عالمی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتِ حال

عالمی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتِ حال
عالمی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتِ حال

  



ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی، جو ایک طاقت ور جنرل تھے، کے ساتھ ایران کی عوامی رضا کار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس اور دیگر کئی اہم شخصیات کو اگلے روز عراقی دارالحکومت بغداد کے ایئر پورٹ پر امریکہ کی جانب سے ایک راکٹ حملے میں شہید کر دیا گیا،جس کا حکم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا تھا، جس پر خود امریکہ،یورپ اوردنیا بھر میں احتجاج جاری ہے اورٹرمپ کے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے،جو قاسم سلیمانی کی شہادت کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور حق سچ کی فتح ہوگی۔ اپنی شہادت سے چند روز قبل جنرل قاسم سلیمانی نے ایران کے شہر ہمدان میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سخت ترین الفاظ میں تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے،ہم تمہارے کتنے قریب آچکے ہیں۔ تمہارے لئے پوری ایرانی فوج نہیں، میراالقدس بریگیڈ ہی کافی ہے۔ سپاہ قدس کے کمانڈر نے کہا تم ہمیں دھمکیاں دیتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ تم پچھلے تیس سال سے ایران کے خلاف جوکچھ کر رہے ہو، اس سے تم نے کیا حاصل کیا، جو اب کر لو گے۔ تم افغانستان میں جدید ترین اسلحہ سے لیس 10ہزار فوج لے کر آئے اور 2001ء سے 2018ء تک تم نے کیا بگاڑ لیا،اب تم طالبان سے مذاکرات کے لئے منتیں کر رہے ہو۔انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم کئی برسوں سے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو اور اس کا ساتھ دیتے ہوئے تم نے غزہ میں معصوم اور نہتے شہریوں پر لاتعداد مجرمانہ مظالم ڈھائے۔جنرل قاسم سلیمانی نے کہا کہ اسرائیلی حکومت ایک جعلی حکومت ہے، تم اس کا ساتھ دیتے ہو اس نے تمہیں خطے میں غرق کر کے رکھ دیا ہے۔انہوں نے ٹرمپ کو للکارتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جس جنگ کو شروع امریکہ کرے گا،اس کوختم کرنے کا فیصلہ ایران کرے گا۔

بعض عالمی مبصرین کے مطابق قاسم سلیمانی پر حملے کی بعض دیگر وجوہات کے علاوہ ان کی یہ حالیہ تقریر بھی ہے۔اس حوالے سے دیگر وجوہات کا تجزیہ کیا جائے تو ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی ایران کی اعلیٰ قیادت کا ایک اہم اور خصوصی پیغام سعودی قیادت کے لئے لے کر آئے تھے، جس کے بعد خطے کی صورتِ حال تبدیل ہو جانی تھی اور اس امر کا اظہار عراقی وزیراعظم نے عراقی پارلیمنٹ میں کیا۔دیگر وجوہات کچھ یوں ہیں۔ نومبر 2020ء میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات قریب ہیں اور صدر ٹرمپ کو انتخابات جیتنے کے لئے امریکی عوام کو کچھ کر دکھانا بھی ہو سکتا ہے۔ان کے خلاف امریکی ایوان نمائندگان میں 18ستمبر 2019ء میں مواخذے کی قرار داد منظور ہوچکی ہے۔

اب آخری فیصلہ سینیٹ میں ہونا باقی ہے۔ علاوہ ازیں ملائشیا میں مہاتیر محمد کی بلائی ہوئی کانفرنس، جس میں ایران، ترکی اور قطر پیش پیش تھے، اس میں دوررس نتائج کے حامل فیصلوں پر اتفاق پایا گیا،جس میں مسلم ممالک کے درمیان ڈالر کے بجائے بارٹر سسٹم یا سونے کو ذریعہ تجارت بنانے کے علاوہ دفاعی مصنوعات، معاشیات، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی اسلام دشمن ممالک سے پیچھا چھڑانے اور مسلم اُمہ،جس کی اس وقت دنیا میں آبادی ایک ارب 80 کروڑ ہے، جو دُنیا بھر کی آبادی کا ایک چوتھائی ہے، کے اتحاد،مسلم کش اسلامو فوبیا کو رد کرنے اور اس کے خلاف کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، مگر دُکھ یہ ہے کہ اس کانفرنس میں دعوت کے باوجود پاکستان نے شرکت نہیں کی،اس کی وجہ بھی آپ سب کو معلوم ہے کہ سعودی عرب نے کانفرنس میں شرکت سے کیوں منع کیا تھا۔

قاسم سلیمانی کی شہادت کی وجہ جو بھی رہی ہو، یہ ایک المناک سانحہ ہے،جو رائج عالمی اصولوں کی نہ صرف صریح خلاف ورزی ہے،بلکہ اس سے خطے میں امریکہ،ایران متوقع جنگ کے خطرے کے پیش نظر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ دونوں ممالک کے مدبرین ایک دوسرے کے خلاف جو دھمکی آمیز بیانات اور زبان استعمال کررہے ہیں،اس سے یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ بڑی جنگ نہ سہی تو بڑی جھڑپوں کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ چھڑپیں بھی خطے کے امن کو ناقابل تلافی نقصان کی حامل ہو سکتی ہیں اور اگرایسا ہوا تو پاکستان کو ایک نازک ترین صورتِ حال کا سامنا ہو گا۔ایک طرف ہمسائیہ ملک ایران اور دوسری طرف امریکہ…… کس کا ساتھ دیں، کس کا نہ دیں؟والی گومگو کی کیفیت پاکستان کے لئے لمحہ ئ فکریہ ہو گی۔اس حوالے سے پاکستان کو ابھی سے ایسی ٹھوس پالیسی اپنانی ہو گی کہ ”سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے“…… اس سلسلے میں حکومت اورفوج سر جوڑ کر بڑی عرق ریزی کے ساتھ زیرک موقف اپنائیں،

جس کے ہر پہلو پر عمیق انداز میں غور وفکر کیا جائے، ساتھ ہی اس سلسلے میں پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں لیا جائے اور پارلیمنٹ سے ہی فیصلہ لیا جائے کہ ایوان میں مختلف پارٹیوں کی نمائندگی ہے، جن کا اس حوالے سے اپنا بھی کوئی موقف ہو گا، جس کو سننا چاہئے اور اسے ملک و قوم کے تحفظ اور بہترین مفاد سے مشروط ہونا چاہئے۔ یہاں ایران اور سعودی عرب کی باہمی چپقلش کا تذکرہ بھی بر محل ہوگاکہ دونوں ملک اہمیت کے حامل ہیں۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ضرورکہیں ایسا جھول موجود ہے کہ ایران، جس سے کے ہمیشہ مثالی تعلقات رہے ہیں،ماضی قریب میں ہم انہیں قائم نہ رکھ سکے، جبکہ ایران نے پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے تعلقات کو ترجیح دی،اپنی چاہ بہار بندرگاہ اس کے حوالے کردی،جہاں بھارت نے اپنا جاسوسی نیٹ ورک قائم کیا اور امریکہ کے بغل بچے کے طور پر اپنی روایتی مکاری سے کام لیتے ہوئے پاکستان کے خلاف اپنی جاسوسی کارروائیاں جاری رکھیں، دوسری طرف امریکہ کی خوشنودی کے لئے ایران کی حساس معلومات امریکہ کو فراہم کرتا رہا۔

بعض معتبر ذرائع کے مطابق ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے دورہئ عراق کی تعام معلومات بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ نے امریکہ کو فراہم کیں، جس کی بنیاد پر امریکیوں نے اپنے راکٹ حملے میں انہیں شہید کر دیا۔ جس طرح بھارت نے مقبوضہ کشمیر اور پھربھارتی آئین کی شہریت کی شقوں میں ترمیم کر کے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے، جس پر بھارت کے مسلم، ہندو، عیسائی اور سکھ کمیونٹی نے متحد ہو کرمودی کے خلاف عوامی احتجاجی کا ایک نہ ختم ہونے والا ایسا سلسلہ شروع کیا جو اب ایک خوفناک سیلاب کی شکل میں بھارت کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے،جو بھارتی حکومت کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے، بعینہ امریکہ نے جنرل سلیمانی کو شہید کر کے خطے میں ایک ایسی صورتِ حال پیدا کردی ہے کہ اب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا موجود رہنا ناممکن نظر آتا ہے، جس کی بنیا د عراق نے رکھ دی ہے۔اس کی پارلیمنٹ نے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ گمان غالب ہے کہ رفتہ رفتہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے خود بھی اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنی افواج کو عراق سے نکال لے گا۔

مشرقِ وسطیٰ کو اب ایک نئی صورتِ حال کا سامنا ہو گا،جو حساس بھی ہے اور نازک بھی۔ کاش!اس مرحلے پر مسلم اُمہ متحد اور یک زبان ہوکر عالمی طاقتوں کو باور کرائے کہ مسلمان اور مسلم ممالک متحد ہیں، جس کی پیش رفت ایران اور سعودی عرب سے ہونی چاہئے تو کوئی وجہ نہیں کہ دشمنانِ اسلام مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اپنی سازشیں بند کرنے پر مجبور نہ ہو جائیں۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو دُنیا کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ کسی ملک پر ایک طویل ترین عرصے تک پابندیاں عائد کی گئی ہوں، بجز ایران، مگر ایرانی قیادت اور عوام نے جس ثابت قدمی سے کڑے حالات کا مقابلہ کیا اور کر رہے ہیں، وہ فقید المثا ل ہے۔ ایران کو چاہئے کہ وہ عالمی سطح پر تیز ترین سفارتی مہم شرو ع کرے، دُنیا بھر میں اپنے وفود بھیجے،دُنیا کو اپنے خلاف ہونے والی چیرہ دستیوں سے آگاہ کرے اور اس مہم کا دائرہ کار عالمی میڈیا تک پھیلا دے تاکہ وہ تنہائی سے نکل سکے، جب یہ مقصد حل ہوجائے اور بال اس کے کورٹ میں آجائے تو وہ چوکے اور چھکے نہ مارے، بلکہ اسلام دشمن کھلاڑیوں کو آؤٹ کرے اور اس سلسلے میں مؤثر حکمت عملی اپنائے۔

مزید : رائے /کالم


loading...