِ غیب کی ضرورت نہیں رہتی ۔

کسی بھی تخلیقی آدمی کے لئے اس ابتدائی اشتراک کی کئی شکلیں ہو سکتی ہیں ۔ جیسے سکول کے تقریری مقابلے کے لئے فلسفہ شہادت پر ماسٹر صاحب کی رٹی رٹائی اولین تقریر کہ’’ہر تخریب کے بعد تعمیر ہوتی ہے ، فنا کے بعد بقا ملتی ہے ، عسر کے بعد یسر ہے ‘‘ ۔ پھر اسی انداز میں خود لکھنے اور بولنے کی مشق، مگر جب گھر کے بچے دیکھتے ہی دیکھتے آٹے کی دو بوریوں جتنے انعامی کپ جیت لائے تو ان کے جڑاؤ زیورات کی تیاری میری صناعی کی محتاج نہ رہی ۔ تایا زاد بھائی کے معاملے میں میرا ’نیٹو‘ افواج جیسا رول چند نظموں میں ایک آدھ مصرعے کی ٹھوکا ٹھاکی سے زیادہ نہیں رہا ۔ ہاں ، ایک پوری غزل ایسی تھی جو انٹر کالجئیٹ مشاعرہ میں انعام حاصل کرتے ہی باہمی رضا مندی سے اِس لئے محترم صہبا لکھنوی کو روانہ کر دی گئی کہ ’افکار‘ کراچی میں اشاعت کے بعد جملہ حقوق میرے نام محفوظ ہو جائیں ۔

اب کیمرا مینی کی اصطلاح میں بات کروں تو میری زندگی کے فریم میں ایک ایک کر کے کئی کردار آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ دانشمند لوگ ، نیک چلن لوگ ، ترقی کا پیچھا کرنے والے مسافر ، وہ استاد نما دوست جن کے ہلکے پھلکے اشارے زندگی کا روٹ میپ متعین کر گئے ۔ پھر بھی یہ مشاہدے اس وقت کے ہیں جب شعور کی آنکھ کھل چکی تھی،وگرنہ ہر حساس انسان کے ہونے اور نہ ہونے کا منظرنامہ کسی ایسے نیم شعوری ماسٹر شاٹ پہ کھلتا ہے جس میں دو ایک کو چھوڑ کر کسی بھی شخص کی ’’سکرین پریزنس‘‘ اس کے لئے کوئی خاص معنی نہیں رکھتی ۔ اب تایا جان کو ، جن کی اہلیہ کی رحلت کئی ذاتی حوالوں کا ایکشن ری پلے دکھا گئی ، اپنی زندگی کے ماسٹر شاٹ کا فو کل پوائنٹ کہہ دوں تو یہ روایتی سی بات لگے گی، اس لئے لگے گی کہ آپ کی ہمارے تایا سے جان پہچان نہیں ۔

مثال کے طور پر آج کی اس دنیا میں کتنے تائے ایسے ہوں گے جنہوں نے ایک نشست میں مسلسل بائیس کپ چائے پی کر دادِ تحسین حاصل کی ہو ، آزادی سے پہلے علی گڑھ یونیورسٹی میں ایم اے ، ایل ایل بی کرتے کرتے فوج میں معمولی نوکری کر لی ہو ، محدود تنخواہ میں پانچوں بیٹوں کو شہزادوں کی طرح پالا ہو اور مالی مشکلات شدید تر ہو جانے پہ ذاتی مکان مارکیٹ پرائس سے ایک تہائی قیمت پر بڑے آرام سے فروخت کردیا ہو۔ایک دلچسپ واقعہ جسے سنانے کے لئے انہیں ریٹائرمنٹ کا انتظار کرنا پڑ ا اپنی سویلین طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہر مہینے کی پہلی سوموار کو پریڈ سے بچنے کی کوشش ہے،جس کے باوجود ایک دن جب سینیارٹی کے لحاظ سے اپنے دستے کی قیادت کرنا پڑ ی تو سلامی کے چبوترے سے کئی قدم آگے جا کر خیال آیا کہ سلیوٹ کرنا تو یاد ہی نہیں رہا ۔ یہاں خدشہ یہ ہے کہ ان اشاروں سے آپ کو یہ ایک ایسے آدمی کا خاکہ لگے گا جس نے لوگوں سے گریز کا رویہ اپنا لیا اور اپنی ہی ذات میں مورچہ بند ہو کر تماشائے اہل کرم دیکھتا رہا ۔ تماشا دیکھنے کی حد تک تو بات درست ہے مگر رویہ گرد و پیش سے بے زاری کا نہیں ، گہری دل چسپی کا تھا ، جس میں بانوے سال کی عمر میں دنیا سے جانے تک کوئی کمی نہ آئی ۔ ضلع سیالکوٹ کے گاؤں آلو مہار سے جامکے چیماں والے سکول اور پھر مرے کالج سے پرنس آف ویلز،جموں اور وہاں سے ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر کے ایس پی کالج ، سرینگر اور علی گڑھ تک ہر جگہ تایا جی کا وقت کلاس روم میں کم اور کرکٹ ، ہاکی اور کبڈی کے میدان میں زیادہ گزرا۔ یوں کسی بھی ’’لوز بال‘‘ پر چھکا لگا دینا یا ذرا سی غفلت سے اپنی ’’کلی‘‘ اڑوا لینا انہیں ہمیشہ ہست و بود کے کھیل کا ایک عام سا تماشا لگا ۔

یہ سپورٹس مین اسپرٹ نہیں تو اور کیا ہے کہ راولپنڈی میں ریٹائرمنٹ کے پچیس سال بعد بھی جس شام تاش کی محفل جمتی تو کھانا ختم ہوتے ہی تایا پتوں کی گڈی کو پچکارتے ہوئے بے تابی سے کہتے کہ’’پتر، اب وقت ضائع نہ کرو‘‘۔ یہ محفل ، جسے خاندان کے جُگتی بزرگوں نے تاش خوانی کا نام دے رکھا تھا ، ہر اختتام ہفتہ ہمارے پھوپھا میاں امین ، ان کے داماد گڈو ، میرے چھوٹے بھائی زاہد ملک اور خود تایا جی کے گھر باری باری برپا ہوا کرتی ۔ میری ہوش میں دو ہی آدمی ایسے گزرے ہیں جنہیں باون کے باون کارڈ زبانی یاد رہتے ہوں ، مگر ان میں سے ایک پیشہ ور پتے باز تھا، جس کا اس نجی محفل سے تعلق نہیں۔ویسے تایا کے بیاسی سال کی عمر کراس کر لینے کے بعد زاہد نے آہستگی سے کہا تھا ’’اب بآجی کو پتے یاد نہیں رہتے‘‘۔یہ لفظ ’’اباجی‘‘کا ایک منفرد مخفف ہے، بڑی بہن والی ’’باجی‘‘ نہیں۔

چونکہ زاہد ملک اپنی ایک ستارے والی جرنیلی تک والدین کے ساتھ ہی مقیم رہے،اس لئے لندن سے سمند پار چھٹیوں کے دوران میں نے بھی ہر یوم تاش پر اس گھر میں ایک ہلکے پھلکے جشن کی فضا دیکھی۔ تب تک تایا جی کاروباری سوجھ بوجھ اور دن رات محنت کی بدولت آسودہ حالی کی منزل کو پہنچ چکے تھے ۔ پھر بھی مجال ہے جو ان کی شرارت ملی حیا دار مسکراہٹ میں کوئی فرق آیا ہو ، بلکہ کسی عزیز کو لانے لے جانے کے لئے کار اور ڈرائیور بھیجنے کی بات کرتے تو یوں جیسے ہنسی کو ضبط کرنا آسان نہ ہو۔یہاں یہ خاندانی راز افشا کر دوں کہ تایا جی میرے والد کے پھوپھی زاد تھے مگر دونوں میں سے ایک تین بہنوں اور دوسرا چار کا اکلوتا بھائی۔انہوں نے اسی لئے ایک بار مجھ سے گپ مارتے ہوئے رازداری کے لہجہ میں کہا تھا ’’ساہنوں ایہہ دسیا گیا سی کہ تسی بھرا او ، پر ہن اوہ گل نئیں رہی‘‘ ۔

اس مقدمے کا چالان مرتب کرنے کے لئے جو واقعاتی شہادتیں جمع کیں ان میں امی مرحومہ کا یہ تاش مخالف بیان بھی تھا کہ ’’بھائی صاحب تو لڑکوں کے ساتھ مل کر رات رات بھر چائے اور سگریٹ پیتے رہتے ہیں ، اس لئے میں تو اپنے گھر میں صبح پانچ بجے ناشتہ کرا دیتی ہوں کہ یہ تاش کی بازی ختم ہو‘‘ ۔ بیان کے پیچھے صحت کی تشویش تھی مگر میں نے کہا کہ اگر بڑھاپے میں ’’بآجی‘‘ کو سچی خوشی میسر ہے تو یہ حسد کیسا ۔ وہ وقت یاد آیا جب خود ان کے گھر میں ، جہاں پانچوں بھائیوں نے باپ کے ساتھ مل کر کرکٹ کے پیویلین کا ماحول بنا رکھا تھا ، میں بھی علی الصبح بارہ بجے باجماعت ناشتہ کرتا ، اور چار پانچ گھنٹے بعد لنچ مل جاتا ۔ پھر رات بھر جناح سوپر ، آبپارہ اور مری روڈ کی سکوٹر گشت اور گھر لوٹتے ہی کسی ڈانٹ ڈپٹ کے بغیر لذیذ ترین کھانے اور تائی کے ہاتھ کے تازہ بہ تازہ پھلکے ۔

انہی دنوں میاں بیوی کو فارغ اوقات میں ’لوڈو‘ کھیلتے دیکھ کر احساس ہوا تھا کہ عمر بھر پیچ در پیچ راستوں پر ’بآجی‘ کی پیش قدمی ان کی اہلیہ کے کورنگ فائر کی بدولت تھی ۔ ہمیں بھی بچپن میں ان کی شفقت کی جو رسد گھر کی چھت پر چارپائیوں پہ لیٹے لیٹے ملی، اس میں شہزادی بدرالبدولت اور ’’آدھا بھائی جاگتا‘‘ والی کہانی کے علاوہ ستو ، دیسی گھی اور چینی کا وہ مزیدار آمیزہ بھی تھا ، جس کی بھر بھری مٹھاس کا ذائقہ آج بھی میری زبان پہ ہے۔تایا جی کی کمک کالج سکول کے انتہائی دلچسپ قصوں ، میر و غالب اور اقبال سے لے کر احسان دانش ، قتیل شفائی اور آذر عسکری کے اشعار کی صورت میں تھی یاسکول کی پڑھائی سے میری غفلت پر اٹھنے والے اعتراض کا یہ ڈھیلا ڈھالا جواب کہ یہ کالج میں جا کر چمکے گا ۔ سادگی دیکھیے کہ ان کی طرح میرا بھی خیال یہ ہے کہ میں کالج میں جا کر چمکا ۔

اپنی بانوے سالہ زندگی میں تایا جی نے میرے ساتھ دنیاداری کی ایک ہی بات کی اور وہ یہ کہ ’’پتر ، ایک دفعہ ذرا سی ایس پی کرکے تو دکھا دو ، نوکری بے شک نہ کرنا ‘‘ ۔ اب چکر یہ ہے کہ برٹرینڈ رسل کے چیلے کے طور پر مجھے ’طاقت‘ سے زیادہ ’’راحت‘‘ عزیز ہے ، اس لئے یہ جاننے میں بھی دلچسپی نہ تھی ، اور نہ اب ہے کہ صوبائی سے وفاقی سکرٹری بننے تک کتنا وقت لگتا ہے ، کس گریڈ کے افسر کا بریف کیس کون سے درجہ کا ملازم اٹھاتا ہے اور اعلی ملازمت کے کس مقام پر پہنچ کر اپنے گاؤں کی ساری مردانہ آبادی کو بیک وقت ’اندر‘ کرایا جا سکتا ہے ۔ میں نے تایا کو جسٹس ایم آر کیانی مرحوم کا ’’سی ایس پی کیا ہوتا ہے‘‘؟ والا قصہ تو نہ سنایا ، لیکن یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ ایک بیرونی نشریاتی ادارے میں کام کرنے کا ارادہ ہے ، جس کے لئے ہزار میں سے دو امیدوار پاس ہوئے ہیں ۔

تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ بزرگانہ خواہش میرے نظم شریک بھائی نے پوری کر کے دکھا دی، جس کے پیچھے اس کی خداداد ذہانت،وسیع مطالعے اور عملی سوچوں کو دخل تھا ۔ دو دہائیوں کی ریاضت کے بعد وہ ملک الشعراء تو نہیں بنا، مگر ’’پھرے ہے اتراتا‘‘ کے بغیر ’’شہ کا مصاحب‘‘ ضرور ہو گیا ہے ۔ اب شاہوں کے ساتھ شیخ سعدی والا وہی مسئلہ ہے کہ کبھی تو سلام کرنے پہ ناراض ہو گئے اور کبھی گالی سن کر خلعت سے نواز دیا ۔ پچھلی بار صاحب کو فون کیا تو پرائیویٹ سکرٹری کی ’سر ، آپ کون؟‘ کے جواب میں کوئی عہدہ ، محکمہ یا پے اسکیل بتانے کی بجائے میں نے گھبرا کر کہا تھا ’’جی میں۔۔۔ میں ایک نہائت نفیس آدمی ہوں‘‘۔دوبارہ کوشش اس لئے نہ کی کہ یہی سوال پھر بیچ میں آ گیا تو تایا کی طرح کہیں میرے منہ سے بھی یہ نہ نکل جائے کہ ہم بھائی تو ہیں ، مگر اب پہلی سی بات نہیں رہی۔

مزید : کالم


loading...