سری لنکن شہری کا بہیمانہ قتل، وفاقی دارالحکومت میں سوچ کے گہرے بادل، سری لنکن عوام اور حکومت کا مناسب ردعمل

سری لنکن شہری کا بہیمانہ قتل، وفاقی دارالحکومت میں سوچ کے گہرے بادل، سری ...

  

سہیل چودھری

سیالکوٹ کے واقعہ نے اسلام آباد کو بھی دہلا دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے تو بروقت خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی کہ انتہا پسندوں کے ہاتھوں کسی سیاسی مصلحت کے تحت سرنگوں ہونا ملکی مفاد میں نہیں انہوں نے متنبہ تو کیا لیکن طاقت کے مراکز نے ان کی سنی ان سنی کر دی۔ انہوں نے اس کے بعد بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا اور واشگاف انداز میں کہا کہ جگہ جگہ بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں لیکن ملک میں جاری پاور پالیٹیکس کا کھیل ایسی دوررس اور دور اندیشی کے وسوسوں کو کسی خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔ اب ہر شخص شرمندگی کا اظہارکر رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے خود کہا ہے کہ ”سر شرم سے جھک گئے کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی“ آئندہ کے لئے واضح حکمت عملی اپنائی جائے۔ بہر حال سیالکوٹ واقعہ کے تناظر میں سیاسی و عسکری قیادت کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ وزیر اعظم ہاؤس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید سمیت اہم اداروں کے سربراہان نے وزیر اعظم کی قیادت میں سیر حاصل بحث کی اور انتہا پسندی کے حوالے سے ایک مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ نیشنل آڈیشن پلان کا بھولا بسرا راگ پھر سے گونجنے لگا ہے گزشتہ کچھ عرصہ سے بعض ایسے سنگین واقعات رونما ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں کہ قانون کی عمل داری بھی ایک انتہائی مشکل چینلج بن کر سامنے آ گئی ہے۔ عوام کی بنیادی انسانی حقوق سے محرومی تو درکنار انہیں ان حقوق کی آشنائی بھی میسر نہ ہونے سے غربت اور جہالت بعض نام نہاد مقاصد کے تحت معاشرہ میں ایک عفریت کی شکل اختیار کر رہے ہیں ملکی سیاست میں انتہا پسندی کے بیج بونے کا سلسلہ تا حال جاری ہے جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان کی صورتحال اس بوئی جانے والی فصل کو کھاد کی فراہمی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس تناظر میں حکومت اور ریاست کو مہیب چیلنجز کا سامنا نظر آ رہا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت انتہا پسندی کے اس منہ زور طوفان کے آگے کوئی بند باندھنے میں کامیاب ہو پاتی ہے کہ نہیں بلکہ ابھی یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ کیا حکومت کے اعلان اور اقدامات صرف نمائشی ہیں یا حکومت اس میں واقعی سنجیدہ ہے کیونکہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے اس واقعہ پر جس طرح اپنے جذبات اور دل کا حال بیان کیا ہے اس پر تمام اعتدال پسند حلقے ششدر ہیں۔  پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا گردباد ایک ایسے وقت میں بلند ہو رہا ہے جب مغربی دنیا پہلے ہی اسے افغانستان کی بنا پر شک کی نظروں سے دیکھ رہی ہے اور پاکستان عالمی سطح پر بالخصوص امریکہ کے سامنے اپنی صفائیاں دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا بازو مروڑ رکھا ہے جبکہ ملک بہت حد تک آئی ایم ایف کے چنگل میں بری طرح پھنس چکا ہے ایسے میں سیالکوٹ جیسے واقعہ سے نہ صرف پاکستان کی ساکھ عالمی سطح پر مزید متاثر ہوئی ہے بلکہ جی ایس پی پلس کی سہولت پر لٹکنے والی تلوار کے خطرات میں مزید اضافہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے پاکستان اپنی داخلی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی صورتحال کے بنا پر عالمی سطح پر خطرات میں گھرتا جا رہا ہے۔ سیالکوٹ واقعہ درحقیقت جی ایس پی پلس کے خلاف ایک سازش کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے لیکن آفرین ہے سری لنکن قوم کے جس نے پاکستان کے حوالے سے کوئی غیر ضروری ردعمل نہیں دیا بلکہ سری لنکن ہائی کمیشن نے پاکستان کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سری لنکا کے ہائی کمشنر وائس ایڈمرل (ر) موہن وجے کرما ایک قد آور شخصیت کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔ سری لنکا میں پاکستانی سفارتخانے نے بھی صورتحال کو نیوٹرل کرنے میں ایک متحرک کردار ادا کیا ہے۔ 

وفاقی دارالحکومت کا موسم خاصا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ بالائی پہاڑی علاقوں میں بارش اور برفباری سے سردی میں مزید اضافہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے جبکہ سردی کی آمد کے ساتھ ہی چولہوں سے گیس غائب ہو گئی ہے چولہے اور پانی گرم کرنے کے گیزر کام چھوڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے آئندہ آنے والے دنوں میں ان مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ حتی کہ مہنگائی، بے روز گاری اور گیس سے محروم عوام نے اپوزیشن پر نظریں جمائی ہوئی تھیں لیکن اپوزیشن نے بھی ٹھنڈ ہی رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے ٹھنڈے ٹھار دل بہلانے والے احتجاجی لائحہ عمل کے اعلان سے عوام کی امیدوں پر بھی اوس پڑ گئی ہے۔ پی ڈی ایم نے سردیاں آرام سے گزارنے کے بعد مارچ میں مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کونسا مارچ ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ پی ڈی ایم کے پاس موجودہ صورتحال سے عہدہ براہ ہونے کا کوئی ٹھوس لائحہ عمل ہے نہ ہی انکا آپس میں اتفاق ہے۔

 لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے کے نتیجہ نے وفاقی دارلحکومت کی سیاست پر بھی اثرات مرتب کئے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی آنکھوں میں پھر سے چمک عمود آئی ہے۔ اسے یہ تاثر مل رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں روٹھ کر جانے والے ووٹر بددل ہو کر پھر سے واپس گھر آنے لگے ہیں۔ لاہور کے انتخابی حلقے سے جو نتائج سامنے آئے ہیں اس نے پھر سے پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں دوریاں پیدا کر دی ہیں اور پھر سے پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔ مارچ میں مارچ کا اعلان صرف اپنے ووٹروں کے دل بہلانے کا خیال لگتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے دلچسپ تبصرہ کیا ہے کہ پی ڈی ایم اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں بعض حلقوں کا دعوی ہے کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن بھی ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کامیاب جوان پروگرام کے تحت سپورٹس ڈرائیو کی ایک تقریب میں شرکت کی جس میں ہزاروں نوجوانوں نے شریک ہو کر وزیر اعظم کا خطاب سنا۔ یہ ایک بھرپور پاور شو تھا جس میں وزیر اعظم عمران خان نے یہ تاثر دیا کہ وہ اب بھی نوجوانوں کے مقبول ترین رہنما ہیں۔

 سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ایک اہم اجلاس پارلیمینٹ ہاؤس میں ہوا تاہم اپوزیشن نے اس اجلاس میں شرکت کی نہ ہی اہم حکومتی وزراء اس میں شریک ہوئے لیکن اس اجلاس میں ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی پیش کی گئی یہ ایک اہم پیش رفت ہے، وفاقی دارالحکومت میں آئے روز ڈکیتی، چوری کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ماضی میں خال خال کوئی واقعہ ہوتا تھا لیکن اب وارداتیں معمول بن گئی ہیں۔ اس وجہ سے آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمن کو ہٹا دیا گیا ہے اور ڈی آئی جی احسن یونس کو آئی جی لگایا گیا ہے۔

انتہا پسندی کا عفریت، سیاسی عسکری قیادت نے سر جوڑ لیا، کسی غیر قانونی حرکت کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

حکومت کی ناکامی کا شور، اب اپوزیشن بھی ناکام، پی ڈی ایم بھی درست فیصلے نہ کر پائی 

مزید :

ایڈیشن 1 -