کون سے حکمران اللہ کی پناہ میں ہو سکتے ہیں؟

کون سے حکمران اللہ کی پناہ میں ہو سکتے ہیں؟
کون سے حکمران اللہ کی پناہ میں ہو سکتے ہیں؟

  


                                                وہ کون سے حکمران ہیں جن کی حفاظت کا اللہ نے ذمہ لیا ہے؟ سورة الحج(22) آیت41 کا ترجمہ ملاحظہ ہو:”یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں ملک میں اقتدار دیں تو وہ صلوٰة قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں اور اچھے کاموں کا حکم دیں اور بُرے کاموں سے روکیں اور جملہ امور کا انجام اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں ہے“۔ یہ ہیں وہ حکمران جن کی حفاظت کی قدرت خود ذمہ لے رہی ہے؟ جب ایسے لوگ مسند حکومت پر بیٹھتے ہیں تو آرام و آرائش میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ اپنے رب کی یاد سے غافل نہیں رہتے۔ قومی خزانوں میں بددیانتی نہیں کرتے۔ وہ بدی کو پروان نہیں چڑھنے دیتے۔ وہ غریبوں اور مسکینوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ وہ وعدہ فراموش نہیں ہوتے۔ طوالت کے خوف سے تمام نام گنوانے کی بجائے صرف شیر شاہ سوری کے حالات پڑھ لیجئے۔

ہندوستان کے مسلمان سلاطین اور ان کے امراءو وزرا¿ کی سیرت ہمارے لئے مشعل راہ ہونی چاہئے۔ ہمیں عالی ہمت، بلند حوصلہ، فن سپہ گری میں ماہر، قبائے شاہی کے اندر درویشی، عبادت میں مشغولیت، علمی ذوق و شوق اور وسعت مطالعہ کے حامل ایسے نادر نمونے ملیں گے، جن کی مثال ملنی مشکل ہوگی، مثلاً سلطان شمس الدین التمش، سلطان غیاث الدین بلبن، ناصر الدین محمود، فیروز تغلق، شیر شاہ سوری اور اورنگزیب عالمگیر ، عبدالرحیم خان خاناں وغیرہ، مگر یہاں صرف شیر شاہ سوری کے معمولات اور نظام الاوقات کے متعلق مختصراً بتایا جائے گا۔ آپ تہائی رات رہتی کہ بیدار ہو جاتے۔ غسل کرتے، نوافل پڑھتے، نماز فجر سے پہلے اوراد ختم کر لیتے۔ مختلف صیغوں کے حسابات دیکھتے، روزانہ کا نظام عمل بناتے، پھر نماز فجر کے لئے وضو کرتے، جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے، اذکار و اوراد میں مشغول ہو جاتے۔ نماز اشراق پڑھتے، لوگوں کی ضروریات معلوم کرتے، افواج شاہی اور اسلحہ کا معائنہ کرتے۔ ملک کی روزانہ آمدن اورمالیہ کا معائنہ کرتے۔ پھر ارکانِ سلطنت اور سفراءحاضر ہوتے۔ مناسب ہدایات دیتے۔ دوپہر کے کھانے پر علماءو مشائخ بھی دستر خوان پر ہوتے۔ دو گھنٹے اپنے ذاتی کام کرتے، قیلولہ کرتے، ظہر کی نماز با جماعت پڑھتے، قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔ پھر امورِ سلطنت میں مشغول ہو جاتے۔ سفر و حضر میں اس نظام الاوقات میں کوئی تبدیلی نہ ہوتی۔

اللہ تعالیٰ نے سورة الاعراف اور سورة ص میں شیطان کی حکم عدولی پر اسے خبردار کرتے ہوئے دونوں مقام پر فرمایا: ” جس کسی نے پیروی کی تیری ان سے تو یقیناً میں بھر دوں گا جہنم کو تم سب سے (الاعراف) کہ مَیں تجھ سے اور جوان میں تیری پیروی کریں گے۔ سب سے جہنم بھر دوں گا۔ (ص) تب سے انسان دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک حزب اللہ، یعنی قرآن و سنت پر پوری طرح سے عمل کرنے والا گروہ اور دوسرا حزب الشیطان، یعنی شیطان کی پیروی کرنے والا ٹولہ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو صراط مستقیم پر چلانے کے لئے انبیاءاور رُسل بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا، جنہوں نے انسان کو اصلاح و بہبود ، احکامات الٰہیہ اور اوامر و نواہی پر کاربند رکھنے کے لئے حتی المقدور کوشش کی تاآنکہ نبوت و رسالت کا یہ سلسلہ آنحضرتﷺ کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوگیا، لیکن آپﷺ ہمارے درمیان قرآن و سنت چھوڑ گئے، جن پر عمل پیرا ہو کر شیطانی مکر و فریب سے بچا جا سکتا ہے، چونکہ قرآن آخری الہامی کتاب ہے، جس نے زندگی کے تمام نشیب و فراز سے ہمیں آگاہ کیا ہے، جسے نظر انداز کر کے شیطانی مکر و فریب سے بچنا ناممکن ہے۔ رسول اکرمﷺ کے وصال کے بعد رشد و ہدایت کا یہ سلسلہ آپﷺ کی امت میں سے پہلے خلفائے راشدین، پھر تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین، اولیائے کرام، علماءو فضلائے کرام کے ذریعے جاری و ساری رہے گا۔ اندریں حالات اولی الامر یعنی صاحبان حکم اور با اختیار لوگوں کے لئے لازمی ہے کہ قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ اولوالابصار، یعنی صاحبان بصیرت اور دانا لوگ اور اولو الالباب، یعنی صاحبان عقل و خرد و شعور نے امور سلطنت اور آئین جہانداری او جہانبانی کے متعلق جو کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں، ان کو زیر مطالعہ رکھیں اور پوری طرح سے مستفید ہوں۔

مسلم ُامہ کے لئے لمحہءفکریہ ہے کہ یہود و نصاریٰ اور ہنود کے نیو ورلڈ آرڈر کے اجراءکے بعد افغانستان، عراق ، فلسطین ،کشمیر و چیچنیا کی تباہی و بربادی کا حال دیکھ کر بھی عبرت حاصل نہ کی گئی تو پھر آہستہ آہستہ دوسرے تمام اسلامی ممالک سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ بدقسمتی سے مسلمان حکمرانوں کی باہمی کشمکش، امور سلطنت میں اختلافات، تعلقات کار میں تعطل، ایک دوسرے پر عدم اعتماد اور باہمی غیظ و غضب کی وجہ سے دنیا کے تمام محب وطن مسلمان پریشان اور مایوس ہیں۔ ہر لمحہ منافرت و مناقشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں قومی اور ملکی امور پر کبھی ہم آہنگی پیدا نہیں ہوئی۔ باہمی افہام و تفہیم کا کبھی مظاہرہ نہیں ہوا، بلکہ منافرت اور عداوت کی خلیج ہمیشہ وسیع سے وسیع تر رہی۔ ایسے ابتر حالات میں ملک کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام کا دگر گوں ہونا ایک قدرتی امر ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ملک کی دفاعی قوتوں کا انحصار صرف اور صرف ملک کے اندرونی حالات اور استحکام پر ہے۔ اب بھی اگر قوم کا ایک سنجیدہ اور باہوش طبقہ خاموش تماشائی بنا رہا۔ حکمرانوں کی اصلاح کے لئے آگے نہ بڑھا اور ان کو راہِ راست پر لانے کے لئے کسی طرح کی عملی جدوجہد نہ کی تو قانون قدرت کے مطابق سب اکٹھے ہی رگڑے جائیں گے۔

زیر بحث مضمون کی مزید وضاحت کے لئے یہ تین کتب بڑی مفید ثابت ہوئیں:

-1 امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کی تلبیس ابلیس

-2 امام غزالی رحمہ اللہ کی منہاج العابدین

-3 ایک پنڈت کی انوار سہیلی

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کا نام عبدالرحمن لقب جمال الدین اور رکنیت ابن الجوزی تھی۔ آپ 511-12 ہجری میں بغداد میں پیدا ہوئے اور 12 رمضان 597ھ میں وفات پائی۔ آپ کثیر التصانیف تھے، جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 263 ہے۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ آپ کے انقلاب انگیز مواعظ اور مجالس درس ہیں۔ ان کی مجالس میں خلفائ، سلاطین، وزراءاور اکابر، علماءبڑے اہتمام سے شرکت کرتے۔ تاثیر کا یہ عالم تھا کہ لوگ غش کھا کھا کر گرتے۔ لوگوں کی چیخیں نکل جاتیں اور آنسوو¿ں کی جھڑیاں لگ جاتیں۔ وہ زمانہ آج سے تقریباً نو سو سال پہلے کا تھا۔ مذکورہ کتاب ”تلبیس ابلیس“ کے باب ہفتم میں امام صاحب نے نہایت جامع انداز سے مسلمانوں کے ہر طبقے اور جماعت کی کمزوریوں، بے اعتدالیوں اور غلط فہمیوں کی نشاند ہی فرمائی ہے کہ کن بارہ(12) طریقوں سے ابلیس والیان ملک کو خوش فہمی میں ڈال کر اپنے مکر و فریب کے جال میں پھانستا ہے اور فتنہ و فساد برپا کرا کر ذلیل و خوار کرتا ہے۔ ان بارہ طرح کے شیطانی مکر و فریب کا خلاصہ یہ ہے:

(وجہ اول) ان لوگوں کے دلوں میں یہ ڈال دیا کہ اللہ تعالیٰ تم کو محبوب رکھتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو کیوں تم کو سلطان بناتا اور کیوں بندوں پر اپنا نائب کرتا۔ یہ تلبیس اس طرح سے کھل جاتی ہے کہ اگر یہ لوگ حقیقت میں اس کے نائب ہیں تو اسی کے قانون شریعت پر حکم کریں اور اسی کی مرضی تلاش کریں تو البتہ وہ ان کو پسند فرمائے گا۔ رہا ظاہری سلطان ہونا تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سلطنت بکثرت ایسے لوگوں کو دی، جن کو قطعاً وہ مبغوض و دشمن رکھتا تھا اور بکثرت ایسے لوگوں کو دنیا میں سلطنت و وسعت دی جن کی طرف رحم کی نظر نہیں فرمائے گا....(جیسے نمرود اور فرعون وغیرہ) اور ان میں سے بہتوں کو انبیاءو صالحین پر مسلط کر دیا، حتیٰ کہ انہوں نے انبیاءعلیہم السلام و صالحین کو قتل کر ڈالا اور مصلوب کر کے پریشان کیا تو یہ عطا فی الحقیقت ان پر وبال تھی۔ کچھ ان کے واسطے بہترنہ تھی۔

(وجہ دوم) یہ کہ ابلیس ان سے کہتا ہے کہ سلطان اور والیءملک ہونے کے واسطے ہیبت درکار ہے۔ علم کو حاصل کرنے میں حقارت سمجھ کر تکبر کرتے ہیں۔ عالموں کی صحبت کو اپنی شان کے خلاف دیکھتے ہیں۔ جب دنیا چاہنے والوں کی صحبت ہر دم رہی تو طبیعت نے ان ہی کی خصلت حاصل کی۔ طبیعت خود دنیا چاہنے کی خصلت رکھتی تھی۔ پھر ایسی کوئی چیز آڑے نہ آئی جو اس بدخصلت کو روکتی، بس یہی بربادی کا سبب ہے۔

(وجہ سوم) یہ کہ ابلیس ان کو جانی دشمنوں سے خوف دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر طرف بہت مضبوط پہرے رکھو تو بیچارے مظلوم لوگ ان تک پہنچ نہیں سکتے اور جو لوگ ان کی طرف سے مظالم دور کرنے پر مقرر ہوتے ہیں، وہ اپنے کام میں سست ہوتے ہیں۔ خود حاجت والے حاکم تک پہنچ نہیں سکتے۔ قیامت والے دن جب کہ وہ خود سخت محتاج ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی فریاد نہیں سنے گا۔

(وجہ چہارم)یہ کہ سلاطین و امراءایسے لوگوں کو کار پرداز مقرر کرتے ہیں جو اس کام کے لائق نہیں ہوتے۔ پس یہ کار پرداز لوگ سخت بدی کے انبار ان کے پاس بھیجتے رہتے ہیں۔ اس طرح کہ خود لوگوں پر ظلم کرتے ہیں تو ان کی آہ و بددعا کے ذخیرے ان سلاطین پر جمع ہوتے ہیں۔ اگر والیءزکوٰة نے لوگوں سے زکوٰة لے کر ایک فاسق کو مقرر کیا کہ اس قوم کے فقراءمیں تقسیم کرے۔ اس فاسق نے خیانت کی تو والی بری الاذمہ نہ ہوگا۔

(وجہ پنجم) یہ کہ شیطان ان سلاطین کو دکھلاتا ہے کہ امور سیاست میں داخل ہو کر تم اپنی رائے پر عمل کرنے میں اچھی تدبیر کرو گے، لہٰذا یہ شریعت کے مقابلے میں اپنی رائے پر عمل کرتے ہیں۔ ان کو دھوکہ ہے کہ یہ سیاست تو جو اس سیاست کا مدعی ہے، وہ دراصل شریعت میں خلل اور کمی کا دعویٰ کرتا ہے اور یہ کفر کی بات ہے۔

(وجہ ششم) ابلیس ان لوگوں کو لبھاتا ہے کہ اموال سلطنت میں جس طرح چاہو، اپنے حکم سے خرچ کرو، کیونکہ یہ تمہارے حکم میں داخل ہے۔ اس طرح کئی مالی بے ضابطگیاں ہو جاتی ہیں، حالانکہ سلطان کا حق فقط اس کے کام کی اجرت کے اندازے پر ہے۔ بعضوں کو یہ رچاتا ہے کہ فلاں قسم کے لوگوں کو نہ دینا چاہئے، حالانکہ حقیقت میں یہ لوگ پانے کے مستحق ہوتے ہیں۔ سلطان جمیع مسلمانوں کے اموال خزانہ کا محافظ ہے تو وہ غیروں کے مال میں کسی طرح خود مختاری سے بے جا خرچ کر سکتا ہے اگر بے جا اصراف اور خیانت کا مرتکب ہوا تو محاسبے کی زد میں آجائے گا۔

(وجہ ہفتم) ابلیس نے امراءو سلاطین پر رچایا کہ فی الجملہ معاصی و حظ نفس تمہارے واسطے چنداں مُضر نہیں جبکہ تمہاری قوت سے ملک میں امن و امان ہے اور راہوں کی حفاظت ہے۔ یہی کار ہائے نمایاں تم سے عذاب دفع کریں گے۔

(وجہ ہشتم)ابلیس ان میں سے اکثر امراءسلاطین پر یہ تلبیس ڈالتا ہے کہ تم نے ملک کا خوف نظم و نسق سنبھالا ہے۔ دیکھو سب حالات کیسے مستقیم ہیں، حالانکہ جب غور کرو اور دیکھو تو معلوم ہو جائے کہ بکثرت خلل و خرابی موجود ہے۔

(وجہ نہم) ابلیس نے ان کی نظر میں رچایا کہ سخت مار پیٹ سے لوگوں کے بال کھینچ لیں، یعنی مال گزاری و خراج بہت سختی سے وصول کرتے ہیں۔ اگر کسی عامل وغیرہ نے خیانت کی تو اس کا مال ضبط کر لیتے ہیں، حالانکہ اختیار صرف اس قدر ہے کہ خائن پر گواہ قائم کریں یا اس سے قسم لیں۔

(وجہ دہم) ابلیس نے ان کو رچایا کہ اول تو کمزور رعایا سے مال چھین لیتے ہیں۔ پھر اس مال کو خیرات کرتے ہیں۔ اس زعم پر کہ اس سے گناہ مٹ جائے گا، بلکہ کہتے ہیں کہ صدقے کا ایک درہم ہمارے دس درہم، غصب کا جرم اٹھائے گا، مگر یہ باطل اور محال ہے، کیونکہ زبردستی چھین لینے کا گناہ باقی ہے اور رہا صدقہ کا درہم تو وہ اگر غصب کے اس مال سے تھا تو قبول نہیں ہوگا اور اگر مال حلال سے تھا تو بھی وہ غصب کا جرم معاف نہیں کرا سکتا۔ فقہاءکثیر نے کہا ہے کہ غصب وغیرہ حرام مال سے صدقہ دے کر ثواب کی امید رکھنا کفر میں داخل ہے۔

(وجہ یاز دہم)ابلیس نے ان کو رچایا کہ وہ معاصی پر اصرار کے ساتھ ساتھ صلحاءکی ملاقات کا بھی بڑا شوق رکھتے ہیں اور ان سے اپنے حق میں دعائیں کراتے ہیں۔ شیطان ان کو سمجھاتا ہے کہ اس سے گناہوں کا پلڑا ہلکا ہو جائے گا، حالانکہ اس خیر سے اس شر کا دفیعہ نہیں ہو سکتا۔

(وجہ دواز دہم) بعضے عمال اپنے بالا دست حاکموں کے واسطے کام کرتے ہیں تو وہ نچلے عمال کو ظلم کا حکم دیتے ہیں تو یہ منحوس ظلم کرنے لگتا ہے۔ ابلیس اس کو بھی بہکاتا ہے کہ اس کا گناہ سردار پر ہے، جس نے یہ حکم دیا ہے ،تجھ پر نہیں ہے، کیونکہ تو اس کے حکم و قانون پر عمل کرتا ہے، حالانکہ یہ سوچ محض باطل ہے۔ اس لئے کہ یہ شخص اس کے ظلم میں اور ظالمانہ قانون کے عمل درآمد میں اس کا مدد گار ہے تو جو کوئی ظلم و گناہ میں دوسرے کا مدد گار ہو تو وہ بھی عاصی ہے اور یہ بھی ہے کہ مال و دولت بالا دست کے پاس غصب و ظلم وغیرہ سے جم کر کے جاتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ وہ شخص اسراف اور بے جا حرکات میں خرچ کرتا ہے تو یہ بھی ظلم کی اعانت ہے۔  ٭

مزید : کالم