سنو دنیا ، ہمیں  گولڈ میڈل کی ضرورت نہیں ۔۔۔

سنو دنیا ، ہمیں  گولڈ میڈل کی ضرورت نہیں ۔۔۔
سنو دنیا ، ہمیں  گولڈ میڈل کی ضرورت نہیں ۔۔۔

  

میاں چنوں کے چھوٹے سے گاؤں ایک عام سے گھر میں ایک ٹی وی چل رہا ہے جس پر اولمپک گیمز کی لائیو کوریج آ رہی ہے، اردگرد کے گھروں کے لوگ بھی جمع ہیں اور ٹی وی پر ایک نوجوان کی جھلک دیکھنے کو بے تاب ہیں۔

ان گنت  ٹی وی کیمروں کی روشنی  میں  الگ تھلک نیم تاریک کمرے میں ایک  ماں   اللہ تعالیٰ کے حضور   سربسجود ہے۔ ڈھول کی تھاپ، رپورٹرز    کے شور اور کیمرے لگانے کے لئے ایک دوسرے کو دھکے دینے والوں سے بے نیاز  اُس ماں کے  ہاتھ دعا  کے لئے اٹھے ہیں، لبوں پر ایک ہی دعا ہے، کہ اُن کے بیٹے کو کامیابی ملے۔  کچھ دیر میں میڈلز کی دوڑ ختم ہوگئی۔

 ٹوکیواولمپکس میں اس ماں کا بیٹاارشد ندیم گولڈ میڈل تو نہ جیت سکا لیکن کروڑوں پاکستانیوں کے دل جیتے لئے ، آخری لمحات میں دومیٹرکافاصلہ اُن  کی منزل میں رکاوٹ بن گیا۔   چند گھنٹوں کے بعد ٹی وی اسکرینوں سے یہ خبر بھی غائب ہونے لگی اور  میڈیا ایک نئے اشو کی طرف چل پڑا، مگر اپنے پیچھے ان گنت سوال  چھوڑ گیا۔

کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ  ارشد ندیم  کو نہ وائلڈکارڈ ملا نہ انوی ٹیشنل انٹری، نہ ہی انہوں نے ریجنل کوٹہ   سسٹم کاسہارا  لیا بلکہ صرف اپنےزوربازو پر اولمپکس کے لئے کوالیفائی کیا۔ انہیں تو ساؤتھ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل نے ٹوکیوکےمیلےمیں انٹری دلائی ہے۔

 کھیلوں کی اصطلاح ہےکہ چیمپین کبھی ہارنہیں مانتا، وہ لڑتا ہےاور کامیابی حاصل کر تا ہے، ارشد ندیم چیمپئن ہے،وہ لڑے گااور منزل تک پہنچے گا، لیکن کیا اس نظام کو پوچھنے والا کوئی نہیں  ہے؟کیا کھیلوں کی وزارت، کھیلوں کے وزیر صرف ٹویٹ تک محدو رہیں گے؟ وفاقی سطح پر کھیلوں کی وزیر صاحبہ غور فرمائیں گی کہ وہ کیا حالات تھے جو ناکامی کا باعث بنے؟اس پہلو پر کون غور کرے گا  کہ گولڈ میڈل جیتنے والے بھارتی نوجوان  کو وہاں کی حکومت تربیت دلانے کس ملک میں لے کر گئی؟ اس کو بڑے بڑے سپانسرز کیسے ملے اور کس نے دلائے؟جبکہ اس کے مقابلے میں ہمارے ایتھلیٹ کے ساتھ کیا ہوا؟  

 ایک پسماندہ سے گاؤں میں ارشد ندیم کا ٹوٹا پھوٹا گھر ہے، مشکل ترین معاشی حالات ہیں، بہترین تربیت کا کوئی  خاص انتظام نہیں، ایتھلیٹ کی حیثیت سے  انہیں ماہرین کی نگرانی میں جو غذا درکا ر ہے، اُس کا تصور تک نہیں ہے۔ ان تمام تر برے حالات کے باوجود ارشد ندیم کا فائنل تک رسائی کرنا  ثابت کرتا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں ٹیلنٹ اور حوصلے کی کمی نہیں ہے لیکن یہ ٹیلنٹ اور حوصلہ بہترین تربیت، ٹرینگ کی جدید سہولیات اور ماہرین کی تجویز کردہ غذا کے بغیر ادھورا ہے۔

اس تقریب کو پاکستان اور بھارت سمیت پورے دنیا میں تقریباً دو ارب لوگوں نے براہ راست دیکھا  ،  فتح کا سہرا جب دوسرے ملکوں کے ایتھلیٹس کے سر پر سجا تو قوموں کے سر فخر سے بلند ہو گئے، لیکن جب ہم ہار گئے تو اپنی شکست کی بنیادی وجوہات تلاش کرنے کے بجائے صاحبان اقتدار و اختیار نے ٹویٹر کا میدان سنبھالا اور ٹویٹ پر ٹویٹ کرنے لگے۔

پاکستان کے 10 میں سے 9 کھلاڑی اور ایتھلیٹ ٹوکیو اولمپکس سے بغیر کوئی میڈل جیتے ناکام لوٹے ہیں جبکہ پاکستان کی ہاکی ٹیم لگاتار دوسرے اولمپکس مقابلوں میں کوالیفائی نہیں کر پائی۔دوسری جانب ہاکی کی طرف بھی نظر دوڑائیں تو سرشرم سے جھک جاتا ہے کہ پاکستان دوسری بار قومی کھیل ہاکی میں مسلسل دوسرے سال بھی کوالیفائی تک نہ کر سکا۔ ماضی میں  ہماری قومی ہاکی ٹیم نے 3 بار چیمپئنز ٹرافی، 8 بار ایشیئن گیمز، 3 بار ایشیاء کپ، 2 بار  ایشیئن ہاکی چمپئین ٹرافی کے ٹائٹل میں گولڈ میڈلز اور بڑے مقابلوں کی تاریخ میں تقریباً 70 میڈلز اپنے نام کئے لیکن اب یہ سب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔

اب ان حالات میں کچھ گذارشات ہیں کہ   کھیلوں کی پالیسی پر نظرثانی کے لئے مستند کھلاڑیوں، عالمی سطح کے کوچز اور عالمی معیار کی پالیسیاں مرتب کریں۔ تمام صوبوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعے کھیلوں کی ترویج اور ترقی کیلئے موثر اور جانداراقدامات کریں۔  کھیلوں کے شعبے میں اصلاحات کا عمل ناگزیر ہو گیا ہے۔ ان تمام کھیلوں میں سنجیدہ اور مخلص ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں بنائی جائیں جو وجوہات کا احاطہ کریں اور ایک مقررہ مدت کے اندر قابلِ عمل تجاویز دیں جنکا جائزہ لینے کے بعد اعلیٰ ترین سطح پر منظوری دی جائے۔ 

جناب وزیراعظم، میں ہمیشہ کہتی رہی ہوں، آپ میری اور تمام لڑکیوں کی آخری امید ہیں، آپ عظیم کرکٹر ہیں، سیاست میں بھی آپ نے فتح کے جھنڈے گاڑھے ہیں، آپ کی خدمت میں یہ گذارش ہے کہ نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے سے ملک میں پاکستان سے زیادہ کرکٹ گراؤنڈ ہیں، تو پھر آپ جیسے کرکٹ لیجنڈ کی موجودگی میں ہمارے کھیلوں کا یہ حال کسی بھی پاکستان کو رُلا دینے کے لئے کافی ہے۔

(زینب وحید ماحولیاتی تبدیلی کیلئے کام کرنے والی معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور کیمرج کی طالبہ ہیں۔ وہ صف اول کی مقررہ،مصنفہ اورمتعددشہرت یافتہ اداروں کی سفیربھی ہیں ۔ زینب وحید مضمون نویسی کے متعدد بین الاقوامی مقابلے بھی جیت چکی ہیں جس کے بعد انہیں اقوام متحدہ کی یوتھ سمٹ میں شامل کیا گیا ، زینب وحید سے رابطے کے لئے ان کے فیس بک اور ٹویٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

twitter.com/UswaeZainab3

facebook.com/uswaezainab.official)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -