ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 34

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 34
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 34

  

بارہ حواری اور اخوان الرسول

میرے اس ذوق کے پس منظر میں عبدالشکور صاحب نے یہ طے کر رکھا تھا کہ مجھے وکٹوریا ریاست کے سب سے اہم تفریحی مقام Twelve apostlesلے کر جائیں گے ۔ یہ تعبیر حضرت عیسیٰ کے بارہ حواریوں یا قریبی ساتھیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔مگر یہاں ان سے مراد ساحل سے بالکل قریب سمندر میں کھڑ ی وہ نو عددچٹانیں ہیں جو موج ساحل میں گھری تن تنہا صدیوں سے ان موجوں کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ ان میں سے ایک چٹان سن 2005میں گرگئی تھی اور اب یہ آٹھ ہی رہ گئی ہیں ۔ بارہ حواریوں سے ان کی نسبت کی یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ سیدنا عیسیٰ کے یہ گنتی کے حواری ان کے بعد تن تنہا اور نہتے اپنے دور کی پوری مشرکانہ دنیا سے ٹکرا گئے تھے ۔آخرکارتین صدیوں بعد مسیحیت دنیا کی سب سے بڑ ی سلطنت یعنی روم کا سرکاری مذہب اور آج دنیا کا سب سے بڑ ا مذہب بن چکی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بعدمیں آنے والوں نے سیدنا مسیح کی ایمان و اخلاق کی دعوت میں شرک کی آمیزش کر دی۔یہ اعزاز تو اللہ تعالیٰ نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے کہ آپ کے اصل پیغام کو کبھی گم نہیں کیا جا سکتا۔ہاں اسے ازسرنودریافت کرنا پڑ تا ہے ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 33  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی ابتداء میں تو صحابہ کرام کی وہ پوری جماعت تھی جس نے دین حق کے ابلاغ کا کام بہت تھوڑ ے عرصے میں کرڈلا۔ مگر اب جب کہ ایمان و اخلاق کی آپ کی اصل دعوت اجنبی ہو چکی ہے ، آپ کی امت کو بھی ایسے صاحبان دل چاہئیں جو اصل دین کو ڈھونڈیں اور پھر اسے لے کر تن تنہا اور نہتے پوری دنیا سے ٹکراجائیں ۔شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحیح حدیث میں اپنے بھائی کاجلیل القدر خطاب دیا اور ان کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔یہی وہ لوگ ہیں جو اُس وقت صحیح دین پوری دنیا میں پھیلادیں گے جب باقی لوگ اصل دین کی جگہ اپنے مفادات، خواہشات اور تعصبات کی پیروی کر رہے ہوں گے ۔

گریٹ اوشن روڈ

میں پچھلی رات سفرکی وجہ سے سونہیں سکا تھا۔ عبد الشکور صاحب کو کچھ تردد تھا کہ آیا میں دن بھر کے اس طویل سفر کے لیے تیار ہوں ۔ اس رات بھی سوتے سوتے بارہ بج گئے اور پھر فجرقریبی مسجد میں ادا کرنے کے لیے پانچ بجے اٹھ گئے تھے ۔ مگر چونکہ ملبورن میں میرا قیام بہت کم تھا اس لیے میں تکان کے باوجود چلنے کے لیے بالکل تیار تھا۔ ناشتہ کے بعد ہم روانہ ہوئے ۔ کل کے ساتھی یعنی الیاس صاحب اورعظیم صاحب ہمارے ہمراہ تھے جبکہ طاہر صاحب نہیں آ سکے تھے ۔

عبدالشکور صاحب نے بتایا کہ آسٹریلیا کے لوگوں کے لیے یہ جگہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ تھی۔ اس عجوبے تک جانے کا راستہ یعنی گریٹ اوشن روڈ یا عظیم سمندری سڑ ک بھی بلاشبہ دنیا کے خوبصورت ترین راستوں میں سے ایک تھا۔زندگی کے سفر میں بعض اوقات منزل سے زیادہ راستہ خوبصورت ہوتا ہے ۔ اس راستے کی مثال ایسی ہی تھی۔ اس چھ گھنٹے کے راستے میں اتنے خوبصورت مناظر ساتھ ساتھ رہے کہ آنکھوں کی بینائی اور خداکی صناعی ، دونوں پر خدا کی حمد کرتے رہے ۔

خدا کی جنت بھی ایسی ہی جگہ ہو گی۔ اہل جنت جنت میں سویا نہیں کریں گے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ انھیں کبھی کوئی تکان لاحق نہیں ہو گی کہ اسے مٹانے کے لیے انھیں سونا پڑ ے ۔ مگر دوسری حقیقت مجھ پر اس وقت واضح ہوئی جب راستے میں عبدالشکورصاحب نے مجھ سے نیند پوری کرنے کے لیے کہا۔ میں نے کچھ دیر آنکھیں بند کیں اور پھر عرض کیا کہ یہاں کی خوبصورتی مجھے سونے کی اجازت نہیں دے رہی۔ جنت واقعی ایسی جگہ ہو گی کہ جہاں کی خوبصورتی انسان کو سونے اورآرام کرنے حتیٰ کہ آنکھیں بند کرنے کی اجازت بھی نہیں دے گی۔

فضا انتہائی شفاف اور بے آمیز تھی۔ اوپر نیلا آسمان اور اس پر جگہ جگہ تیرتے سفید بادل۔ پھر نیچے کے مناظر وقفے وقفے سے بدل رہے تھے ۔ راستے میں جگہ جگہ گھاس کے وسیع و عریض میدان آئے ۔ان پر چلتی اور چرتی ہوئی سفید بھیڑ وں کو دور سے دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ گویا سبزمخملی چادر پر سفید موتی جڑ ے ہوئے ہیں ۔یہ بھیڑ یں ان لوگوں کی ملکیت تھیں جو ان وسیع و عریض میدانوں کے پاس تن تنہا گھر بنا کر وہاں رہتے تھے ۔مقامی حکومت ہر گھر کے لیے انفراسٹرکچر کی تمام ضروری سہولیات مہیا کرتی تھی۔ان میدانوں میں جگہ جگہ ایک قطار کی شکل میں لگے ہوئے درخت غالباًمختلف مالکوں کے علاقوں کی حد بندیوں کا کام کرتے تھے ۔

اس راستے کا ایک حصہ وہ تھا جو جنگل کے بیچ سے گزرتا تھا ۔ گھنے درختوں کے بیچ سے گزرتی سیاہ تارکول سڑ ک کی اپنی بڑ ی خوبصورتی ہوتی ہے ۔ تاہم اس راستے کی اصل وجہ شہرت اور اس کا سب سے خوبصورت نظارہ سبز پہاڑ ی راستے کے ساتھ ساتھ نیلے سمندر کا وہ خوبصورت منظر تھا جو دیکھنے والوں کی نگا ہوں کو جکڑ لیتا تھا۔ہمیں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے کچھ حصہ بند ملا مگر جو دیکھا وہ بہت خوب تھا۔اسی راستے کی وجہ سے اسے گریٹ اوشن روڈ کہا جاتا تھا۔ یہ سمندر دراصل بحر جنوبی یا ساؤتھ اوشن (South Ocean)تھا۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

دنیا میں پانچ بڑ ے سمندر ہیں ۔جن میں سے تین بہت مشہو رہیں ۔ یعنی بحر الکاہل (Pacific)، بحر اوقیانوس(Atlantic) اوربحر ہند( Ocean Indian)۔ قطب شمالی پر واقع بحر منجمد شمالی یا (Arctic Ocean)چوتھا سمندر ہے ۔ جبکہ پانچواں سمندر یہ جنوبی سمندر ہے جو قطب جنوبی میں واقع براعظم انٹارکٹیکا(Antarctica) کے اردگرد پھیلا ہوا ہے ۔ انٹاکٹیکا کے اردگرد یہ جما ہوا ہے مگر اس کے بعد یہ عام پانی کی طرح ہی بن جاتا ہے ۔ یہ سمندرآسٹریلیا کے جنوبی حصے میں واقع ریاست وکٹوریا سے بھی ملتا ہے جس میں ہم سفر کر رہے تھے ۔تاہم اس کا پانی بہت سرد تھا۔ ہوا بھی ٹھنڈی تھی۔ سرد ہواکی وجہ سے ساحل خالی پڑ ا ہوا تھا۔ یہ ساحل شاید موسم گرما کے شباب میں آباد ہوتے ہوں گے ۔یہ میرے لیے بہت غنیمت تھا کہ اس طرح میں اس ساحل اور اس کے خوبصورت مناظرکو دیکھ پایا۔ ورنہ مجھے یقین ہے کہ موسم گرما کے شباب میں یہاں کی ’’پرشباب ‘‘سرگرمیوں کی بنا پرمیرے میزبان مجھے دور ہی سے ساحل دکھاتے اوریہ کہہ کر آگے بڑ ھ جاتے کہ یہ کوئی خاص جگہ نہیں ہے ۔ 

 (جاری ہے)

مزید :

سیرناتمام -