اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 33

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 33

  

میں نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ دریائے فرات کا پاٹ زیادہ چوڑا نہیں تھا۔ وہ آج کے پاکستان کی کسی بڑی نہر جتنا تھا۔ میں تیرتا ہوا دریا کے دوسرے کنارے پر نکل آیا۔ کنارے کی جھاڑیوں اور نرسلوں میں بیٹھ کر میں نے ایک بار پھر اپنے سارے جسم کو دیکھا۔ کسی جگہ پر جلنے کا ذرا سا بھی نشان نہیں تھا۔ نہ کہیں کوئی آبلہ پڑا تھا۔ مجھے پورا پورا یقین ہوگیا کہ خواہ کچھ عرصے کے لئے ہی سہی مگر میں موت کی گرفت سے نکل چکا ہوں۔ دیر تک دریائی جھاڑیوں میں بیٹھا میں اپنی حالت اور آنے والے واقعات و حادثات کے امکانات پر غور کرتا رہا۔ اس وقت میرے لئے سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ میں فطری لباس میں تھا۔ مجھے کپڑوں کی ضرورت تھی۔ مجھے کچھ گھڑ سوار دریا کی طرف آتے دکھائی دیئے۔ شایہ یہ رات کو پہرہ دینے والا دستہ تھا۔ میں نے دریا میں چھلانگ لگا دی اور لہروں کے بہاؤ پر تیرنے لگا۔ میں نے اپنے آپ کو دریا کی سرد لہروں کے حوالے کر دیا۔

رات ڈھلنا شروع ہوگئی۔ ستاروں کی چمک ماند پڑتی گئی۔ میں نے سراٹھا کر دیکھا۔ دریا کے دونوں کناروں پر کوئی آبادی نہیں تھی۔ آج سے تین سوا تین ہزار سال پہلے آبادی صرف شہروں اور ان کے آس پاس چند ایک دیہات تک ہی محدود ہوا کرتی تھی۔ کوسوں تک زمین ویران اور بے آباد ہوتی تھی۔ دن نکل آیا۔ دھوپ میں میدانوں کی ریت چمکنے لگی۔ میں دریائے فرات کی لہروں پر بہا چلا جا رہا تھا۔ اب مجھے واپس بابل جانے کی حاجت نہیں تھی کیونکہ شاہ حموربی اور اپنے فرضی ماں باپ اور بہن بھائی کے لئے میں مر چکا تھا اور میرے لاش جلادی گئی تھی۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 32پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دریا کا پاٹ ایک رتیلی وادی میں سے گذرتے ہوئے چھوٹا ہوگیا تھا وہ ریت کے ٹیلوں کے درمیان سے ایک طرف مڑ گیا تھا۔ یہاں کنارے پر ایک جگہ زیتون اور کھجور کے جھنڈ تھے۔ میں نے ایک چروا ہے کو دیکھا جو بھیڑوں کے لئے سر سبز میدان کی طرف جا رہا تھا۔ میں نے اسے آواز دی۔ وہ رک گیا اور پلٹ کر مجھے تکنے لگا پھر وہ دریا کے کنارے پر آکر ٹھہر گیا۔ میں تیرتا ہوا کنارے کے قریب آیا اور کہا کہ میں دریا میں نہانے کے لئے اترا تھا کہ چور میرے کپڑے چرا کر لے گئے۔ کیا تم مجھے کپڑے کہیں سے لا کر دے سکتے ہو؟ چرواہے نے کہا۔میں ابھی گھر جاتا ہوں اور تمہارے لئے ایک جوڑا لاتا ہوں۔ میں دریا میں کمر تک ڈوبا رہا۔ کچھ دیر بعد چرواہا واپس آیا ۔ اس نے مجھے ایک لمبا کرتہ اور تہبند دیا۔ میں تہبند باندھ کر دریا سے باہر آگیا اور چرواہے کا شکریہ ادا کیا۔ میں نے اس سے راستے کے بارے میں پوچھا کہ آگے کونسا شہر ہے۔ اس نے بتایا کہ آگے یروشلم کا شہرہے جو اپنی اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ میں پیدل ہی یروشلم کی طرف روانہ ہوگیا۔

تین دن اور تین راتیں میں سنگلاخ رتیلے میدانوں اور صحراؤں میں سفر کرتا رہا اور چوتھے روز مجھے دور سے قدیم تاریخی اور مذہبی شہر یروشلم کے ہیکل سلیمانی کا گنبد دکھائی دیا۔ یروشلم ایک وسیع و عریض شہر تھا جس کی بلند فصیل نے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ فصیل کے بارہ دروازے تھے اور ہر دروازے پر ایک نگران برج تھا جہاں فوجی دستے دن رات پہرہ دیتے تھے۔ ہیکل سلیمان شہر کے وسط میں تھا۔ ایک مستطیل نما عمارت تھی جس کے چار دروازے تھے اور کونوں پر مینار بنے ہوئے تھے۔

شہر میں کچھ بے چینی کے آثار پائے جاتے تھے۔ ایک بوڑھا یہودی سرائے کے باہر بیٹھا تخت پر تسبیح پھیر رہا تھا۔ اس سے باتیں کرنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ بیت المقدس پر اشوری بادشاہ بخت نصر کے حملے کا خطرہ ہے۔ میں چونکا کیونکہ ابھی تین دن پہلے بابل پر اشوری بادشاہ حمورابی حکمران تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میں نے تین دنوں میں تاریخ کی شاہراہ پر دو سو برس کا فاصلہ طے کرلیا تھا۔ حموربی کا عہد ختم ہوچکا تھا اور اب بابل پر بخت نصر حکومت کرتا تھا۔ جویہودی قوم کا دشمن تھا اور جس نے بابل میں معلق باغات کی بنیاد رکھی تھی۔ میرے پاس اس ملک کا ایک بھی سکہ نہیں تھا۔ اگرچہ میں کھانے پینے اور سونے سے بے نیاز تھا پھر بھی شہر میں رہنے کے لئے کچھ پیسوں کی ضرورت تھی۔ میں نے سرائے میں سامان ڈھونے اور اونٹوں پر لادنے کا کام شروع کردیا۔ اس نئے شہر اور نئے عہد میں میری حیثیت کا کوئی تعین نہیں ہوا تھا۔ یعنی میں یروشلم میں عاطون ہی کی حیثیت سے وارد ہوا تھا اور یہاں مجھے ایک یہودی پردیسی کے طور پر جانا جاتا تھا۔

میں نے کچھ دن یروشلم میں رہنے کے بعد دیکھا کہ قرآن حکیم میں بعد میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی جن بداعمالیوں اور نفاق اور احکام الہیہ سے انحراف کا ذکر فرمایا یہ قوم ان کا شکار تھی۔ قبیلے آپس میں برسر پیکار تھے۔ دولت کا حصول ہی زندگیوں کا مقصد اعلیٰ تھا۔ نوجوان نسل بے حیائی اور فسق و فجور میں مبتلا تھی۔ برگزیدہ پیغمبروں کے دیئے ہوئے اخلاقی ضابطوں کو پس پشت ڈال کر دولت اور دنیاوی آسائش کو ترجیح دی جا رہی تھی۔ ہر کوئی دولت کی لوٹ کھسوٹ میں مشغول تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اس قوم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہلاکت آفریں لعنت مسلط ہونے والی تھی کیونکہ ان کے اعمال ایسی ہلاکت کے متقاضی تھے۔

ایک روز شام کے وقت کام سے فارغ ہو کر میں ہیکل سلیمانی کے عقب والے زینوں میں باغ میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ ہیکل سلیمانی سے مناجات پڑھنے کی صدائیں آرہی تھیں۔ باغ ویران ویران سا تھا۔ کچھ گھڑ سوار باغ کے پہلو سے گذرتی کچی سڑک پر سے گھوڑے دوڑاتے گزر گئے۔ پھر کچھ پریشان حال عورتوں اور آدمیوں کو میں نے دیکھا کہ روتے گڑ گڑاتے ہوئے ہیکل کے دروازے کی طرف جا رہے تھے۔ شام ہو رہی تھی۔ سورج یروشلم کی پہاڑیوں کے پیچھے غروب ہو رہا تھاا ور فصیل شہر اور ہیکل سلیمانی کے سائے لمبے ہو رہے تھے۔ ہیکل کے اندر سے مناجات کی آوازوں میں آہ زاری کا رنگ غالب آگیا تھا۔ میں واپس سرائے میں جانے کے لئے پلٹا ہی تھا کہ اچانک دو حسین نورانی چہروں والے جوان، جن کی پیشانیاں ستاروں کی طرح روشن تھیں اور لباس پاکیزہ اور بے داغ تھا میرے سامنے آکر کھڑے ہوگئے۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں نے ان کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔ میں ابھی اسی تذبذب میں تھا کہ ان میں سے ایک نورانی شخص نے کہا۔

’’ تم نے ہمیں پہچانا نہیں۔ ہم چاہ بابل کے جہنم میں ایک ساتھ رہے ہیں۔‘‘یہ سنتے ہی میں چونک اٹھا ۔

(جاری ہے... اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار