جماعت اسلامی ناکام نہیں ہے؟

جماعت اسلامی ناکام نہیں ہے؟
جماعت اسلامی ناکام نہیں ہے؟

  

جماعت اسلامی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے کوروناوائرس کی وباء کے تناظر میں ہی اسے دیکھاجائے تو الخدمت کے کارکنان راشن کی تقسیم، مساجد، ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر سپرے کرتے اور الخدمت کے سستی روٹی کے تندور وں پر مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ جماعت کے کئی لوگ ہنگامی امدادی سرگرمیوں کے دوران کروناوباء کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔2005ء کے زلزلہ متاثرین کی بحالی، یتیم بچوں کی نگہداشت کاپروگرام یا پھرسندھ میں ہندواکثریت کے پسماندہ علاقہ تھر میں الخدمت فاؤندیشن کے پراجیکٹس پر غور کیاجائے توکئی لحاظ سے اس کا کردار منفرد نظر آئے گا۔

اس سے قطع نظر کہ جماعت کوانتخابات میں کبھی کوئی بڑی کامیابی نہیں ہوئی لیکن یہ الیکشنز میں اپنے امیدوار میدان میں لاتی ہے اور وہ پاور پالیٹکس کے ماحول میں لوگوں کو اپناووٹ اقامت دین کیلئے استعمال کرنے کی دعوت دیتے ہیں چونکہ 98% مسلمانوں کے ملک میں دینی جماعتوں کا سیاسی عمل کا حصہ نہ بننا وطن عزیز کی اسلامی شناخت اور نظریہ پاکستان کو داؤ پر لگانے اور سیکولر اور دیگرمتفرق مفادات کی سیاست کیلئے گنجائش پیدا کرنے کے مترادف ہے اس لئے میدان کو خالی نہ چھوڑنا بھی جماعت کی بڑی کامیابی ہے ۔جماعت میں جمہوریت، مشاورت،ارکان جماعت کا اخلاقی معیاراور مقصدیت کی اہمیت کی بدولت تنظیم بھی مضبوط ہے اوراسے اچھی قیادت بھی میسر ہے۔ احتساب اور استصواب کے تسلسل نے جماعت اسلامی میں موروثیت یاخاندانوں اورشخصیات کے تسلط کا ماحول پیدا نہیں ہونے دیا۔ اس میں عام ورکر کی رائے کو اہمیت حاصل ہے۔ قیادت بھی ارکان سے ہی ابھرتی ہے۔ جماعت کے نصب العین پر یقین محکم،طریقہ کارسے اتفاق، قائدانہ صلاحیت و اہلیت، معاملہ فہمی اور جذبہ ایثار اگرکسی بھی رکن میں ہوتوقطع نظر اس کے سیاسی، معاشی یا معاشرتی پس منظر کے جماعت اسلامی میں قیادت کیلئے اسے اہل خیال کیاجاتا ہے دیگر بیشمار مثالوں کے علاوہ امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب سراج الحق اور امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ جماعت اسلامی کاورکر خواہ کسی بھی صوبہ یا علاقہ سے تعلق رکھتا ہو وہ اپنے فکروعمل میں اسلام اور پاکستان کیلئے یکسو ہوتاہے۔کوئی مانے یانہ مانے جماعت اسلامی دعوت دین، خدمت خلق اور اسلامی سیاست کے فروغ کے حوالے سے ایک ٹرینڈ سیٹر دینی و سیاسی جماعت ہے۔

جماعت کی جدوجہد کانصب العین بھی کوئی ایسا نہیں کہ کسی ذی شعور مسلمان کو اس سے کوئی اختلاف یا اعتراض ہواور جماعت اسلامی کے ورکر کے ہی کرنے کا کام ہوبلکہ یہ دین اسلام کا بہت اہم تقاضاہے۔ پاک وطن میں اسلامی معاشرے کاقیام اور اسے اسلامی تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنانا ڈاکٹر محمد اقبال ؒ کاتصور تھا۔ لیکن اکثر سوال اٹھایاجاتاہے کہ جماعت اپنی بہترین ساکھ کے باوجود اپنی جدوجہد میں کامیاب کیوں نہیں ہوئی؟ تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ عوام جماعت اسلامی کے مقابلہ میں جن لوگوں کو حق حکمرانی دیتے آرہے ہیں ان کا منشور، کردار اور کارکردگی کیاہے؟ مزید یہ کہ جماعت کے پروگرام کو عام فہم کرنے کیلئے سیاسی عمل کے جس تسلسل کی ضرورت تھی وہ میسر ہی نہیں رہااور خدا خدا کر کے اب کچھ ماحول بن رہاہے۔ دینی جماعتوں کے مسلکی تعصب اور سیاست سے گریز کے بھی جماعت کی سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ہندوستان میں سیّدمودودی ؒ ہی پہلے عالم دین ہیں جنہوں نے دین اسلام کی تعبیر بطور نظام ریاست اور طرززندگی کے کی ہے۔ اس سے قبل دینی حلقوں میں سیاست کی کوئی اہمیت یادلچسپی نہ تھی۔ شایداسی طرح کے طرزعمل کو دیکھ کر علامہ محمداقبالؒ کو کہناپڑا تھا کہ ’’جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو جداہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“۔ سیّدمودودی ؒ کی اسلامی سیاسی فکر سے بڑے مکاتب فکر کے علماء فوری طور پر تو ہم آہنگ نہ ہوئے البتہ قیام پاکستان کے بعدانہوں نے بھی سیاست کی ضرورت محسوس کرلی مگر الگ الگ۔لہٰذا دینی جماعتوں میں اتحادو یکجہتی بھی جماعت اسلامی کی جدوجہد کا اہم جزرہا ہے اورملی یکجہتی کونسل یا متحدہ مجلس عمل کا قیام کا تجربہ بھی اسی حکمت عملی کانتیجہ تھا۔

معاشرے کی اصلاح و تعمیر اور خدمت خلق کی دعویدار تواور بھی بہت سی دینی تنظیمیں ہیں مگر قرآن و سنت کی حکمرانی یعنی ملک میں ایسی جماعت کو اقتدار میں لانے کی جدوجہد جو نفاذ دین کافریضہ اداکرے اور اقوام عالم کے ساتھ پاکستان کے اسلامی ریاستی نظام کوچلا (Integrate)سکے۔ یہ کام جماعت اسلامی ہی مسلک اور فرقہ پرستی سے بالاترہوکر کررہی ہے لیکن سب دینی جماعتوں کی یہ اپروچ نہیں ہے البتہ تحریک لبیک پاکستان کی سیاست میں آنے سے ایک مثبت تبدیلی جو دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ کہ ایک خاص مکتبہ فکر سیاسی کردارکیلئے سیاسی طورپر منظم ہوتا دکھائی دے رہاہے۔ ملک میں اسلامی سیاست کے فروغ کے حوالے سے یہ بڑی پیش رفت ہے۔اس کی وضاحت مولانا سیّد مودودیؒ کی کتاب”شہادتِ حق“کے ایک اقتباس سے بہتر طور پر کی جاسکتی ہے۔انہوں نے 1946ء میں ایک سے زیادہ دینی جماعتوں کی موجود گی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہاتھا کہ ”بظاہر تو ایک ہی مقصداور ایک ہی کام کیلئے مختلف جماعتیں بنناغلط معلوم ہوتا ہے اور اس میں انتشار کابھی اندیشہ ہے مگر جب نظام اسلامی درہم برہم ہوچکاہو اور سوال اس نظام کے چلانے کانہیں بلکہ اس کے ازسرنو قائم کرنے کاہوتو آغاز کار میں اس کے سوا چارہ نہیں کہ اس مقصد کیلئے مختلف جماعتیں بنیں اور اپنے اپنے طور پر کام کریں۔ یہ سب جماعتیں ایک ہو جائیں گی اگر نفسانیت اور افراط و تفریط سے پاک ہوں۔ حق کی راہ پر چلنے والے زیادہ دیر تک الگ نہیں رہ سکتے۔“ یعنی مجموعی طور پردینی جماعتوں کی ملکی سیاست میں دلچسپی نفاذ دین کی جدوجہد کیلئے بڑی خوش آئند بات ہے۔

جماعت اسلامی نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک حکمرانوں کو نظریہ پاکستان یاد کرانے میں کبھی غفلت نہیں برتی۔ بانی پاکستان اورگورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناحؒ کی اجازت سے سیّد مودودیؒ کے ریڈیو پاکستان پر یکم جنوری 1948ء سے جولائی 1948ء تک نشر کئے گئے تمام لیکچرز کتابی شکل میں موجود ہیں۔ ان کے یہ لیکچرز اسلام کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی نظام کا احاطہ کرتے ہیں۔ سیّد مودودی ؒ کونوزائیدہ پاکستان کے امور میں قادیانیوں کے بہت زیادہ اثرورسوخ پربھی تحفظات تھے اور ”مسئلہ قادیانیت“ لکھنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ جنوری 1953ء میں مغربی اور مشرقی پاکستان کے تینتیس علماء کی کانفرنس میں قادیانیوں کے غیرمسلم ہونے اور انہیں مذہبی اقلیت قرار دینے پر تو سب کا اتفاق تھا البتہ ان کے ملکی سیاست پراثرورسوخ کی جو تفصیل مولانا نے مذکورہ کنونشن میں بیان فرمائی وہ بھی بڑی قابل غور ہے اور انٹرنیٹ پر http://www.irshad.org/info_m/writings/moududpq.php موجود ہے۔ مسئلہ قادیانیت لکھنے پر مولانا پر مقدمہ بنا اور پھانسی کی سزا ہوئی جو بعدمیں بیرونی دباؤ پر عمر قید اور پھرمکمل بریت پر منتج ہوئی اور تاریخ شاہد ہے کہ مولانانے اپنی پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کاحق استعمال کرنے سے انکار کیاتھا۔1956ء کے آئین میں جماعت نے اسلامی دفعات شامل کرائیں اور صدر ایوب خاں کے ساتھ دیگرمعاملات کے علاوہ اہم اختلاف یہ بھی تھا کہ اس نے 1962ء کے آئین میں اسلامی شقیں شامل کرنے سے انکار کیاتھا۔ جماعت اسلامی نے صدارتی انتخابات میں ایوب خاں کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دیاتھا۔ 1970ء کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی پاکستان پیپلزپارٹی کی بڑی حریف تھی۔ جماعت اور دیگر دینی جماعتوں کی پارلیمنٹ میں اچھی سیاست کے نتیجہ میں 1973ء کے آئین میں اسلامی دفعات شامل کرائی گئیں۔ درحقیقت پاکستان میں اقتدار اگر سیکولر جماعتوں کے پاس رہاہے تو اس کا یہ قطعی مطلب نہیں لوگ اسلام نہیں چاہتے۔ پاکستان کے عوام کو دین سے گہرا اور جذباتی لگاؤہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں 1973ء کے آئین میں اسلامی شقیں اور1974 ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے بل کا پاس ہونا اس وقت کی رائے عامہ کی ترجمانی تھی۔ 1977ء میں نظام مصطفی تحریک اور ناموس رسالت ﷺ کے ایشو پرفرقے اور مسلک بھول کر پوری قوم کا ایک ہوجانااسلام سے محبت کی دلیل ہے۔حالات نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ پاکستان کے صاحب اقتدار کتنے ہی طاقت ور ہوں اسلام سے متصادم کوئی فیصلہ یا قانون بنانے کی حیثیت میں نہیں ہوتے البتہ نفاذ اسلام کی راہ میں کچھ رکاوٹیں ضرور ہیں جو دور ہوسکتی ہیں بشرطیکہ سیاسی عمل کاتسلسل قائم رہے۔ ان میں پاورپالیٹکس، سیکولرز کاسیاست اور تعلیم میں اثرورسوخ اور غیرمحسوس طریقے سے پراپیگنڈا اور دینی جماعتوں کا مسلکی تعصب وغیرہ مقامی رکاوٹیں ہیں۔سیکولر مغرب بھی اسلام سے بڑا خائف ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ہمارا ہمسایہ دشمن بھارت سیاسی اسلام سے پریشان ہے وہ پاکستان کو دنیا سے الگ تھلگ کرنے کیلئے مغرب میں اسلامو فوبیا کو کیش کرنے کی کوشش میں ہے ۔ ً انٹرنیشنل وومن ڈے پر عورتوں کی احتجاجی ریلیز میں عورتوں کے ایسے حقوق کا مطالبہ کیاگیا جو سیکولر مغربی مزاج سے موافقت رکھتے تھے پس پردہ انڈین را تھی۔ مقصد دنیاکوپیغام دیناتھا کہ پاکستان میں اسلام پسندی کے باعث انسانی حقوق خصوصاً عورتوں کو آزادی میسر نہیں ہے ۔اس کامؤثر جواب پورے ملک میں جماعت اسلامی کی باپردہ خواتین کی ریلیز تھی جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ ”میراجسم میری مرضی“ پاکستان کی مسلمان خواتین کا نعرہ نہیں ہے بلکہ یہ خصوصی بندوبست ہے۔ پاکستان میں دشمن کا آلہ کار بننے والی خواتین سخت تنقید کا نشانہ بنی۔دراصل بھارت اس وقت کشمیرمیں بری طرح پھنساہوا ہے اور پاکستان کو کشمیریوں کی حمایت سے باز رکھنے کیلئے ایڑھی چوٹی کازور لگارہاہے۔بھارت میں یہ گمان غالب ہے کہ پاکستان میں سیکولر قوتیں ہی اس کیلئے آسانیاں پیداکر سکتی ہیں وہ ان کو استعمال کررہاہے۔ مسلمان کسی بھی فرقہ یا مسلک کاہواسلام اورپاکستان کے دشمن اس کو ایک ہی نظر سے دیکھ رہے ہیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الاّ اللہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پوری پاکستانی قوم سنجیدہ کوشش کرے اور اسے محض جماعت اسلامی کاہی معاملہ خیال نہ کیاجائے۔ دینی قوتیں اگر سنجیدگی سے اکٹھی ہوں گی اور پاکستان کے عوام کو ایک ہونے کا پیغام دیں گی تو عوام اپنے ووٹ سے یہ ثابت کریں گے کہ اسلام ہی ان کا مذہب، ثقافت، سیاست اور تمدن ہے اور باہر کی دنیا بھی پاکستان کی اسلامی حیثیت کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -