پولیس کا شہریوں پر بہیمانہ تشدد

پولیس کا شہریوں پر بہیمانہ تشدد
پولیس کا شہریوں پر بہیمانہ تشدد

  


ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ایک طرف تو پولیس کے اعلیٰ افسران اور حکومت کی جانب سے پولیس کلچر میں تبدیلی اور اصلاحات کے دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ دوسری طرف پولیس بھرپور ڈھٹائی سے ٹارچر سیلز کا استعمال کر تے ہوئے ظلم و بربریت کی بدترین مثالیں قائم کررہی ہے۔ اور ستم ظریفی تو یہ کے ان ٹارچر سیلز میں زیادہ تر ان غریب لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جن کے پاس ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کا کوئی مناسب ذریعہ موجود نہیں ہوتا۔ پولیس تشدد سے صلاح الدین کی ہلاکت کے بعد گزشتہ روزضلع وہاڑی کے علاقہ لڈن میں پولیس کے نجی ٹارچر سیل میں غریب خاتون کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق مقامی بااثر زمیندار ایاز خان کے گھر سونا چوری کی واردات ہوئی جس کا مقدمہ نمبر 598 تھانہ لڈن میں درج ہوا ، اس پر لڈن پولیس نے محلہ امام بارگاہ کی رہائشی ظہوراں بی بی نامی غریب خاتون کو چوری کے الزام میں گرفتار کیا اور نجی ٹارچر سیل میں لیجا کر پولیس اہلکار مبینہ طور پر خاتون کو دو روز تک تشدد کا نشانہ بناتے رہے ۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ٹرینی سب انسپکٹر طاہر چوہان اور اے ایس آئی یونس سمیت دیگر انکے ساتھی خاتون کو مبینہ طور پر برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اہلکاروں نے سیڑھی پر لٹکائے رکھا، خاتون کے اعضائے مخصوصہ پر صربات لگاتے رہے اور بجلی کے جھٹکے بھی لگائے گئے، حالت غیر ہونے پر پولیس اہلکاروں نے کسی بھی کاروائی سے باز رکھنے کیلئے خاتون کے ورثاءسے دس کروڑو روپے کا پرونوٹ لیا اور گھر کے باہر چھوڑ کر چلے گئے۔ جبکہ خاتون پر بدترین تشدد کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔ جس پر آرپی او ملتان وسیم احمد خان ڈی پی او وہاڑی کے ہمراہ رات گئے متاثرہ خاتون کے گھر پہنچے اور صورتحال دریافت کی۔ عوام آر پی او ملتان کے سامنے لڈن پولیس کے خلاف پھٹ پڑے۔ آر پی او ملتان کے سامنے متاثرہ خاتون زاروقطار روتے ہوئے بتایا کہ مجھے سول کپڑوں میں ملبوس لوگوں نے گھر سے اٹھایا اور نجی ٹارچر سیل میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس پر آر پی او ملتان نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو کسی پر ظلم کی ہرگز اجازت نہیں جاسکتی اور وزیر اعلیٰ کے احکامات کی روشنی میں فوری ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات صادر فرمائے ۔ بعد ازاں پولیس تشدد میں ملوث افراد کے خلاف دفعہ354,337,342 سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے ڈی ایس پی سمیت متعدد پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم حاجی یونس اے ایس آئی تاحال مفرور ہے ۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تبدیلی کے دورمیں بھی پولیس کلچرتبدیل نہ ہوسکا ہے، اور پولیس بدستوربااثرافرادکے ہاتھوں کھلونابنی ہوئی ہے ۔اس سے قبل بھی یہی پولیس اہلکار اسی چوری کے الزام میں سہیل نامی ایک نوجوان کو مبینہ تشدد کا نشانہ بناچکے ہیں جو نشتر ہسپتال ملتان میں زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہے ۔قبل ازیں بھی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے رحیم یار خان میں بنک کی اے ٹی ایم توڑنے کے مقدمے میں ماخوذ ایک مخبوط الحواس شخص کی پولیس تشدد کی وجہ سے ہلاکت کے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کمیشن مقرر کرنے کے لئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا ہے ۔ اسی طرح لاہور میں بھی ایک نوجوان پر چوری کا الزام لگا اور وہ اپنی صفائی دینے کے لئے خود پولیس سٹیشن چل کر گیا،لیکن اسے بھی کسی نجی عقوبت خانے میں تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا۔آئی جی پولیس نے اپنی ایک وڈیو میں اس واقعہ کی تحقیقات کا اعلان تو کیا ہے لیکن اگر تحقیق کا ڈول ڈالا جاتا ہے تو ایسی کوئی تحقیق صرف اس پہلو سے نہیں ہونی چاہئے کہ کوئی ملزم پولیس تشدد سے مرا یا طبعی موت ، بلکہ اصل تفتیش تو یہ ہونی چاہئے کہ جن پولیس افسران نے نجی عقوبت خانے بنا رکھے ہیں اس کا اختیار اُنہیں کس قانون کے تحت حاصل ہے ؟ لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے یہاں گورنر اور وزیراعلیٰ بھی بیٹھتے ہیں، ہائی کورٹ ہے ، چیف سیکرٹری اور دوسرے اعلیٰ افسر یہاں موجود ہیں،آئی جی پولیس بھی یہیں قیام فرماتے ہیں ان سب کی موجودگی میں اور ان کی ناک کے عین نیچے کسی اے ایس آئی یا ایس آئی نے اگر نجی عقوبت خانے بنا رکھے ہیں تو لڈن جیسے پسماندہ علاقوں کے حالات کیا ہوں گے۔ یہ عقوبت خانے پولیس کے پورے نظام کی بدنامی کا باعث ہیں جہاں زیر حراست افراد پر تشدد کر کے ان سے بھاری رقمیں وصول کی جاتی ہیں۔ ساہیوال میں پولیس نے ایک ہی خاندان کے افراد کو دہشت گردی کے نام پر قتل کر ڈالا، آج تک اس خاندان کو انصاف نہیں ملا،اب رحیم یار خان کے واقعہ پر جوڈیشنل کمیشن بنانے کا اعلان کیا گیا ہے ،حالانکہ کمیشن کا دائرہ کار محدود نہیں بہت وسیع ہونا چاہئے یہ جو تھانے بکتے ہیں اور بعض افسر بھاری بولیاں دے کر پُر کشش تھانے خرید لیتے ہیں،اس کی پوری کہانی بھی کوئی جوڈیشل کمیشن بنا کر سامنے لانی چاہئے ،لیکن پولیس تو ہر روز کوئی نہ کوئی نیا گل کھلا رہی ہے ۔لاہور ہی میں گزشتہ روز ایک بوڑھی عورت آئی جی پولیس سے ملنے کی کوشش میں ایک پولیس افسر سے بے عزتی کروا بیٹھی، اس عمر رسیدہ خاتون کو جو لاٹھی کے سہارے چل رہی تھی، بجائے اس کے کہ پولیس افسر اُسے اپنے اعلیٰ افسر سے ملانے کے لئے سہولت فراہم کرتا، اُلٹا اس کے ساتھ بدتمیزی کی اور جس لاٹھی کے سہارے وہ چل رہی تھی وہ اس سے چھین کر پھینک دی، جب شہریوں کو اپنے افسران تک رسائی ہی حاصل نہیں ہوگی تو انہیں انصاف کیسے میسر آسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تھانوں میں بندے مارنے اور نجی ٹارچر سیل میں شہریوں پر تشدد کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے اور مقدمات کی تحقیق دور جدید کے مطابق سائنسی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ یہاں المیہ ہے کہ آئی جی پنجاب نے تھانوں میں میں سی سی ٹی وی کیمرے تو لگوا دیئے مگر وہ خود شہریوں کی پہنچ سے دور اور ان کے مسائل سے لاعلم ہیں، اور نجی ٹارچر سیل ختم کرنا بھی شاید ان کی پہنچ سے بہت دور ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...