سرینگر ،سانحہ خانیار،فائرسروس عملہ ذمہ دارقرار

سرینگر ،سانحہ خانیار،فائرسروس عملہ ذمہ دارقرار

سرینگر (جی این آئی)شیخ سید عبدالقادر جیلانی کے نام سے منسوب خانیار آستانہ عالیہ آتشزدگی کی تحقیقات کر رہی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے فائر اینڈایمرجنسی محکمہ کو لاپرواہی کیلئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے محکمہ کے ایک کانسٹیبل کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ آتشزدگی کی وارادات کے بعد پولیس نے سب ڈویژنل پولیس آفیسر خانیار سجاد احمد شاہ کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی ۔ انہوں نے واردات سے متعلق ایک ایف آئی آ ر زیر نمبر 37/2012زیر دفعہ 436آر پی سی درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا ۔خصوصی تفتیشی ٹیم نے ساتھ منسلک ایک آفیسر نے بتا یا فائر اینڈ ایمرجنسی محکمہ کے ایک اہلکار امتیاز احمد خان ساکنہ رعناواری کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاڈائریکٹر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے تحریری طور پر شکایت کی مذکورہ شخص لوگوں کو اکسانے کیلئے ذمہ دار ہے ،جب آستان عالیہ جل رہا تھا تو اس وقت امتیاز نے لوگوں کو اکسایا اور انہوں نے آستان کے علاقے میں قانون اور نظام کو درہم برہم کردیا ۔آفیسر کے مطابق امتیاز کو اگرچہ دو روز قبل گرفتار کیا گیا تھا تاہم اس کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 38 زیر سیکشن 109درج کیا گیا۔خصوصی تفتیشی ٹیم کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر فائر اینڈ ایمر جنسی سروسز نے بروقت اور دانشمندی سے کام لیا ہوتاتو زیارت کا بیشتر ڈھانچہ بچایا جاسکتا تھا۔انہوں نے کہا فائر اینڈ ایمرجنسی کوصبج 6بجکر 30منٹ پر مطلع کیا گیا تھا اور8بجکر 30منٹ تک ان کی مشینری اہلکاروں نے کوئی کاروائی نہیں کی تھی حتی برانٹو سکئی نامی آگ بجھانے والی گاڑیوں سے بھی کوئی مدد نہیں لی گئی ،ہم نے انہیں آگ بجھانے میں لاپرواہی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔مذکورہ آفیسر کا کہنا ہے کہ خصوصی تفتیشی ٹیم نے ڈویژنل کمشنر کو ،جوخود بھی اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں ،کو رپورٹ فراہم کی ہے جس کے بارے میں انہوں نے ڈائریکٹر فائر اینڈ امر جنسی سروسز ،ایس ایس پی سرینگر اور خصوصی تفتیشی ٹیم کے سربراہ کے ساتھ تبادلہ خیال کیااور ہماری علمیت کے مطابق ڈویژنل کمشنر نے بھی فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کو ہی ذمہ دار ٹھہر ایا ہے۔آستانہ عالیہ کے خاکستر ہونے کے بعد خصوصی تفتیشی ٹیم نے 22افراد کے بیانات قلمبند کئے ہیں جن میں وقف بورڈ کے وائس چیئر مین اور آستان عالیہ کے سجادہ نشین بھی شامل ہیں ۔

مزید : عالمی منظر