’’پنجابی زبان دے فروغ‘‘وچ میڈیا دا کردار کے موضوع پر سیمینار

’’پنجابی زبان دے فروغ‘‘وچ میڈیا دا کردار کے موضوع پر سیمینار

لاہور(فلم رپورٹر)پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک) کے تحت ’’پنجابی زبان دے فروغ وچ میڈیا دا کردار‘‘ کے موضوع پر ایک گفتگو کا اہتمام کیا گیا جس میں پنجابی زبان اور ماں بولی کے حوالے سے روزنامہ ایکسپریس سے منسلک معروف دانشور اور صحافی لطیف چوہدری نے اپنے خیالات کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہم سب کو پہلے اپنی ذات پر اپنی زبان کو لاگو کرنا چاہیے اور پھر حکومت سے مطالبہ کر کے اِس کو نافذ کروانا چاہیے۔ سرمایہ دار طبقے کو اِس کام کے لیے قائل کرنا چاہیے کہ وہ بھی اس مِشن کے لیے آگے بڑھیں اور پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر وقت خرید کر اِس مسئلے کو زیر بحث لانے میں کردار ادا کریں اِسی طرح اپنی دھرتی سے سچی محبت کا ثبوت دینے کے لیے ہر طبقہ فکر کو اپنی اپنی سطح پر متحرک ہونا چاہیے۔ دانشوروں کو چاہیے کہ وہ عام لوگوں کے شعور کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کے لیے انہیں زبان سے مطلق ثقافتی و تاریخی اہمیت سے روشناس کروائیں۔ ڈاکٹر صغری ٰصدف نے پوری بحث کو اختصار کے ساتھ آخر پر بیان کیا اور اِس بات کا اعادہ کیا کہ اِس طرح کے پروگرام جاری رکھے جائیں گے انھوں نے تمام پرنٹ میڈیا سے درخواست کی کہ وہ اگر اُردو اخبارات کا ایک صفحہ پنجابی زبان کے لیے مختص کر دیں تو پنجابی زبان ہر گھر میں پہنچ جائے گی۔ گفتگو میں شریک محمد اشرف عاصمی، انیس احمد، طارق جٹالہ، سعدیہ، خاقان حیدر غازی اور عاصم چودھری نے تاریخی اور سیاسی حوالے سے اس موضوع پر بھر پور بحث کی جس کو حاضرین نے بہت سراہا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1