طالبان سے طویل مذاکرات، امریکہ فیس سیونگ کا متلاشی

طالبان سے طویل مذاکرات، امریکہ فیس سیونگ کا متلاشی

امریکی حکومت گزشتہ چند ماہ سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے متعدد اجلاس ہونے کے باوجود تاحال کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ ماسکو میں طالبان نے افغان رہنماؤں سے بھی مذاکرات کئے ہیں جس پر اشرف غنی بھی منہ پھلائے ہوئے ہیں۔ بعض اوقات کوئی تعطل آڑے آجاتا ہے تو پھر امریکہ حسب سابق پاکستان کی حکومت کا تعاون طلب کر کے مذاکرات کا تسلسل جاری رکھنے کے لئے اپنی کوششیں شروع کر لیتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان بھی طالبان رہنماؤں کو مذاکرات کو مثبت انداز سے آگے بڑھا کر کار آمد نتائج کے حصول کی تگ و دو کر رہے ہیں اور وزیر خارجہ شاہ محمود تو بہت ہی پرامید ہیں، مگر یہ گفت و شنید بظاہر غیر ضروری طور پر طویل ہو گئی ہے۔ جس سے قرب و جوار کے ممالک میں کچھ اضطراب اور تشویش لاحق ہونا فطری امر ہے۔ کیونکہ جنگ و جدل کے حالات اور گاہے بگاہے دہشت گردی کے واقعات سے گرد و نواح کے علاقوں میں کچھ تکلیف دہ اور پریشان کن اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں، جو وہاں کسی حد تک قیمتی انسانی جانوں اور مالی نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔

امریکہ بہادر اپنی مسلح اتحادی افواج کے ہمراہ 7 اکتوبر، 2001ء کی شب افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس فوج کشی کی ایک بڑی وجہ، اس وقت کی افغان حکومت کی جانب سے اسامہ بن لادن کو امریکی حکومت کے مطالبے پر امریکی انتظامیہ کے حوالے نہ کرنا تھا۔ حملہ آور ہونے کے وقت سے آج تک، امریکی قیادت میں افغانستان کے چپے چپے میں اتحادی افواج کی جدید اسلحہ کی گولہ باری اور بمباری سے، لا تعداد افغان عوام موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔

اسامہ کو پکڑنے اور مزاحمت پر گولی مار دینے کی کارروائی چند سال قبل خفیہ طور پر پاکستان میں ایبٹ آباد کے مقام پر بروئے کار لانے کی اطلاعات بھی کئی ذرائع ابلاغ میں ظاہر ہوئی تھیں۔

اگرچہ وطن عزیز کے کئی لوگ وہاں اسامہ بن لادن کی موجودگی میں ان کوجان سے مار دینے کی خبر سے، آج تک تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ یوں معاملہ تا حال مشکوک ہی بنا ہوا ہے۔ امریکی اتحادی افواج نے افغانستان میں لاکھوں بے قصور افراد بشمول خواتین اور بچوں کو بے رحمی سے قتل و غارت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ امریکی اتحادی افواج وہاں اتنے طویل عرصے مسلسل مقیم اور موجود کیوں چلی آ رہی ہیں۔

دہشت گردی کے ارتقاب کا الزام تو بلا شبہ اس فریق کی طرف سے کچھ وقفوں سے مسلسل لگایا جا رہا ہے، حالانکہ قابل غور امر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے کسی متعلقہ ذمہ دار ادارے کی جانب سے دہشت گردی کے جرم کی کوئی مخصوص، مدلل و معتبر اور مستند تعریف ذرائع ابلاغ میں آج تک ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ یہ ابہام کی کیفیت انصاف پسند اداروں، غیر جانب دار طبقوں اور لوگوں کے لئے بہت افسوس ناک اور المناک ہے۔

اقوام متحدہ کے متعلقہ اہل کار ریکارڈ دیکھ کر ایسی کوئی ٹھوس دستاویزی شہادت لوگوں کو بتائیں، اس طرح کسی ملک کے رہنما کی خواہش، مرضی یا ادارے کے الزامات کو بین الاقوامی درجے کے قانون کی موثر حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ بہتر یہ ہے کہ ایسی غلط حکمت عملی کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دیا جائے۔

امریکی حکومت،افغان طالبان کے ساتھ، جو مذاکرات کر رہی ہے، اس کے ہر دور کے بعد، عالمی سطح پر لوگ، کسی ایسے تصفیئے یا فیصلہ کے مشترکہ اعلان کے منتظر ہیں، جس سے فریقین باہمی گفت و شنید سے، کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں۔ یوں ان کے درمیان سالہا سال سے جاری کشمکش اور محاذ آرائی دم توڑ جائے گی یا اسے باہمی اتفاق و مفاہمت سے ختم کر دیا جائے گا…… لیکن مذاکرات کی کئی ماہ سے، دہرائی گئی طویل کارروائیوں سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بہادر، افغان سرزمین پر، غالباً میدان جنگ میں جاری کارروائیوں کے اپنی پسپائی کے نتائج کو، مذاکرات کی میز پر، فتح اور کامیابی کے نتائج میں، تبدیل کرنے کا خواہش مند نظر آتا ہے۔ یہ طرز عمل، امریکی قیادت کا تا حال جاری رکھنے کا، کوئی منصفانہ جواز نہیں لگتا۔

آخر یہ لوگ، تحفظ انسانی حقوق سے عملی طور پر، باہر کیوں ہیں؟ طالبان تو افغانستان میں اپنے ملک، علاقوں، اداروں اور ذاتی و اجتماعی املاک میں موجود ہیں۔ جبکہ امریکی اتحادی افواج، وہاں ہزاروں میل دور سے، وارد ہوئی ہیں۔ امریکہ بیشک ایک بڑا ملک اور سپر پاور ہے۔ جو اقوام متحدہ میں اہم مقام رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے ادب و احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے بڑے اور طاقتور رکن ممالک قوانین کی پابندی اور پاسداری کا خصوصی طور پر اہتمام کریں تاکہ عالمی امن کو تمام خطہ ہائے ارض پر فروغ ملے۔

اس لئے افغانستان کے بارے میں مذاکراتی عمل میں بھی، امریکی رہنماؤں کو اپنی بالا دستی کو، ہر صورت ترجیح دینے کی پالیسی سے موجودہ بدلتے حالات کے مطابق تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ امریکہ بہادر، افغانستان میں، اپنی دیرینہ جارحانہ اور ظالمانہ کارروائیوں پر، وہاں کے لوگوں سے معافی مانگے، انہیں مناسب مالی معاوضہ ادا کرے اور اتحادی افواج کو، جلد وہاں سے واپس بلا کر جنوبی ایشیا کے اس خطے میں سی پیک کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو، اپنے پروگراموں کے تحت مکمل ہونے دے۔

مزید : رائے /کالم


loading...