لاہور سے میلان... گرمی سے سردی کا سفر

لاہور سے میلان... گرمی سے سردی کا سفر
لاہور سے میلان... گرمی سے سردی کا سفر

  

اٹلی میں Pre-COPانٹرنیشنل کانفرنس میں جانے کے لئے میری فلائیٹ لاہور سے دبئی تھی  اور وہاں سے میلان جانا تھا۔ جہاز نے چار بجے اُڑان بھرنی تھی لیکن ایئر لائن کا حکم تھا کہ  بارہ بجے حاضری دیں تاکہ کچھ کوووڈ ٹیسٹ کئے جا سکیں۔رات بارہ بجے گھر سے نکلی تو موسم کافی بہتر تھا ،اللہ کا شکرا دا کیا کیونکہ ابھی چند دن پہلے ہی شہر میں اس قدر حبس تھا کہ سانس لینا محال ہو رہا تھا۔۔۔ گھر سے ایئر پورٹ تک یہی سوچتی رہی کہ یہ گرمی آنے والے دنوں میں بڑھتی جائے گی، پھر حکومت  کے ایک وزیر کا بیان یاد آیا جس میں وہ بتا رہے تھے کہ پنجاب میں موسم گرما کےدوران 60 فیصد بجلی کی کھپت کولنگ کے لئے استعمال ہوتی ہے,یہ 60 فیصد ایسا نمبر نہیں جس کو ہم نظر انداز کر دیں بلکہ اس پر انفرادی اور اجتماعی طور پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔

 

اس وقت پوری دنیا  کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔۔۔ تمام عالمی تجزیوں اور بی بی سی جیسے ادارے کی تحقیق سے پتہ  چلا ہے کہ عالمی طور پر ہر خطے کے  درجہ حرارت میں دو گنا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔۔۔ ہر سال انتہائی گرم دنوں کی تعداد ،جب درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، دوگنا  ہو گئی ہے۔۔۔موسم کی تبدیلی اور سورج کی تپش اب دنیا کے زیادہ  علاقوں تک  پہنچ چکی ہے۔۔۔  دیکھا جائے تو یہ صورتحال امیر اور غریب  دونوں ملکوں کے لئے یکساں  چیلنج ہے۔۔۔ دراصل 1980ء کے بعد سے ہر دہائی (دس سال) میں درجہ حرارت   پچاس ڈگری یا 122 ڈگری فارن ہائیڈ سے زیادہ نوٹ کیا گیا ہے ۔ حیرت انگیز طور پر  ٹمپریچر  کی یہ حد 2010ء اور 2019 ءکے درمیان سال میں 26 دنوں تک پہنچ گئی ہے،اس کا مطلب ہے کہ شدید گرمی کے سیزن  میں ہر ماہ  کے  صر ف چار د ن ہی درجہ حرارت نارمل رہتا ہے جبکہ  باقی 26 دن  یہ پچاس ڈگری کے قریب پہنچ جاتا ہے۔۔۔سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر نومبر میں گلاسکو میں ہونے والی کانفرنس کے دوران عالمی رہنماؤں نے گلوبل وارمنگ پر کنٹرول کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کے لئے عملی راستہ نہ اپنایا تو  درجہ حرارت میں یہ اضافہ بڑھ سکتا ہے۔۔۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماحولیاتی تبدیلی کے انسٹی ٹیوٹ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فریڈرائک اوٹو کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ایسے مقامات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جہاں درجہ حرارت  پچا س ڈگری کوپہنچ رہا ہے۔۔۔  بی سی سی کی  تحقیق کے مطابق انیس سو اسی کی دہائی  میں ایسے مقامات کی تعداد 200 تھی، جو انیس سو نوے کی دہائی میں بڑھ کر 400 ہو گئی، اسی طرح دو ہزار کی دہائی میں ان مقامات کی تعداد 560 تک پہنچ گئی جبکہ 2010ء کی دہائی میں ایسے گرم ترین مقامات کی تعداد 876 تک جا پہنچی ۔۔۔ سائنس دانوں  کو  خطرہ ہے کہ بڑھتی ہوئی  گلوبل وارمنگ  کے نتیجے میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔۔۔

اس شدید موسم اور درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافے کے نتیجے میں انسانوں اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر مخلوقا ت کے لئے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔۔۔ نہ صرف جانداروں بلکہ عمارتوں ، سڑکوں اور بجلی کے نظام کو بھی سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔۔۔ ایک بات یہ  بھی سامنے آئی ہے کہ 50 ڈگری  سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے زیادہ تر شکار مشرق وسطیٰ اور خلیجی  ممالک ہو سکتے ہیں  جبکہ اٹلی میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ  کا ریکارڈٹوٹ چکا ہے۔۔۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں سکول آف انوائرمنٹ کے محقق ڈاکٹر سیہان لی کا کہنا ہے کہ اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔۔۔  دنیا کو اس طرف زیادہ توجہ اور بہت  تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے، بڑی بڑی کانفرنس اور دعوؤں سے زیادہ ضروری ہے کہ عملی اقدامات کریں۔۔۔ آج   جتنا تیزی سے ہم اپنے ماحولیاتی آ ٓلودگی پھیلانے والے مواد کو کم کریں  گے  دنیا کے لئے اتنا ہی بہتر ہوگا۔۔۔ ایک  امریکی  تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 1.2 بلین افراد سن  2100ء کے اختتام تک گرمی کے شدید دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں جو سن 2000ءکے مقابلے میں  کم از کم چار گنا زیادہ ہے۔۔۔

نومبر کی کانفرنس اور میلان کانفرنس  کا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ  اگر آج  مل کرماحولیاتی تبدیلی  کا مقابلہ کرنے کے لئے اقدامات نہ کئے تو آئندہ دس سال کے دوران دنیا بھر میں 13کروڑ لوگ غربت کے شکنجے میں چلے جائیں گے، پوری دنیا کی معیشت یرغمال بن جائے گی۔۔۔گھر سے باہر ہوا کی آلودگی کے باعث  ہر سال 4.2 ملین فراد دنیا بھر میں ہلاک ہو سکتے ہیں۔۔۔ اقوام متحدہ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ حالیہ چند سال کے دوران 91 فیصد دنیا کی آبادی ایسی جگہ رہتی ہے جہاں ہوا کی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔۔۔ 

یہ اعداد و شمار بہت خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔۔۔  سچ تو یہ ہے کہ آج ماحولیاتی تبدیلی کا چیلنج، ہر قوم،  ہر خطے، ہر پس منظر رکھنے والے قبیلے اور  رنگ و نسل کو متاثر کر رہا ہے۔۔۔  دنیا کو سوچنا ہو گاکہ اگر ہمارا مستقبل اور ہمارے مفادات مشترکہ ہیں، تو اقداما ت کے لئے بھی یکجا ہونا ہوگا۔ ۔۔دنیا کو گلوبل وارمنگ کے خلاف بھی ایک جامع اور وسیع اتحاد کی ضرورت ہے ۔۔۔

(زینب وحید کیمرج 11 کی طالبہ، کلائمٹ چینج، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ، مصفنفہ اور صف اول کی مقررہ ہیں۔ زینب وحید کو اقوام متحدہ کے تحت میلان میں یوتھ فار کلائمٹ چینج انٹرنیشنل کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس 2021  کی پینلسٹٓ، اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل سول سوسائٹی کے تحت کانفرنس میں پینلسٹ کے طور پر بھی شامل ہیں۔ لمز جیسے تعلیمی ادارے میں لڑکیوں کی تعلیم اور پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کی سفیر ، یوتھ ایڈووکیسی نیٹ ورک کی والنٹیئر، پاکستان ڈیبیٹنگ سوسائٹی لاہور کی صدر ہیں۔ انٹرنیشنل میگزین "اسمبلی" کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔ مضمون نویسی کے متعدد بین الاقوامی مقابلے بھی جیت چکی ہیں 

زینب وحید کے سوشل میڈیا لنکس مندرجہ ذیل ہیں ۔https://twitter.com/UswaeZainab3 https://www.facebook.com/uswaezainab.official/

https://www.instagram.com/uswa_e_zainab_/

https://www.linkedin.com/in/uswa-e-zainab-1a8a8817a/)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -