بہترین تعلیمی ادارے کا انتخاب۔۔۔۔مگر کیسے؟

بہترین تعلیمی ادارے کا انتخاب۔۔۔۔مگر کیسے؟

ذلیخا اویس

ایک طالب علم کے تعلیمی دورمیں اچھے اور بہترین تعلیمی ادارے کاانتخاب نہایت اہمیت کا حامل ہے۔عام طور پر دیکھا گیاہے کہ طالب علم میٹرک کے بعد تعلیمی ادارے کاانتخاب کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں کیونکہ طلباء پہلے سے کچھ بھی پلان نہیں کرتے جبکہ ہر طالب علم کے لئے کیریئر کاؤسلنگ بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہی اس کے مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ اکثر طالب علم صحیح وقت پر اپنی دلچسپی کے حساب سے کام کے شعبے کا انتخاب نہیں کرتے تو یہ آگے چل کر ان کے لئے کئی طرح کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اور اکثر تو ان کا پورا کیریئر بھی تباہ ہو جاتا ہے۔موجودہ دور میں کیریئر کاؤنسلنگ کی کمی طلباء کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔وہ خوداس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتے کہ ان کے لئے کونسا شعبہ بہتر ہے اور انہیں کہاں پر اپنی صلاحتیں اور وقت صرف کرناچاہئے۔ خاص طور پر میٹرک کرنے کے بعد اکثر طالب علم اس حوالے سے پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔وہ آئندہ کے تعلیمی سلسلے میں مضامین کے انتخاب کے حوالے سے گو مگو کی کیفیت کا شکار رہتے ہیں۔دوسری جانب ہمارے ہاں اکثر والدین کا یہی اصرار ہوتا ہے کہ ان کا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے اور وہ آرٹس یا دیگر شعبوں کو بے کار سمجھتے ہیں۔ اس سوچ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بچے اپنی مرضی ، ذوق اور صلاحیت کے برعکس دوسروں کی دیکھا دیکھی میں ایسے مضامین کا انتخاب کر لیتے ہیں جن سے ساتھ ان کا نبھا نہیں ہو پاتا۔ اس طرح ناصرف یہ کہ ان کا بہت سا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے بلکہ وہ زندگی کی دوڑ میں اپنے بہت سے دوستوں سے پیچھے بھی رہ جاتے ہیں۔ یہاں بنیادی طور پر سمجھنے والی بات یہ ہے کہ انسان جس کام میں مکمل دلچسپی لیتا ہے وہ کام نتائج کے اعتبار سے بھی کافی بہتر ہوتا ہے۔

پاکستان میں بے روزگاری کے کئی اسباب میں سے ایک تعلیی شعبے کے انتخاب کے سلسلے میں مناسب رہنمائی یا مشاورت کا نہ ہونا بھی ہے۔ یہاں بالخصوص دیہی علاقوں میں اکثر والدین کا المیہ یہ ہے کہ وہ بچوں کو دوسروں کی دیکھا دیکھی ایسے شعبوں کی جانب دھکیلنے پر اصرار کرتے ہیں ،جن میں بچوں کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ہے۔اگر بالفرض کوئی بچے اپنی مرضی کے خلاف کوئی ڈگری حاصل بھی کر لیں تو انہیں نوکری تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے مناسب اور درست مشاورت نہ ہونے کی وجہ سے ایسے مضامین کا انتخاب کر لیتے ہیں جن کی جاب مارکیٹ میں کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی۔ یہ سب کر گزرنے کے بعد نوکری نہ ملنے پر انہیں خیال آتا ہے لیکن اس وقت پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔

یہاں ایک اور بات جو قابل توجہ ہے ،وہ یہ کہ اگر نوجوان کام سے سلسلے میں اپنی صلاحیتوں کے برعکس شعبے کا انتخاب کریں گے تو وہ کام کو بھی بوجھ سمجھ کر سر سے اتارنے کی کوشش کریں گے اور اس کے علاوہ بڑا نقصان یہ ہو گا کہ ان کی اپنی اچھی صلاحیتوں کو زنگ لگ جائے گا۔ نوجوانی میں انسان پرجوش ہوتا ہے۔ وہ اگر درست راہ پر گامزن ہو جائے تو بہت سرگرمی سے کامیابی کی منازل طے کرتا ہے لیکن غلط شعبے میں اگر اسے عمر کے ابتدائی دس سال مسلسل لگانا پڑ جائیں تو پھر کسی نئے اور اپنی مرضی کے شعبے کے انتخاب کے لیے اس میں رسک لینے کی ہمت نہیں رہتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلسل پریشانی اور ذہنی کرب میں باقی زندگی گزارنے پر مجبور رہتا ہے۔

پاکستان میں بدقسمتی سے کیرئیرکونسلنگ کاشدید فقدان ہے۔ جس کانقصان براہِ راست طلباکو ہو تا ہے کیونکہ میٹرک کے بعدان کے سامنے کوئی واضح راہ متعین نہیں ہوتی کہ تعلیمی ادارے کاانتخاب کیسے کیاجائے؟ مضامین کون سے اختیار کیے جائیں اور بہتر مستقبل کا تعین کیسے کیاجائے؟جبکہ آج کل کے طلبا صرف بس نمبروں کی ریس میں لگے ہوئے ہیں۔اس بے حکمتی کاسب سے بڑانقصان طلبا خود ہی اٹھاتے ہیں کیونکہ جب ہروقت وہ کتابی کیڑا بنے رہیں گے،کتابیں گھول گھول کر پئیں گے تووہ صرف اچھے نمبر ہی لے سکتے ہیں۔یہ کبھی نہیں سمجھ سکیں گے کہ ہم نے یہ مضمون کیوں پڑھا؟ اس کا عام زندگی میں کہاں استعمال ہے۔اس کے علاوہ میٹرک کے بعد یہ فیصلہ طلباء کے لیے مشکل ہوتاہے کہ مضامین کو ن سے اختیار کیے جائیں۔ اس کے لیے طلبا کو چاہیے کہ اپنے ذہنی رجحانات کاجائزہ خود لیں۔وہ یہ مشاہدہ کریں کہ کون سا کام انہیں خوشی دیتاہے، کو ن سامضمون پڑھتے ہوئے انہیں وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا،انہیں ریاضی میں دلچسپی ہے یابائیولوجی میں،کیمیا میں وہ اچھے ہیں یاکمپیوٹر میں،سائنس میں انہیں آگے جانے کاشوق ہے یا آرٹس مضامین کی طرف رجحان ہے، تووہ باآسانی اپنے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔

ایف ایس سی میں پری میڈیکل(فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی)جبکہ پری انجینئرنگ گروپ فزکس، کیمیا اور ریاضی۔اس کے علاوہ سائنس گروپ میں شماریات، معاشیات اور ریاضی کابھی کمبی نیشن ہوتاہے۔

ہمارے معاشرے کاالمیہ یہ ہے کہ طلبانے یا تو ڈاکٹر بنناہوتاہے یاپھر انجینئر۔تیسرا کام نہ توانہیں بتایا جاتا اور نہ ہی وہ جانناچاہتے ہیں جبکہ دیگر ممالک میں ایسا بالکل نہیں ہے۔ طلباء کو یہ سوچنا چاہیے، سمجھنا چاہیے کہ ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے علاوہ بھی کئی شعبے ایسے ہیں جن میں طلبا جاکر اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہترکارگردگی دکھا سکتے ہیں۔ میٹرک کے بعداگرکوئی طالب علم آرٹس گروپ میں جانا چاہے، جنرل سائنس میں جانا چاہے توسرکاری کالجوں میں ان کے لیے بھی خاطر خواہ انتظامات ہوتے ہیں مگر افسوس اس بات کاہے کہ طلبا ایف اے کرنا ،اپنی توہین گردانتے ہیں حالانکہ انہیں یہ باور ہوناچاہیے کہ دنیا میں بے شمار کامیاب لوگ ایسے ہیں جنھوں نے ڈاکٹری نہیں پڑھی، انجینئرنگ کی تعلیم نہیں حاصل کی مگر پھر بھی وہ اپنے شعبے کے ماہر ہیں اور ان کی کامیابیوں کی کہانیاں زبان زدِ عام ہیں۔طلبا کا مضامین کے انتخاب کے بعد بڑامسئلہ اچھے کالج کا چناؤ ہوتا ہے۔ سرکاری کالجز اور نجی ادارے اپنی اپنی جگہ پرخدمات سرانجام دے رہے ہیں۔عمومی طور پریہ دیکھاگیا ہے کہ میٹرک کے بعد کسی کالج میں داخلہ لینے کے ساتھ طلبا کوئی نہ کوئی اکیڈمی جوائن کرتے ہیں۔نجی کالجوں میں داخلے والے طلباایک طر ف کالج کی بھاری فیس ادا کرتے ہیں تو دوسری طرف اکیڈمی میں بھی انہیں فیس بھرنا پڑتی ہیں۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اکیدمی جوائن کر انا ایک فیشن بن چکا ہے اس کانقصان یہ ہوتا ہے کہ طلبا اکیڈمی اور کالج دونوں میں بہت سا وقت ضائع کرتے ہیں اور سیلف سٹڈی کے کے لئے وقت کم ملتا ہے،یا پھر وہ کالج میں کلاسیں لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو نجی کالج کی بھاری فیس ادا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اس صورتحال میں ہمارا مشورہ یہ ہے کہ طلبا اچھے کالج کو جوائن کرنے کے بعداکیڈمی چھوڑ دیں یا اگر اکیڈمی ضروری ہی پڑھنا ہے تو کسی سرکاری کالج میں داخلہ لیں۔ہاں البتہ امتحانات سے قبل کسی اکیڈمی میں ’’ٹیسٹ سیشن’’ضرور دی اس سے ان کی تیاری بہتر ہوجائے گی۔ یہ بات بھی باعث افسوس ہے کہ نجی ادارے ہونہارطلبا کو راغب کرنے کے لیے جائزوناجائز ذرائع کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ یہ نہایت غلط طرزِعمل ہے۔ کیونکہ ایک اچھے ادارے کا انتخاب طالب علم کو خودکرناہوتاہے اس کو مجبور نہ کیا جائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض نجی کالجز میں پڑھائی کا معیار تسلی بخش ہوتا ہے، ٹیسٹنگ کا نظام اچھا ہوتا ہے، امتحانات کی تیاری اچھی کروائی جاتی ہے۔لیکن دوسری طرف ان کالجز کی فیسیں بھی ا نتہائی ہوتی ہیں۔اس لیے صرف چند والدین ہی ایسے ہیں جو اتنی مہنگی تعلیم برداشت کر سکتے ہیں۔دوسری طرف گوکہ سرکاری کالجز میں طلبا کو بہت سی شکایات ہوتی ہیں،ٹیسٹنگ کانظام اتنااچھا نہیں ہوتا مگر آج کل دن بدن حکومت پنجاب کے خصوصی احکامات پر پنجاب کے کالجز میں پڑھائی کاسلسلہ تسلی بخش ہے۔ امتحانات کاسلسلہ بھی بہتر ہورہاہے۔ جبکہ سرکاری اداروں کی فیسیں بھی تمام والدین باآسانی ادا کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ہم نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف بھی دھیان دیا جاتا ہے جبکہ یہ سرگرمیاں نجی اداروں میں نہ ہونے کے برابرہیں۔ یہاں بھی میں سمجھتی ہوں کہ طلباء کو ذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے پہلا قدم خود اُ ٹھنا چاہئے اورکیریئر کاؤنسلنگ کے حوالے سے طلباء اور نوجوانوں کو چند باتیں ذہن میں رکھنی چاہئیں۔

*تعلیم کے دوران پروفیشنل شعبوں سے وابستہ لوگوں سے ملتے رہیں اور ان سے اپنے مستقبل کے منصوبوں پر بات چیت کرتے رہیں اس طرح وقت بچنے کے ساتھ ساتھ آپ کے دماغ میں مستقبل کے حوالے سے موجود دھندلاہٹ چھٹ جائے گی اور آپ کے لیے فیصلہ کرنا آسان تر ہوجائے گا۔

*والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے اساتذہ سے مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ انہیں بچوں کی تعلیمی دلچسپیوں کے ساتھ ساتھ ان کی خوبیوں اور کمزوریوں سے آگاہی حاصل ہو سکے۔ جب بچے میٹرک کر لیں تو ان کے اساتذہ سے ملاقات کر کے بچوں کے مستقبل کے بارے میں ان سے رائے لے کر اس پر غور کریں۔

*میڈیا ہاؤسز کو چاہئے کہ وہ ٹی وی ، ریڈیو وغیرہ پر باقاعدگی سے ایسے پروگرام نشر کریں جن کے ذریعے نوجوانوں کی رہنمائی ہو۔ وہ اپنے ان پروگراموں میں کیریئر کاؤنسلنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو بطور مہمان بلا کر سامعین وناظرین کی رہنمائی کریں۔ اس حوالے سے ٹیلی فون پر سامعین کو سوالات پوچھنے کی سہولت بھی دی جاسکتی ہے اور خطوط(ای میلز) کے جوابات بھی اس حوالے سے کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔

* سکولوں اور کالجوں میں انتظامیہ کو چاہئے کہ وقتاً فوقتاً ایسی ورک شاپس منعقد کروائیں جن میں طلبہ اور کیرئر کاؤنسلنگ کے ماہرین کی ملاقات ہو اور ہر طالب علم اپنے ذوق اور دلچسپی کے شعبوں کے بارے میں کھل کا اظہار خیال کر سکے اور اس کے روشن وتاریک پہلوؤں سے آگاہی کے بعد بہتر فیصلے کی پوزیشن میں ہو۔اب یہ طلبا پرمنحصرہے کہ وہ اپنے مزاج کے قریب کن اداروں کوگردانتے ہیں۔طلبا کو چاہیے کہ سنی سنائی باتوں پر دھیان دینے کے بجائے اپنی قوت مشاہدہ استعمال کریں اور اچھے ،برے کا فیصلہ خود کریں کیونکہ یہ بات حقیقت ہے کہ جس شخص میں قوت فیصلہ کا فقدان ہو،وہ شخص ہمیشہ دوسروں کامحتاج رہتا ہے۔ طلبا مشکلات کامقابلہ کریں اور اچھے تعلیمی ادارے کاانتخاب کریں اور ہمیشہ ہمت سے کام لیں، ناکامیوں سے مت گھبرائیں بلکہ انہیں کامیابی کی پہلی سیڑھی سمجھیں۔ اپنی زندگی کو بامقصد بنائیں اور فارغ وقت کا بہترین مصرف ڈھونڈیں، اپنی غلطیوں پر نظر رکھیں اور خود احتسابی کاجذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔

* نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ خود بھی کریئر کاؤنسلنگ سے متعلق مضامین اور ویڈیوز وغیرہ انٹرنیٹ پر تلاش کریں اور ان سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ایسی کتابیں بھی آن لائن دستیاب ہوتی ہیں جن میں کیریئر کاونسلنگ کے بنیادی اصول درج ہوتے ہیں۔ اس لیے پڑھے لکھے اور کمپیوٹر کے استعمال کی شد بْد رکھنے والے طلبہ کو دوسروں پر انحصار کے بجائے اپنے راستے خود ہی تراشنے کی جانب توجہ دینی چاہئے اور بہتر تعلیمی ادارے کا اتخاب کرنا چاہئے ۔

مزید : ایڈیشن 1