حضرت سید نفیس الحسینی ؒ .........ایک عہد ساز شخصیت

حضرت سید نفیس الحسینی ؒ .........ایک عہد ساز شخصیت

  

برائے اشاعت8فروری بروز جمعۃ المبارک بسلسلہ یوم وفات

تحریر: جسٹس (ر)مفتی محمد تقی عثمانی

حضرت سید نفیس شاہ صاحبؒ ؒ کو اللہ تعالیٰ نے ظاہر و باطن کی ایسی دلآویز خصوصیات سے نوازاتھا جو خال خال ہی کسی ایک شخصیت میں جمع ہوتی ہیں، وہ انتہائی خاموشی کے ساتھ اُمت کی گرانقدر خدمات میں مصروف تھے، ان خدمات کا فیض چار سو پھیل رہاتھا، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ان حضرات میں سے تھے جن کے وجود کی ٹھنڈک اس فتنوں بھرے دور میں ہم جیسے لوگوں کے لئے ڈھارس کا سبب بناکرتی تھی، اور جن کا تصور قحط الرجال کے اس زمانے میں مایوسی کے احساس کو دور کیاکرتاتھا۔

حضرت نفیس شاہ صاحب قدس سرہٗ کی ابتدائی شہرت اُن کی خطاطی کے حوالے سے ہوئی تھی، اور حقیقت یہ ہے کہ خوش نویسی کے میدان میں ان کے شہ پارے اپنے حسن ، توازن اور دلکشی سے انسان کو مبہوت کردیتے تھے، اورملک و بیرون ملک انہیں ہر جگہ خراج تحسین پیش کیاگیا، لیکن اُن کی اصل خصوصیت جس نے انہیں مقبولیت اور محبویت کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا، ان کی روحانیت ، اُن کا اخلاص، دین کے لئے ان کا سوز و گداز، اُمت کی فکر، بزرگوں سے تعلق اور سادگی و تواضع کے وہ اوصاف تھے جو حضرت شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوری قدس سرہٗ کے فیض صحبت نے پیداکئے تھے، اور جن کی وجہ سے جو اُن کے جتنا قریب ہوتا، اتنا ہی ان کا گرویدہ ہوجاتاتھا۔

میں شروع میں اُنہیں ایک عظیم خطاط ہی کی حیثیت سے جانتاتھا، ان کی خوشنویسی کا ہر شاہکار یقیناًاپنی طرف دل کو کھینچتاتھا، شایداِکَّا دُکَّا موقع پر دور دور سے ملاقات بھی ہوئی ہو، لیکن ان کے اصل جوہر اس وقت سامنے آئے جب کچھ عرصہ اُن کی صحبت میں رہنے کا موقع ملا۔

یہ موقع سب سے پہلے1974ء میں حاصل ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک بھر میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کی تحریک چل رہی تھی۔ مجلس ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر ملک کے مختلف مکاتب فکر کے علماء اور سیاسی قائدین متحد ہو کر یہ تحریک چلارہے تھے۔ اور شیخ الحدیث حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری صاحب قدس سرہٗ انتہائی جانفشانی سے اس کی سربراہی فرمارہے تھے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے 38 ارکان اسمبلی کی طرف سے قرارداد پیش ہوئی تھی اور مرزائیوں کے دونوں گروپوں یعنی قادیانی اور لاہوری جماعتوں نے اپنااپنا بیان اسمبلی میں داخل کیاتھا۔ قرارداد کی تائید میں مسلمانوں کی طرف سے ایک بیان بھی داخل ہوناتھا، اس بیان کو مرتب کرنے کے لئے حضرت مولانا بنوری صاحب قدس سرہٗ نے بندہ کو کراچی سے راولپنڈی بلایا، اور طے پایا کہ بیان کا مذہبی حصہ میں لکھوں اور سیاسی حصہ برادر محترم جناب مولاناسمیع الحق صاحب تحریرفرمائیں۔ وقت بہت کم تھا، تقریباً دس ہی روز کے اندر یہ بیان نہ صرف تیارہونا تھا بلکہ اُسے چھاپ کر ارکان اسمبلی میں تقسیم بھی کرناتھا۔ اس وقت کمپیوٹر کا رواج نہیں تھا، ا سلئے طے پایا کہ جتنا جتنا بیان لکھاجاتارہے، ساتھ ساتھ اس کی کتابت بھی ہوتی رہے، اور کتابت بھی اعلیٰ معیار کی ہو۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ کچھ کاتب صاحبان کو راولپنڈی بلا کر ہمارے ساتھ ہی بٹھادیاجائے۔ سوال یہ پیداہوا کہ کون کاتب صاحبان ایسے ہوسکتے ہیں کہ جو اپنا ساراکام چھوڑ کر یہاں ایسی جگہ آبیٹھیں جو اس وقت کے ماحول میں خطرات سے بھی پُر تھی۔ اس سلسلے میں مشورہ ہونے لگا تو میں نے حضرت مولانامفتی محمود صاحب قدس سرہٗ سے عرض کیاکہ :’’حضرت ! اگر اس کے لئے جناب نفیس شاہ صاحب کو دعوت دے دی جائے تو کیا ہی اچھا ہو، اور میرااندازہ ہے کہ اگرآپ اُن کو فون کریں گے تو ان شاء اللہ وہ ضرور منظور کرلیں گے۔‘‘حضرت مولانامفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے چہرے پر بشاشت ظاہر ہوئی اور انہوں نے بے ساختہ ارشادفرمایا: ’’نفیس توپھر نفیس ہی ہیں۔‘‘چنانچہ حضرت مفتی محمود صاحبؒ نے انہیں پیغام بھیجا ، اور پیغام پہنچنے کی دیر تھی کہ حضرت نفیس شاہ صاحب ؒ اپنے شاگردوں کی ایک پوری ٹیم کو لے کر راولپنڈی پہنچ گئے۔ اِدھر ہم بیان کا مسودہ لکھتے جاتے اور شام کے وقت ارکان اسمبلی کے سامنے اسے سنانے کے بعد اس کو حتمی شکل ملتی اور اُدھر حضرت نفیس شاہ صاحبؒ کے شاگرد اس کی کتابت کرتے جاتے اور اس طرح رات دن یہ کام جاری رہا، اور دس روز میں دو سوصفحے کی کتابت ’’ملّتِ اسلامیہ کا مؤقف‘‘ کے نام سے مرتب بھی ہوگئی، اس کی کتابت بھی ہوئی اور وہ چھپ کر تیار بھی ہوگئی۔

یہ یادگار اور تاریخی عشرہ اس طرح گزار کہ حضرت نفیس شاہ صاحبؒ کو بہت قریب سے دیکھنے اوراُن کی صحبت اُٹھانے کا موقع ملا۔ اوراسی کے نتیجے میں ان کی محبت دل میں سما گئی۔ اگر چہ ہم دن رات اپنے کام میں اس طرح مشغول تھے کہ کسی اور طرف توجہ دینے کا وقت ہی نہیں تھا۔ لیکن اس مشغولیت میں بھی ان کی دلنواز ادائیں ان کی گفتگو اور ان کی زبان سے بزرگوں کے تذکرے دل میں گھر کرگئے۔

دس دن چونکہ ہم نے ہم پیالہ و ہم نوالہ بن کر گزارے تھے، اس لئے اس کے بعد باہمی تعلق میں مزید اضافہ ہوا، ان کے ساتھ کبھی لاہور اور کبھی کراچی میں بہت سی مجلسیں رہیں، اور وہ بھی بندہ پر بہت شفقت فرمانے لگے۔ یہ بے تکلفی یہاں تک بڑھی کہ جب میں نے اپنے ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ کا مفتئ اعظم نمبر شائع کرنے کا ارادہ کیاتو انہی سے درخواست کی کہ وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ کراچی تشریف لا کر اس نمبر کی کتابت اپنی نگرانی میں کروائیں، اور اس طرح ایک مرتبہ پھر راولپنڈی کی یاد تازہ ہوجائے۔ یہ درخواست اگرچہ اس لحاظ سے بڑی عجیب لگتی تھی کہ ملک کا وہ مایہ ناز خطاط جس کے فن پاروں کا لوہا دنیا میں ماناجاتاتھا، وہ اپنا ساراکام چھوڑ کر اپنے ایک نیاز مند کی درخواست پر رختِ سفر باندھ لے، اور کراچی میں آکر مقیم ہوجائے، لیکن انہوں نے محبت کا یہ حیرت انگیز حق اداکیا کہ اپنے شاگردوں کے ساتھ کراچی آکر تقریباً دو ماہ تک دارالعلوم میں مقیم رہے، اوراس وقت مقیم رہے جب دارالعلوم کا مہمان خانہ آج کی طرح آرام دہ نہیں تھا۔ اوراس طویل عرصے میں چودہ سو صفحات پر مشتمل ’’مفتئ اعظم نمبر‘‘ اپنی نگرانی میں تیار کرایا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نفیس شاہ صاحبؒ قد س سرہٗ کو شعر کا بھی بڑا بلند ذوق عطافرمایاتھا، چونکہ اس کوچے سے مجھے بھی طبعی لگاؤ رہاہے، اس لئے ان کے ساتھ ان مجلسوں میں ان کی بلند معیار شاعری سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ یہاں تک کہ جب ان کے اشعار کا مجموعہ ’’برگ گل‘‘ کے نام سے شائع ہونے لگا تو انہوں نے مجھے بھیجا کہ میں اس پر پیش لفظ لکھوں، اور وہ میرے پیش لفظ ہی کے ساتھ شائع ہوا۔میں نے اُن کے بارے میں کسی جگہ لکھاتھا کہ ’’اُن کے ہاتھوں سے پھول کھِلتے اور منہ سے پھول جھڑتے ہیں‘‘۔ واقعہ یہ ہے کہ اس جملے میں مبالغے کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ ان کی باتیں سننے سے دل نہیں بھرتاتھا، اور جب کبھی کسی جگہ اُن سے ملاقات ہوجاتی تو دل کھِل اُٹھتاتھا۔

وہ 1957ء میں اپنے شیخ حضرت مولاناعبدالقادر صاحب رائے پوری قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے تھے،بیعت کہنے کو توبہت سے لوگ ہوجاتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے شیخ سے بھرپور فیض حاصل کیا اور ایک ہی سال میں اپنے شیخ کامل سے بیعت و ارشاد کی اجازت حاصل ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خطاطی کے جس فن سے نوازا تھا، اس پر انہیں بہت سے ملکی و غیر ملکی اعزازات حاصل ہوئے ، لیکن اس کی بناء پر طبیعت میں کوئی پندارپیداہونے کے بجائے طبیعت کی سادگی، تواضع اور درویشی میں اور اضافہ ہوگیا۔ اور پھر کیفیت یہ ہوگئی کہ خطاطی اور کاتب حضرات کو اصلاح دیناتو ایک بہانہ تھا، ورنہ ان کا مستقر ایک ’’دکان معرفت‘‘ بن گیا جہاں سے نہ جانے کتنے تشنگانِ سلوک دوائے دل لے جاتے تھے، لیکن ان کی کسی ادامیں پیروں اور مشائخ کے کروفر کا کوئی گذر نہیں تھا۔ اور دیکھنے والا پہچان بھی نہیں سکتاتھا کہ وہ طریقت و معرفت کے کیسے جام لنڈھائے بیٹھے تھے۔ نہ جانے کتنی زندگیاں اُن کی صحبت کے فیض سے بدلیں، کتنے انسانوں میں انقلاب آیا۔ اور کتنے افراد ان کے چشمۂ معرفت سے سیراب ہوئے۔ ان کی متعدد تالیفات بھی ایسے موضوعات پر منظر عام پر آئیں جن پر لکھنا انہی کا حصہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اُمت مسلمہ کے مسائل کے لئے اُن کی آنکھیں ہر دم کھلی تھیں، اور وہ اُمت کو پیش آنے والے حالات سے پوری طرح باخبر رہ کر نہایت خاموشی کے ساتھ اجتماعی جدوجہد میں اپنا حصہ لگاتے رہتے تھے۔

جون 2007 ء میں انہوں نے اُزبکستان کا دورہ کیا ، اور وہیں سے آپ کے کان میں تکلیف شروع ہوئی جو دماغ تک پہنچ گئی۔ اس وقت سے علالت کا سلسلہ چلتارہا، یہاں تک کہ آخر میں بے ہوشی کی حد تک جاپہنچا۔مؤرخہ 26محرم الحرام مطابق 5فروری2008ء کو صبح میں بخاری شریف کے درس میں تھا کہ ایک ساتھی نے یہ جانکاہ خبر سنائی کہ آج ہی صبح حضرت نفیس شاہ صاحبؒ دنیا سے رُخصت ہوگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن ۔ دل پر ایک بجلی سی گری، ایسے بزرگوں کا وجو دنہ جانے کتنے فتنوں کے لئے آڑ بنا رہتا ہے اوران کا دنیا سے اُٹھ جاناپوری اُمت کا نقصان ہوتاہے۔ ان کے لئے درس بخاری ہی میں دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کے ساتھ یہ دعا بھی زبان پرآئی۔اَللّٰہُمَّ لا تحرمنا اجرہ، ولا تفتنا بعدہ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -