عرب ،قطر سفارتی کشیدگی،کون کیا کردار ادا کررہا ہے؟

عرب ،قطر سفارتی کشیدگی،کون کیا کردار ادا کررہا ہے؟
عرب ،قطر سفارتی کشیدگی،کون کیا کردار ادا کررہا ہے؟

  



یہ تو ہونا تھا،اگر کوئی عرب ممالک میں موجود سیاسی اور سفارتی کشیدگی سے حیرت زدہ یا پریشان ہے تو نہ ہو۔اس کا خدشہ اسی وقت پیدا ہوگیا تھا جب رقص شمشیر میں ٹرمپ اور شاہ سلمان جھوم رہے تھے،ایوانکا کے ساتھ شاہ سعود کی کابینہ کے ارکان مزے لے لے کر زیتون کا قہوہ نوش فرما رہے تھے،اس خدشے کو اس وقت تقویت ملی جب پرانے اتحادیوں نے بندے مارنے کے سامان کی خریدو فروخت کا 110ملین ڈالر کا معاہدہ کیا تھا،اسلامی مالک کو دہشتگردی کیخلاف درس کے بعد ہی اس مشن پر کا شروع ہوگیا تھا،گھر کے بھیدی نوم چومسکی اور جولین اسانج بتاتے ہیں کہ امریکہ نے آج تک کسی ملک کادشمن بن کر اتنا نقصان نہیں کیا جتنا دوست بن کر گھاؤ لگائے ہیں،اس بات کی تاریخ بھی گواہ ہے کہ امریکہ دوست بن کہ وہ کرتا ہے جو دشمن کر نہیں کرسکتا ہے،وگرنہ ایران اور شمالی کوریا کا کچھ بگاڑ لیتا،روس اور چین کا بال بھی بیکا نہیں کرسکا۔

ذرا غور کیجئے تو امریکہ نے دوست بن کر کیا سے کیا نہیں کیا ہے۔ جمہوریت کیلئے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی،طالبان سے مار کھائی، غلط معلومات پر عراق میں کیمیائی اور ایٹمی ہتھیاروں کے بہانے صدام کی آمریت ختم کی، لاکھوں جمہور کی گردنوں کو تہ تیغ کیا، سوائے تیل کے کنوؤں پر قبضے،خانہ جنگی پیدا کرنے کے کچھ نہیں کیا، یہاں کے غداروں کو جمہوریت تو نصیب نہ ہوئی لیکن روزانہ بم دھماکے ان کے مقدر میں لکھ دیے گئے، معمر قذافی کے ہنستے بستے لیبیا کو قبرستان بنایا، تیونس، مصر، یمن میں ’’عرب بہار‘‘ کا ڈرامہ رچایا،مصر میں جب جمہور نے اسرائیل اور انکل سام کی توقعات کے برعکس فیصلہ دیا تو ایک سال بعد ہی منتخب حکومت ختم کروادی،اب شام اور یمن کی صورتحال سے ہربندہ بخوبی واقف ہے،دو طاقتوں کی لڑائی میں بیچارے غریب گھروں سے بھاگتے ہوئے مارے جارہے ہیں،موصل سے اجتماعی قبریں مل رہی ہیں،سی آئی اے کی پیدا کردہ داعش وحشیوں کی طرح بچوں کو مسل رہی ہے۔

دوست کے روپ میں امریکہ نے جو کیا یہ اس کی فطرت میں شامل ہے لیکن جن کو پوری دنیا اپنا امام مانتے ہیں وہ کیوں مسلم دنیا میں پھوٹ ڈال رہے ہیں، اس رویے پر سعودی حکام یہ منطق پیش کرتے ہیں کہ غیر سعودیوں کو سعودی عرب کے شہریوں کے برابر حقوق حاصل نہیں۔عرب ،عجمیوں کو گونگا سمجھتے ہیں اور ہمسایوں کو طفیلیہ بنا کر رکھنا چاہتے ہیں ،اس اقدام کے پیچھے بھی یہی خواہش ہے۔

سچ بات تو یہ کہ اس سارے کھیل کے پیچھے ہدایت کاروہی ہے جو دوستی کے نام پر دشمنی کرتا ہے، پابندی لگانے والے تمام ممالک کا یہ دوست ان کا اتحادی بھی ہے،یہ چھ کے چھ ممالک دامے درمے سخنے اسی کے ساتھ ہیں اور اسی کے اشارے پر کٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے ہیں،یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ قطر بھی اسی دوست کا اتحادی ہے قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی کا 35بلین ڈالر سرمایہ امریکہ کی کمپنیوں میں لگا ہوا ہے،اسی طرح قطر سیلیکان ویلی کا حصہ بننے کیلئے بھی امریکہ کو وعدہ کرچکا ہے۔صرف یہی نہیں ہمسایوں پر بمباری بھی اسی کے اڈوں سے ہوتی ہے،یہاں ہدایت کار نے قطر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ کے بعد زبان درازی کی سزا دینے اور اوقات بتانے کیلئے سب کیا ہے ،مظلوم کے پاؤں پڑنے کی دیر ہے کہ سب اچھا ہوجائے گا۔

سعودی عرب اور اس کے حواریوں کے قطر کو چھوڑنے کی آخر وجوہات کیا ہیں،ایسا کیا ہوگیا جو اچانک اس کا حقہ پانی بند کردیا گیا ہے۔عالمی میڈیا اس کی چار بڑی وجوہات پیش کررہا ہے،پہلی وجہ اخوان المسلمین ہے جس کا قطر میں اثر رسوخ ہے،ڈاکٹر مرسی کی حکومت کے خاتمے کے وقت قطر نے اس کی حمایت کی تھی،جس کی پاداش میں الجزیرہ ٹی وی جیسے چینل کو بھی عتاب کا نشانہ بنایا گیا،دوسری بڑی وجہ قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے ایک مبینہ بیان جس میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ موقف پر تنقید کی گئی، ایران کے حریف سعودی عرب کو ایک عرصے سے تہران کے موقف اور خطے میں اس کے عزائم پر تشویش رہی ہے۔ سعودی بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے شیعہ اکثریت والے علاقے میں دوحہ قطیف میں ایران کی پشت پناہی حاصل رکھنے والے گروہوں کی شدت پسندی کی کارروائیوں میں مدد کر رہا ہے،قطر پر یمن میں حوثی باغیوں کی پشت پناہی کرنے کا بھی الزام لگایاگیا ہے۔

تیسری بڑی وجہ لیبیا کے سابق رہنماکی ہلاکت کے بعدملٹری میں طاقتور حیثیت رکھنے والے خلیفہ ہفتار جنہیں مصر اور متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی حاصل ہے قطر پردہشت گرد گروہوں کی مدد کرنے کا الزام لگاتے ہیں،چوتھی بڑی وجہ میڈیا جنگ ہے جو دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جاری رکھی ہوئی ہے۔

اس سارے کھیل سے مسلمان ممالک کے درمیان میں فاصلہ مزید وسیع ہوجائے گا، ایران کا کردار مصالحانہ بھی ہے اورمنافقانہ بھی ،اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے قطر کو اکیلا چھوڑ کر مذاکرات کا راگ الاپ رہا ہے حالانکہ اسے چاہیے تھا کہ قطر کے ساتھ کھڑا ہوتا،یہ تو ایسے ہی جیسے کہ کسی کو بند گلی میں دھکیل کر بند کردی جائے،پاکستان اور ترکی کا اس معاملے خیر جانبدار رہنے کا فیصلہ جرأ ت مندانہ ہے اس وقت ضرورت بھی یہی تھی کہ کسی کے گناہ میں شریک ہونے کے بجائے غیر جانبدار رہا جائے،اس سارے معاملے میں امیر کویت کا مصالحانہ کردار لائق تحسین ہے،ایسے وقت میں آگ تیل ڈالنے کی بجائے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے پاکستان اور ترکی بھی آگے بڑھیں اور امریکی خواہش پوری ہونے سے پہلے معاملے کو رفع دفع ہونا چاہیے۔تاہم قطر کو بھی آئندہ آنیوالے فٹبال ورلڈ کپ اور اپنے ملک میں جاری کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ذرا جھکنے کی ضرورت ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ