اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 134

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 134
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 134

  

ایک گاﺅں میں حضرت شیخ جلال الدین ہانسویؒ کی ایک شخص نے دعوت کی۔ کھانے سے فارغ ہوکر آپ نے اجازت چاہی۔ میزبان نے کہا ”جب تک بارش نہیں ہوگی۔ نہ جانے دوں گا۔“

اس سال بارش نہیں ہوئی تھی اور قحط کے آثار نمایاں تھے۔ میزبان کے اصرار پر آپ وہیں بیٹھ گئے۔ اسی رات خوب بارش ہوئی۔ صبح آپ گھوڑے پر ہانسی تشریف لے گئے۔

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 133 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک پیر زالہ حضرت سراج الدین محمد شاہ عالمؒ کے حلقہ ارادت میں شامل تھی۔ اس کا چار پانچ سال کا بیٹا ایسا بیمار ہوا کہ جانبر نہ ہوسکا۔ وہ پیر زالہ بیٹے کی موت کے صدمہ سے اتنی افسردہ دل تھی کہ مغلوب الحال ہوکر اس نے آپ کا دامن پکڑلیا اور لگی آہ و فریاد کرنے۔

اس نے گڑ گڑاتے ہوئے کہا جب تک میرا لڑکا مجھے نہیں مل جائے گا میں آپ کا دامن ہرگز نہ چھوڑوں گی۔ جب آپ نے دیکھا کہ اس کی بے قرار انتہا کو پہنچ گئی ہے تو آپ نے اسے تسلی و دلاسا دے کر اندر تشریف لے گئے۔

آپ کا بھی ایک چھوٹا سا لڑکا تھا۔ آپ نے اسے گود میں لے کر دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور دعا کی ”خدایا اس بڑھیا کے لڑکے کے بجائے یہ لڑکا حاضر ہے۔“ اسی وقت آپ کا لڑکا فوت ہوگیا۔ باہر آکر آپ نے اس ضعیفہ سے فرمایا۔ اپنے گھر جا تیرا لڑکا زندہ ہوگیا ہے۔ وہ عورت اپنے گھر پہنچی تو اپنے لڑکے کو زندہ سلامت پایا۔

٭٭٭

ایک مرتبہ شہنشاہ اکبر لاہور آیا۔ تو اس نے اپنے وزیر کو شاہ حسینؒ کے پاس بھیجا۔ وزیر نے انہیں بہت تلاش کیا۔ مگر وہ اسے نہ ملے اور جب وزیر ناکام ہوکر واپس شہنشاہ کے پاس آگیا تو شاہ حسینؒ خود وہاں پہنچ گئے۔ وہ بھی اس طرح کہ داڑھی منڈی ہوئی اور ہاتھ میں شراب سے بھری ہوئی صراحی تھی۔

اکبر نے حیران ہوکر کہا ”یہ کیا؟“

آپ نے منہ پر ہاتھ پھیرا۔ تو چہرے پر شرع کے مطابق داڑھی موجود تھی اور صراحی میں شراب کی بجائے دودھ بھرا ہوا تھا۔

٭٭٭

ایک مرتبہ سلطان محمود غزنوی نے ایاز سے یہ وعدہ کیا کہ میں تجھے اپنا لباس پہنا کر اپنی جگہ دے دوں گا اور تیرا لباس پہن کر خود غلام کی جگہ لے لوں گا۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور پھر حضرت ابو الحسن خرقانیؒ کے در دولت پر پہنچے۔ پھر باہر سے شیخ کو پیغام بھیجا کہ سلطان غزنی یہاں تک پہنچ گیاہے۔ تم گھر سے نکل کر اس کا استقبال کرو اور اگر وہ انکار کریں تو اطیعو اللہ واطیعو الرسول والوالا امر منکھ پڑھنا۔

قاصد نے اندر پہنچ کر ایسا ہی کیا۔ آپ نے فرمایا ”میں اطیعو اللہ میں ہی اس قدر محو ہوں کہ اطیعو الرسول تک نہیں پہنچ سکتا۔ اندرین حالات الوالاامر منکھ کا کیا ذکر۔“ پھر محمود غزنوی ایاز کو لے کر اندر پہنچا اور سلام کیا۔ شیخ نے جواب دیا مگر تعظیم کو کھڑے ہوئے۔ فرمایا ”یہ سب تمہارا حال ہے۔ میں اس میں نہیں پھنس سکتا۔“ پھر محمود کا ہاتھ پکڑ کر پٹھایا اور باقی سب کو نکال دیا۔

محمود نے کہا ”بایزیدؒ کی نسبت کچھ فرمائیں۔“

آپ نے فرمایا ”بایزیدؒ نے فرمایا ہے کہ جس نے مجھ کو دیکھا وہ شفاعت سے بے خوف ہوگیا۔“

محمود نے عرض کیا ”کیا بایزیدؒ پیغمبر خدا ﷺ سے بھی بڑھ کر ہیں۔ ابو جہل، ابولہب نے ان کو دیکھا مگر ان کی شفاعت نہ کی گئی۔“

آپ نے فرمایا ”ادب کرو۔ پیغمبر خدا ﷺ کو سوائے ان چاروں صحابہ کرامؒ کے اور کسی نے نہ دیکھا تو اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ الو ھم ینظرون الیک وھم لایبصرون۔“

محمود کو یہ بات پسند آئی اور عرض کیا ”مجھ کو کچھ نصیحت فرمائیں۔“

فرمایا ”چارباتوں کا خیال رکھو۔ ۱۔ ممنوعات سے پرہیز کرو، ۲۔ جماعت کے ساتھ نماز پڑھو، ۳۔ سخات کو شیوہ بناﺅ، ۴۔ خلق خدا پر شفقت رکھو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری عاقبت کو محمود رکھو۔“

اس نے بعد محمود نے اشرفیوں کی تھیلی آپ کی نذر کی۔ آپ نے فوراً جو کی روٹی جو خشک تھی سامنے رکھ دی اور کھانے کا حکم دیا۔

محمود جب کھانے لگا تو روٹی حلق میں اٹک گئی۔ آپ نے فرمایا ”روٹی حلق میں اٹکتی ہے۔“

محمود نے کہا ”جی ہاں۔“ اس پر آپ نے فرمایا ”تم چاہتے ہو کہ تمہاری طرح یہ اشرفیوں کی تھیلی ہمارے حلق میں اٹکے۔ ہم اس کے خواہشمند نہیںہیں۔“

پھر محمود نے کہا ”اپنی کوئی یادگار عنایت فرمائیے۔“

آپ نے ایک پیرہن دے دیا۔ پھر رخصت کے وقت شیخ نے اٹھ کر تعظیم دی۔ محمود نے پوچھا ”میرے آنے کے وقت آپ نے تعظیم نہیں کی۔ اب کیا سبب ہے؟“

فرمایا ” اس وقت تم غرور شاہی کے ساتھ آئے تھے مگر اب انکسار اور درویشی کے ساتھ جارہے ہو۔“

چند دن کے بعد جب محمود نے سومنات پر حملہ کیا اور اپنی افواج کو میدان میں کمزور دیکھا اور خوف ہوا کہ شکست نہ ہوجائے تو زمین پر سربسجود گر پڑا اور وہی پیراہن دالے کی طفیل فتح و نصرت عطا کر۔“

جب دعا کے بعد محمود اٹھا تو اس کی فوج کی حالت کچھ سے کچھ ہوچکی تھی۔ دفعتہ حملہ کیا اور میدان کو فتح کرلیا۔ رات کو خواب میں دیکھا کہ شیخ فرمارہے ہیں ”محمود! تم نے ہمارے پیرامن کی آبرودرگاہ الہٰی میں کھودی۔ اگر تم چاہتے تو تمام کافر مسلمان ہوجاتے۔“

٭٭٭

بزرگوں میں ایک بزرگ کو ایک مرتبہ طہار خانہ میں بیٹھے بیٹھے دل میں خیال آیا کہ کیوںنہ اپنا پیرامن کسی درویش کو دے دیا جائے۔ اس خیال کے دل میں آتے ہی فوراً ایک مرید کو بلایا، کرتہ جسم سے اتارا او راس کے حوالے کردیا۔

مرید نے کہا ”اے شیخ! طہارت خانہ سے باہر آنے تک صبر کیوں نہ کرسکے۔“

شیخ نے کہا ”میں ڈرگیا کہ مبادا کوئی دوسرا خیال میرے دل میں پیدا ہوجائے او مجھے اس نیک خیال سے باز رہنے پر مجبور کردے۔“(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 135 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے