گھوسٹ ہاؤسنگ سکیمیں

گھوسٹ ہاؤسنگ سکیمیں
گھوسٹ ہاؤسنگ سکیمیں

  


لاہور ہائی کورٹ کا غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو مسمار کرنے کی بجائے قانون کے تحت باقاعدہ کرنے کا فیصلہ مستحسن کام ہے۔ اس فیصلے کی وجہ تو وہ سکیمیں ہیں جہاں کچھ گھر بن چکے ہیں اور ابھی تک وہ سکیمیں قانونی حوالوں سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پائیں۔ لیکن میں گھوسٹ سکیموں کے بارے میں کچھ بات کرتا ہوں جو عوام کو بری طرح سے لوٹ رہی ہیں۔

جب کوئی ہاؤسنگ سکیم بنتی ہے اور فروخت کیلئے پرکشش اشتہاری مہم اور دلفریب وعدوں کے جلو میں عوام کو پیش کی جاتی ہے تو کوئی سرکاری محکمہ حرکت میں نہیں آتا جو اسکے غیر قانونی ہونے کا نوٹس لے۔ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے سائٹ آفس بنتے ہیں اور موقع کے ارد گرد سکیم بنانے والے سرمایہ دار اور سرمایہ کار ،پراپرٹی ڈیلرز کو ذاتی خرچے پر جاذب نظر دفاتر بنا کر دیتے ہیں۔ سرمایہ کار بڑا ہو تو بہت بڑی تعداد میں مشینری کام شروع کر دیتی ہے اور دن رات کام ہوتا ہے۔اخباروں میں آدھے صفحے کے اشتہارات،ٹی وی چینلز پر ہر پانچ منٹ کے بعد خوابوں کی دنیا کو حقیقت میں بدلنے کا پیغام،سڑکوں کے دائیں اور بائیں جہازی بل بورڈز۔ پھر سب سے بڑا اور مضبوط اور دام یہ کہ پراپرٹی ڈیلروں کے ذریعے ممبرشپ فارم بازار میں آتے ہیں اورصبح خریدا گیا فارم شام تک دس ہزار کے منافع سے بکنے لگتا ہے۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے اور کوئی محکمہ حرکت میں نہیں آتا جو اس سکیم کے قانونی یا غیر قانونی ہونے کے باری عوام کو آگاہ کر سکے۔

احمد پانچ فارم خرید کر شام تک پندرہ ہزار روپے فارم کے حساب سے پینتالیس ہزار روپے کما لیتاہے تو وہ اپنے دوست نعیم کو بھی بڑے اخلاص کے ساتھ اس منافع بخش اور بہت کم سرمائے کے ساتھ ہونے والے کاروبار سے مستفید ہونے کا مشورہ دیتا ہے ۔یوں دیے سے دیا جلتا ہے اور جس کی لو روشنی دینے کی بجائے گھر کو ہی جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔فارم کی قیمت بڑھنا رک جاتی ہے اور پھر چند روز کے بعد واپسی کا سفر اختیار کرتی ہے۔

سائٹ پر مشینری دھیرے دھیرے کم ہونا شروع ہوتی ہے اوربالآخرکام بند ہو جاتا ہے۔ اس وقت تک بھی عموما کوئی محکمہ نمودار نہیں ہوتا۔ لٹے ہوئے لوگ واویلا مچاتے ہیں اور وہی اخبارات اور ٹی وی چینل جو پہلے بنا تصدیق سکیم کی اشتہاری مہم چلا رہی تھے آج ان لٹے ہوئے لوگوں کا ماتم دکھا رہے ہوتے ہیں۔

اور تب کہیں وہی محکمہ کوئی نوٹس لیتا ہے جس کے افسران اور ہرکارے ان سیٹھوں کے دفاتر میں بیٹھ کر دعوتیں اڑاتے ہیں اور مالی مفاد سمیٹے ہیں۔سیٹھ صاحب لوگوں کا کئی ارب روپیہ سمیٹ لیتے ہیں اور کچھ عرصہ زیر زمیں چلے جاتے ہیں۔ لوٹا ہوا روپیہ مالیاتی اداروں اور اندرون اور بیرون ممالک میں مختلف سکیموں میں لگا دیا جاتا ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر منافع آتا ہے۔

عوام کے پرزور احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کا دباؤ بڑھتا ہے تو سیٹھ صاحب کے ساتھ کھانا کھانے اور میٹھا کڑوا پانی پینے کی بیچ میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ طے شدہ طریقہ واردات کے مطابق اب نیب کو گرفتاری دینا فائدہ میں ہیں تو جناب سیٹھ صاحب آمادہ ہوتے ہیں اور نیب انہیں ڈھونڈھ کر گرفتار کر لیتی ہے ۔ لوگوں کی نظروں میں ہیرو بننے کا موقع پاتی ہے۔ سیٹھ نیب کی دوستانہ حراست میں شاہانہ تمکنت کے ساتھ رہتا ہے اور باہر کی نسبت کہ جہاں مظلوم اسے ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں زیادہ محفوظ زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ اس شاہانہ حراست کے دوران دو چار نسبتاً کم شاہانہ پیشیاں ہوتی ہیں اور جناب سیٹھ اربوں لوٹی ہوئی رقم سے کمائے جا رہے کروڑوں روپوں میں سے چند کروڑ دے کر عارضی آزادی پاتے ہیں۔

لٹے پٹے لوگوں کو ان سکیموں میں ڈیڑھ گنا قیمتوں پر پلاٹ آفر کرتے ہیں جہاں ان کے بک کر پیسے کی وصولی کے کوئی امکانات نہیں ہوتے۔ اپنے جلے ہوئے گھروں کے ملبے پر بیٹھے لوگ کسی موہوم آس پر ان زمیں بوس پلاٹوں کا مل جانا بھی غنیمت جانتے ہیں اور مزید تباہی میں گھر جاتے ہیں۔ بسا اوقات ملنے والا پلاٹ ان کی سیٹھ کے ذمہ رقم سے زیادہ کا بیان کیا جاتا ہے اور رقم نکل آنے کی موہوم امید پر اسے کچھ مزید رقم دے کر مذکورہ پلاٹ خریدتے ہیں اور یوں مذید رقم سیٹھ کی عیاری کی نذر کرتے ہیں۔ اس طرح سے محترم سیٹھ صاحب کی کسی ڈوبی ہوئی سکیم کی وہ لاٹ بھی بک جاتی ہے اور سیٹھ کی بیرونی سکیموں اور مالیاتی اداروں اور بین الا قومی کمپنیوں کے حصص کی خریداری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس سارے مکروہ دھندے میں عموماً وہ ڈیلر بھی شامل ہوتے ہیں جنہوں نے سیٹھ کی اس سکیم کیلئے لوگوں کو سہانے خواب دکھا کر پیسہ ہتھیایا ہوتا ہے۔ ان کے ہاتھ بھی اس بہتی گنگا میں دھلتے رہتے ہیں۔غریب عوام کی محنت کی کمائی ، بیٹیوں کی شادیوں کیلئے پس انداز رقم،ریٹائرمنٹ پر ملے ہوئے پیسے، حج پر جانے جانے کیلئے جوڑا ہوا ایک ایک روپیہ ان سیٹھوں کی سفاکی اور محکموں کی حرام خوری کی نذر ہوجاتا ہے۔یہ ظلم و بربریت کی وہ کہانی ہے جو پچھلے تین سالوں سے خصوصاً لاہور میں دھرائی جا رہی ہے۔ سکیمیں بنتی ہیں، سیٹھ پیسہ سمیٹتے ہیں اور لوگوں کو قبر تک پہنچا دیتے ہیں۔ ایل ڈی اے محض فاتحہ خوانی کیلئے آتاہے۔یا پھر وہ بھی کبھی کبھار ایک ادھ اشتہار لگا کر اپنی ذمہ داری کردیتا ہے کہ خبردار،یہ سکیمیں ایل ڈی اے سے منظور شدہ نہیں۔لیکن اس سے عوام کو کچھ سمجھ نہیں آتی ۔ہونا تو یہ چاہئے جیسے ہی کوئی گھوسٹ سکیم منظر پر آئے ایل ڈی اے فوری طور پر میدان میں آکر عوام وک لٹنے سے بچائے اور اسکی تمام اشتہاری ختم کرادے ۔

کوئی بھی سکیم زمین سے اچانک نمودار نہیں ہوتی اور ماہ ریگ کی مانند پلک جھپکے میں غائب نہیں ہو جاتی۔ اگر ہر محکمہ اپنا کردار دیانتداری سے ادا کرے تو عوام کو لٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ حکومتی افسران اور کارندوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ جب کوئی غریب لٹتا ہے اور گھر کے گھر برباد ہوتے ہیں تو اس گناہ میں وہ بھی برابر کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں جو لٹیروں کو موقع فراہم کرتے ہیں۔کسی بھی سکیم کو تمامتر قانونی تقاضے پورے کیے بنا سکیم کی اشتہاری مہم اور اسکے افتتاح کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔میڈیاپر بھی لازم ہے کہ وہ محض پیسہ کمانے کے پیچھے نہ دوڑیں بلکہ خود پر عائد اخلاقی ذمہ داری کو نبھائے اور اس وقت تک اشتہاری مہم جاری نہ کرے جب تک سکیم کے تمام قانونی تقاضے پورے نہیں ہو جا تے۔ اور اگر کہیں اغماز برتا جا رہا ہو تو پیمرا کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ عوام کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ لالچ نہ کریں اور ایسے رنگیں جال میں نہ پھنسیں۔ لالچ کو بری بلا اسی لیے کہا گیا ہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...