وہ جھوٹا نبی جو رسول کریم ﷺ کے پاس گیااوراپنا جانشین مقرر کرنے کا مطالبہ کردیا ۔اللہ کے رسول ﷺ نے اس کذاب کو قتل نہیں کیابلکہ اس کو ایسے صحابیؓ نے مار کر کفارہ ادا کیا جس نے رسول اللہ ﷺ کو گہرا دکھ پہنچایا تھا 

وہ جھوٹا نبی جو رسول کریم ﷺ کے پاس گیااوراپنا جانشین مقرر کرنے کا مطالبہ ...
وہ جھوٹا نبی جو رسول کریم ﷺ کے پاس گیااوراپنا جانشین مقرر کرنے کا مطالبہ کردیا ۔اللہ کے رسول ﷺ نے اس کذاب کو قتل نہیں کیابلکہ اس کو ایسے صحابیؓ نے مار کر کفارہ ادا کیا جس نے رسول اللہ ﷺ کو گہرا دکھ پہنچایا تھا 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جھوٹے نبیوں کے داعیان نے رسالت مآب کی حیات مبارکہ میں ہی سر اٹھا لیااور فتنے سے کمزور ایمان والون کو گمراہ کرنے میں لگے رہے ۔اوّلین داعیان نبوت کذابوں میں مسیلمہ ایسا بدبخت تھا جس کی خود ساختہ نبوت کے فتنہ کوکافی عرصے بعد بڑے بڑے صحابہؓ نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر جڑ سے اکھاڑ دیا ۔ ایک بارمسیلمہ نے دربار نبویﷺ میں حاضر ہوکر آپﷺ سے گستاخانہ انداز میں کہا تھا کہ مجھے اپنا جانشین مقرر فرمائیں، اس وقت آپ ﷺ کے سامنے کھجور کی ٹہنی پڑی تھی۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا’’ اے مسیلمہ اگر تم امورخلافت میں مجھ سے یہ شاخ خرما بھی مانگو تو میں دینے کو تیار نہیں‘‘مسیلمہ کے تیور اور نظریات سب پر واضح تھے ۔وہ یہ جواب سن کر لوٹ گیا۔کسی نے اسے نہیں روکا تھا ۔ 

جب آپ ﷺ کے دربار سے مایوس مسیلمہ کذاب یمامہ واپس لوٹا تو اس نے اہل یمامہ کو جھوٹی یقین دہانی کرائی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی نبوت میں شریک کرلیا ہے اور اپنی من گھڑت وحی اور الہام سنا سناکر کئی لوگوں کو اپنا ہم نوا اور معتقد بنالیا۔ جب آپ ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے اس کے ہی قبیلے کے ایک بااثر شخص ’’نہار‘‘ کو یمامہ روانہ کیا تاکہ وہ مسیلمہ کو سمجھا بجھاکر راہ راست پر لے آئے مگر یہ شخص بھی یمامہ پہنچ کر مسیلمہ کذاب کا معتقد بن گیا اور لوگوں کے سامنے اس کے شریک نبوت ہونے کی جھوٹی تصدیق کرنے لگا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسیلمہ کذاب کا حلقہ بڑھنے لگا۔ اپنے ہم نواؤں کی کثرت دیکھ کر مسیلمہ کذاب نے اپنے دماغ میں یہ بات پختہ کرلی کہ واقعی وہ حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت میں شریک ہے۔اس گستاخ اور کذاب کی دیدہ دلیری دیکھیں کہ اس نے ختم المرسلین ﷺ کے نام مکتوب بھیج ڈالا۔ ’’مسیلمہ رسول اللہ(نعوذ باللہ ) کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام، معلوم ہو کہ میں امر نبوت میں آپ کا شریک کار ہوں۔ عرب کی سرزمین نصف آپ کی ہے اور نصف میری لیکن قریش کی قوم زیادتی اور ناانصافی کررہی ہے‘‘۔

یہ خط دو قاصدوں کے ہاتھ جب حضور نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچایا گیا تو آپ ﷺ نے ان قاصدوں سے پوچھا ’’تمہارا مسیلمہ کے بارے میں کیا عقیدہ ہے‘‘

انہوں نے کہا کہ ہم بھی وہ ہی کہتے ہیں جو ہمارا سچا نبی کہتا ہے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ’’اگر قاصد کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کرادیتا‘‘۔خاتم المرسلین سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں مسیلمہ کو لکھا۔ ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ منجانب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنام مسیلمہ کذاب۔

سلام اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے، اس کے بعد معلوم ہو کہ زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا مالک بنادیتا ہے اور عاقبت کی کامیابی متقیوں کے لیے ہے‘‘۔

آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ میں یہ مسئلہ کسی نہ کسی طرح چلتا رہا مگر آپ ﷺ کے وصال پاتے ہی مسیلمہ کذاب نے لوگوں کو اپنے دین اور جھوٹی نبوت کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک ایسے عامیانہ اور رندانہ مسلک کی بنیاد ڈالی جو عین انسان کے نفس امارہ کی خواہشات کے مطابق تھا، چنانچہ اس نے شراب حلال کردی، زنا کو مباح کردیا، نکاح بغیر گواہوں کے جائز کردیا، ختنہ کرنا حرام قرار پایا، ماہ رمضان کے روزے اڑادیے، فجر اور عشاء کی نماز معاف کردی، قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری نہیں، سنتیں ختم صرف فرض نماز پڑھی جائے۔ان کے علاوہ اور بہت سی خرافات اس نے اپنی خود ساختہ شریعت میں جاری کیں۔ چونکہ یہ سب باتیں انسانی نفس امارہ کے عین مطابق تھیں اس لیے کم عقل لوگ اس پر ایمان لانے لگے۔ اس کا اثر یہ ہوا ہر طرف فواحشات اور عیش کوشی کے شرارے بلند ہونے لگے اور پورا علاقہ فسق وفجور کا گہوارہ بن گیا۔

مسیلمہ کذاب کی پذیرائی کو دیکھ کر دوسرے مزید بدباطن لوگوں کو بھی دعویٰ نبوت کی جرآت ہوئی جس میں طلیحہ اسدی بھی تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فراست ایمانی سے آغاز خلافت ہی میں ان تمام ہنگاموں کی قوت کا پورا اندازہ لگالیا تھا۔ چنانچہ منصب خلافت سنبھالتے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا تقرر طلیحہ مدعی نبوت کے مقابلے میں کیا اور ساتھ ہی طلیحہ اسدی کے قبیلے سے حضرت عدی بن حاتم کو بھی روانہ کیاکہ ان کو سمجھاکر تباہی سے بچائیں۔ انہوں نے اپنے قبیلے کو بہت سمجھایا جس کے نتیجے میں قبیلہ طئے اور قبیلہ جدیلہ نے خلیفہ اسلام کی اطاعت قبول کرلی۔طلیحہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے مقابلے میں شکست کے بعد شام کی طرف بھاگ گیا جہاں کچھ عرصہ بعد دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہوگیا۔ امیر المؤمنین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تمام فتنوں کی سرکوبی کے لیے مجموعی طور پر گیارہ لشکر ترتیب دیئے تھے، اس میں ایک دستہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل کی قیادت میں مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لیے یمامہ کی طرف روانہ کیا اورہدایت کی کہ حضرت شرجیل رضی اللہ عنہ بن حسنہ کی آمد سے پہلے حملہ نہ کرنا لیکن انہوں نے جوش جہاد میں حملہ کردیا اور شکست کھائی جب اس شکست کی خبر خلیفہ اول کو ملی تو حضرت خالد بن ولیدؓ کو (جو کہ بنی طئے کی مہم سے فارغ ہوچکے تھے) مسیلمہ کے خلاف معرکہ آراء ہونے کا حکم دیا جس میں مہاجرین پر حضرت ابو حذیفہؓ اور حضرت زید بن خطاب رضی الہ عنہ (فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بھائی) اور انصار پر حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا۔ جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ یمامہ پہنچے تو مسیلمہ کذاب کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار تک پہنچ چکی تھی جبکہ مسلمانوں کا لشکر 13ہزار نفوس پر مشتمل تھا۔ مسیلمہ کذاب نے جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی آمد کی اطلاع سنی تو آگے بڑھ کر عقربانا نامی مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ اسی میدان میں حق وباطل کا مقابلہ ہوا۔ اس جنگ میں بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے جن میں ثابت بن قیس، حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہما وغیرہ شامل ہیں۔

مسیلمہ اس جنگ کے دوران ایک باغ میں قلعہ بند چھپا رہا مگر لشکر اسلام نے قلعے کا دروازہ توڑ کر حملہ کردیا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی رضی اللہ عنہ نے جو مسلمان ہوچکے تھے اپنا مشہور نیزہ پوری قوت سے مسیلمہ پر پھینکا جس کی ضرب فیصلہ کن ثابت ہوئی اور مسیلمہ زمین پر گرکر تڑپنے لگا۔ قریب ہی ایک انصاری صحابیؓ کھڑے تھے، انہوں نے اس کے گرتے ہی اس پر پوری شدت سے تلوار کا وار کیا جس سے مسیلمہ کا سر کٹ کر دور جاگرا اور یوں دوسرا جھوٹا نبی بھی نشان عبرت بن گیا۔

مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ جنگ (یمامہ) جھوٹے ’’مدعیان نبوت‘‘ کے خلاف آخری معرکہ تھا جس کے بعد دور صدیقی رضی اللہ عنہ میں کسی اور شخص کو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے کی ہمت نہ ہوسکی۔(حوالہ ۔بائیس جھوٹے نبی۔تالیف۔نثاراحمد خاں فتحی )

مزید : روشن کرنیں