اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 157

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 157

  

دن کا اجالا ہوا تو خادمہ نے دروازے پر دستک دے کر کہا کہ نیچے ناشتے پر میرا انتظار ہورہا ہے۔میں جلدی سے ہاتھ منہ دھو، لباس تبدیل کرکے نیچے ناشتے کے کمرے میں آگیا۔ محل کے وسطی دالان میں سیاہ ننگی ستونوں کے درمیان سنگ بشعب کی ایک لمبی میز لگی تھی۔ کاؤنٹ کارڈول اکیلا بیٹھا تھا۔ اس نے ایک پراسرار سی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ میرا خیر مقدم کیا اور کہا کہ رات کیسے گزری؟ امید ہے تم گہری نیند سوئے ہوگے۔ میں نے اثبات میں جواب دیا اور اس کے سامنے اونچی کرسی پر بٰٹھ گیا۔ خادمہ گرم مشروب لے کرآئی۔ ہم خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے۔ میں نے ازابیلا کے بارے میں پوچھا کہ وہ ناشتہ نہیں کرے گی؟ اس پر کاؤنٹ کارڈول کے چہرے پر ایک ناخوشگوار ساتاثر بھرا مگر فوراً ہی مسکرایا اور بولا 

’’ازابیلا جزیرے کی خانقاہ میں چلی گئی ہے۔ وہ ان دنوں اعتکاف میں بیٹھی تھی کہ بحری قزاقوں نے حملہ کردیا۔ اب وہ پھر خانقاہ میں چلی گئی ہے۔ بڑی عبادات گزار ہے میری بھانجی۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 156 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک گہر خاموشی چھاگئی۔ معاملہ اور زیادہ پراسرار ہوگیا تھا۔ میں نے جزیرے سے واپس جانے کی بات شروع کردی۔ کاؤنٹ نے ایک لمحے خاموشی کے بعد کہا 

’’پرسوں بندرگاہ سے میرا ایک خاص ملازم بڑی بادبانبی کشتی لے کر یہاں پہنچ رہا ہے۔ تم اس کے ساتھ واپس چلے جانا۔‘‘

وہ چپ ہوگیا۔ میں بھی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ بیچ بیچ میں کسی وقت میری طرف گھو کر دیکھ لیتا ہے۔ میں اسے یہی تاثر دینے کی کوشش کررہا تھا کہ مجھے کسی چیز کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ ناشتے کے بعد کاؤنٹ نے کہا کہ وہ اپنے کمرے میں آرام کرنے جارہا ہے ’’اگر تم چاہو تو جزیرے میں گھوم پھر سکتے ہو مگر اس بات کا خیال رکھنا کہ جزیرے کے درختوں کے نیچے جہاں گلے سڑے پھل گرے ہیں وہاں سانپ رہتے ہیں۔‘‘ میں نے جواب دیا کہ میں ساحل سمندر کی سیر کرنے کو ترجیح دوں گا۔

کاؤنٹ سیڑھیاں چڑھتا اوپر چلا گیا۔ میں کچھ دیر لمبی کرسی پر خاموش بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم رہا۔ پھر میں اٹھا اور محل کے دروازے کی طرف بڑھا۔ باہر رات والے چوکیدار نہیں تھے۔ عقبی باغ کی راہداری کے پتھروں کے بیچ میں جنگلی گھاس باہر نکلی ہوئی تھی۔ یہاں مجھے وہی خادمہ نظر آئی جس نے ہمیں ناشتہ کرایا تھا۔ وہ ایک تسلہ اٹھائے گزر رہی تھی۔ قصداً کچھ تیز چلتا اس کے پاس آکر رک گیا اور جزیرے کے خوبصورت ماحول کے بارے میں ایک دو جملے کہے۔ خادمہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ ساکت چہرے سے میری طرف تکتی رہی۔ میں نے اچانک سوال کردیا کہ ازابیلا جس خانقاہ میں گئی ہے وہ کس طرف ہے؟ اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا تسلا ایک پل کے لیے لرزا۔ اس نے گھمبیر آواز میں کہا

’’سینور! ادھر جانے کا خیال دل سے نکال دیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ باورچی خانے کی طرف گھوم گئی۔ اب میں نے اپنے دل میں فیصلہ کرلیا تھا کہ ازابیلا کا معمہ حل کرکے یہاں سے جاؤں گا۔ میرا دل کہہ رہا تھا کہ ازابیلا کسی سخت مصیبت میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس کی مدد کرنا میرا انسانی فرض تھا اور خاص طور پر ایسی حالت میں جبکہ میں اس کی مدد کرسکتا تھا اور مجھے اپنی جان کی فکر بھی نہیں تھی۔ میں جزیرے میں گھومنے پھرنے لگا۔ میں نے سارا جزیرہ دیکھ لیا مگر مجھے وہ خانقاہ کہیں نظرنہ آئی جہاں بقول کاؤنٹ کارڈول کے اس کی بھانجی ازابیلا اعتکاف میں بیٹھی تھی۔ میں ان گھنے درختوں میں بھی گیا جہاں رات کو میں نے ازبیلا کو غائب ہوتے دیکھا تھا۔ ان درختوں میں بھی سوائے گلے سڑے پھلوں کے اور کچھ نہیں تھا۔ 

آسمان صبح ہی سے ابر آلود تھا۔ دھوپ غائب تھی اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ میں نے جھک کر زمین پر ازبیلا کے پاؤں کے نشان دیکھنے کی کوشش کی لیکن گھاس پر پاؤں کے نشان غائب تھے۔ اچانک ایک سانپ پھنکارتا ہوا جھاڑی سے نکل کر میرے سامنے آگیا۔ میں سانپ کو کچھ نہیں کہنا چاہتا تھا۔ میں نے راستہ بدل لیا۔ جنگلی انداروں کے درختوں کی طرف بڑھا تو سانپ پھنکار مار کر ایک بار پھر میرے سامنے آگیا۔ اس نے میرا راستہ روک لیا تھا۔ وہ مجھ سے تین قدموں کے فاصلے پر زمین سے چار فٹ بلند ہوکر پیھن اٹھائے مجھے اپنی کیسری رنگ کی مقناطیسی آنکھوں سے تک رہا تھا۔ اس سانپ کی موت آگئی تھی۔ اس کے باوجود میں نے اسے زندہ رہنے کا ایک اور موقع دیا اور دوسری طرف قدم اٹھا کر گھوم گیا لیکن سانپ کے سر پر موت منڈلارہی تھی۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی حملہ کردیا۔ اپنے منہ سے شوں کی آواز نکالتے ہوئے اپنے پھن کو بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اس نے آگے جھکایا اور میری کلائی پر ڈس لیا۔ اب مجھے اس پر سخت غصہ آیا۔ کم بخت یہ کسی دوسرے امن پسند انسان کو بھی اسی طرح ڈس کر ہلاک کرسکتاہے میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے گردن سے پکڑلیا۔ سانپ نے اپنا جسم میری کلائی کے گرد لپیٹ کر کسنا شروع کردیا۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ یہ بڑا مہلک اور طاقتور سانپ تھا مگر وہ میری طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ دوسرے ہی لمحے سانپ کی گردن کٹ چکی تھی او راس کا باقی کا دھڑ زمین پر تڑپ رہا تھا۔

جزیرے کے جنوب کی جانب ساحل سے کچھ دور بحری قزاقوں کا جہاز اسی طرح کھڑا تھ۔اس کے بادبان لپٹے ہوئے تھے، وہاں کوئی انسان نظر نہیں آرہا تھا۔ دوپہر تک میں نے سارا جزیرہ چھان مارا مگر مجھے نہ کہیں کسی خانقاہ کا کوئی نشان ملا اور نہ ہی ازابیلا کا کچھ پتہ چلا۔ خدا جانے وہ کہاں گم ہوگئی تھی۔ دوپہر کو میں طبیعت خرابی کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں ہی لیٹ گیا۔ میں نے کھانا بھی نہ کھایا۔ خادمہ کھانے کے لئے بلانے آئی تو میں نے اسے اعتماد میں لینے کی کوشش کرتے ہوئے ازابیلا کی بات چھیڑی تو وہ سہم سی گئی اور بغیر کوئی جواب دیئے تیزی سے واپس چلی گئی۔ میں شاپ تک اپنے کمرے میں لیٹا ازابیلا کی پراسرار گمشدگی کے راز پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتا رہا۔ پرسوں مجھے لامحالہ اس جزیریس ے واپس چلے جانا تھا اور میں اس سے پہلے پہلے ازابیلا کی گمشدگی کا معمہ حل کرلینا چاہتا تھا۔ میرے دل سے بار بار یہی آواز آتی تھی کہ ازابیلا کسی مصیبت میں گرفتار ہے اور اسے میری مدد کی ضرورت ہے۔ جو کشتی مجھے جزیرے سے واپس لے جانے کے لئے پرسوں آرہی تھی اس کے پہنچ جانے کے بعد میرے پاس اس جزیرے میں رہنے کا اور کوئی جواز نہیں تھا اور میں اس سے پہلے پہلے اس راز سے پردہ اٹھادینا چاہتا تھا۔

رات کے کھانے پر پتہ چلا کہ کاؤنٹ بحری قزاقوں کے خالی جہاز پر کسی ضروری کام سے گیا ہوا ہے۔ مجھے کھانے کی حاجت نہیں تھی، پھر بھی خادمہ سے باتیں کرنے کے خیال سے کھانے کی میز پر بیٹھ گیا۔ میں نے خادمہ سے بات کرنے اور ازابیلا اور کاؤنٹ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی بہت کوشش کی۔ مگر خادمہ نے اپنے لبوں پر مہر خاموشی ثبت کررکھی تھی۔ وہ میرے کسی سوال کا جواب نہیں دے رہی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد میں اوپر اپنے کمرے میں آگیا۔ میں نے دل میں تہیہ کرلیا تھا کہ اگلے روز دن کی روشنی میں جزیرے کے چپے چپے کا بھرپور جائزہ لوں گا۔ آخر ازابیلا یہیں اس ج زیرے میں کسی جگہ ہوگی۔ اسے نہ تو زمین نگل سکتی ہے اور نہ آسمان اٹھا کر لے گیا ہے۔

شام کو بادل گھنے ہوگئے تھے اور ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔ رات کے پہلے پہر جزیرے پر دھند سی اتر آئی۔ ویران آسیبی محل پر قبرستان جیسی خاموشی طاری تھی۔ میں نے کھڑکی کا پردہ گرا دیا اور پلنگ پر آکر لیٹ گیا۔ آدھی رات کو مجھے پھر وہی نامانوس بو فضا میں محسوسہوئی اور میری پلکیں اپنے آُ بوجھل ہونے لگیں۔ میں چوکس ہوکر بیٹھ گیا۔ رات آدھی سے زیادہ گزرچکی تھی۔ ایکا ایکی آدھی رات کے سناٹے میں پھر وہی بلی کے ڈراؤنے انداز میں رونے کی آواز ابھر کر اپنے پیچھے ایک آسایبی خلا چھوڑ کر غائب ہوگئی۔

میں اچھل کر بستر پر سے اٹھا۔ پردہ ہٹا کر کھڑکی سے نیچے باغ میں دیکھا۔ مجھے ٹھنڈی ہوا میں نمی کا احساس ہوا۔ باہر ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوگئی تھی۔ تاریک بادلوں میں بجلی کی چمک لہرائی اور پھر ایک گڑگڑاہٹ کی آواز کے ساتھ بادل دیر تک گرجتے رہے۔ ایک بار پھر گہرا سناٹا چھاگیا۔ کھڑکی کے محروبی چھجے پر پھیلی بیل کے پتوں پر بارش کی بوندیں گر کر آواز پیدا کررہی تھیں۔ یہ بڑی پراسرار سرسراہٹ کی آوازیں تھیں۔ میری نظریں اپنے آپ ازابیلا کے کمرے کی کھڑکی کی طرف اٹھ گئیں۔ وہاں گہری تاریکی تھی۔ بلی کے روزنے کی آواز دوبارہ بلند ہوئی۔ اس دفعہ آواز جزیرے میں اس طرف سے آئی تھی جدھر جنگلی انار اور صنوبر کے گھنے درختوں کے جھنڈ تھے۔

وہی ناگوار بو جیسے ایک لہر کی شکل میں میرے قریب سے ہوکر نکل گئی۔ میں کھڑکی سے پیچھے ہٹ گیا۔ میں نے لمبے لمبے سانس لیے ناگوار بو کمرے سے غائب ہوچکی تھی۔ میں نے کھڑکی کے پاس جاکر باہر جھانکا۔ تاریکی ہی تاریکی سناٹا ہی سناٹا، میں تاریکی اور سناٹے کی اس دیوار کو گرادینا چاہتا تھا۔ میرے قدم سیڑھیوں کی طرف بڑھے اور میں محل کے عقبی دروازے کو کھول کر باہر اندھیری ابر آلود رات کی کھلی فضا میں نکل آیا۔ 

میں نے ہلکی بوندا باندی اور اندھیرے میں صنوبر کے تاریک جھنڈوں کی طرف چلنا شروع کردیا۔ گھاس گیلی تھی، ہوا میں درختوں کی شاکیں اندھیرے میں لہرا رہی تھیں۔ آخر میں صنوبر کے درختوں کے گھنے جھنڈ میں پہنچ گیا۔ یہاں اس قدر تاریکی تھی کہ مجھے بھی درختوں کے تنوں سے چمٹی ہوئی جنگلی بیلیں دھندلی دھندلی نظر آرہی تھیں۔ اچانک میرے پاؤں کسی سے ٹکرائے۔ اس کے ساتھ ہی بلی کی چیخ بلند ہوئی۔ میں اچھل کر پرے ہوگیا۔ میں نے جھک کر دیکھا، گھاس پر ایک کالی بلی پہنجے اٹھائے چیت لیتی تھی۔ اور اس کے سینے میں ایک خنجر اترا ہوا تھا۔ بلی کی زرد آنکھیں باہر کو نکل آئی تھیں وہ مرچکی تھی۔ میں نے تاریکی میں آنکھیں پھاڑ کر چاروں طرف دیکھا۔ بجلی چمکی تو اس کی روشنی نے مجھے دور ایک درخت کے نیچے کوئی چمکتی ہوئی شے نظر آئی۔ بادلوں کی گرج کے ساتھ میں اس درخت کی طرف بڑھا۔ جس جگہ بجلی کی چمک میں مجھے کوئی شے چمکتی ہوئی دکھائی دی تھی۔ وہاں ایک چھوٹے سے چبوترے کا ٹوٹا پھوٹا کھنڈر تھا جس کے تین چوتھائی حصے کو جنگلی گھاس اور جھاڑیوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ میں نے جھاڑیوں میں ہاتھ ڈال کر ٹٹولا تو میرے ہاتھ کسی سخت شے سے ٹکرائے میں نے جھک کر دیکھا۔ یہ ایک تابوت تھا۔ پرانا کرم خوردہ سیاہ تابوت جس میں عیسائی لوگ اپنے مردوں کو بند کرکے دفن کرتے ہیں۔ جو چیز اندھیرے میں چمکتی تھی وہ اس تابوت کا ایک کنڈا تھا جو گھاس میں سے ذرا سا باہر نکلا ہوا تھا۔ تابوت کے قبضے ٹوٹ چکے تھے۔ میں نے تھوڑا سا زار لگا کر اس کے تختے کو ایک طرف کھسکا دیا۔ جھانک کر دیکھا، تابوت خالی تھا۔ اس میں نہ کوئی لاش تھی اور نہ کسی لاش کا ڈھانچہ تھا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 158 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -اہرام مصرسے فرار -