خواتین کا عالمی دن ، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے شاندار اعلان کردیا

خواتین کا عالمی دن ، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے شاندار ...
خواتین کا عالمی دن ، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے شاندار اعلان کردیا

  


کراچی(پروموشنل ریلیز) خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری برائے خواتین نے خواتین کو مزید بااختیار بنانے کا عزم دہرایا ہے اور کہاہے کہ خواتین کو مزید بااختیار بنانے اور ملک بھر میں کام کی جگہوں پر صنفی برابری کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے ۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے یواین ویمن کے تعاون سے 2017ءمیں خواتین کو بااختیار بنانے( ویمن ایمپاورمنٹ) کا قدم اٹھا یا تھا، 2018ءمیں چیمبر نے صنفی برابری اور کام کی جگہوں پر بہتری کیلئے بھرپور ریسرچ کی اور پھر عملی اقدامات شروع کردیئے ، او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیز کے سروے کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ سینئر انتظامیہ میں صرف دو فیصد خواتین شامل تھیں ، درمیانی درجے کی انتظامیہ میں 16فیصد اور نچلے طبقے کے انتظامی امور 36فیصد خواتین نے سنبھال رکھے تھے ۔ گزشتہ سال اوآئی سی سی آئی نے ورک پلیسز پر خواتین کی شرح بڑھانے میں حائل مسائل کی جانچ کیلئے تربیتی اور کوچنگ سیشنز کا اہتمام کیا۔

او آئی سی سی آئی اس ریسرچ پر کام کررہی ہے اور کام کرنیوالی خواتین کی طرف سے ملنے والے ردعمل کی بنیاد پر خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ایک وائیٹ پیپر جاری کیاجائے گا جس میں خواتین کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کیلئے تجاویز دی جائیں گی ، اس وائیٹ پیپر کا مقصد حکومت پاکستان کی ایک ایسے ریگولیٹری انفراسٹرکچر کے نفاذ میں مدد کرنا ہے جس سے پاکستان کے کارپوریٹ اور بزنس سیکٹر میں صنفی برابری اور خواتین کوبااختیار بنانے میں پیش رفت ہو۔

او آئی سی سی آئی کی صدر شازیہ سید نے بتایاکہ ’ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری‘ کی ممبر کمپنیز جو کہ بیرون ملک سے پاکستان میں آنیوالے سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، انہیں انتظامی صلاحیتوں ،اچھی اقدار اور ورک پلیس پر صنفی برابری کے لحاظ سے ملک کے کارپوریٹ سیکٹر میں رول ماڈل کی حیثیت حاصل ہے ،ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے اور یہی وجہ ہے کہ او آئی سی سی آئی ان مسائل کو حل کرنے کیلئے پالیسی بنانے میں حکومت کا حصہ بننے کے لیے بھرپور طریقے سے کام کررہی ہے ،جن سے پاکستان کے گلوبل جینڈر گیپ رینکنگ میں جگہ بنانے میں رکاوٹ آرہی ہے ۔

اوآئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم نے بتایاکہ ’گلوبل جینڈر گیپ ریکنگ میں 149ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 148ہے جوایک ایسے ملک کے لیے مایوس کن ہے جہاں 200ملین سے زائد آبادی ہے ،2018ءکی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق پاکستان اقتصادی شراکت اور مواقع میں 146ویں ، تعلیم میں 139 ، صحت میں 145اور سیاسی طاقت میں 97ویں نمبر پرآیا‘۔ انہوں نے کہاکہ ’ہمیں یقین ہے کہ ملک کی معاشی ترقی صنفی برابری میں مفید ثابت ہوگی اور مزید خواتین پروفیشنل زندگی میں بالخصوص مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر ایکٹیوٹیز میں آگے آئیں گی ۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں۔ farhan.iqbal@oicci.org

مزید : انسانی حقوق /بزنس


loading...