اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 158

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 158

  

تابوت کی تہہ میں ایک طرف لکڑی کا تختہ ہٹا ہوا تھا۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ میں تابوت میں اتر گیا۔ تابوت کا تختہ چرچرایا جس جگہ سے تختہ ہٹا ہوا تھا وہاں اندھیری سیڑھیاں نیچے جاتی تھیں۔ یہ ایک تہہ خانے کی سیڑھیاں تھیں جہاں اندھیرا تھا۔ میں سیڑھی کے ہر خستہ حال رنگ خوردہ پتھر کو دیکھ رہا تھا ان پر قدیم ہسپانوی زبان میں کوئی تحریر کندہ تی۔ جو اس قدر ٹوٹی پھوٹی اور بگڑی ہوئی تھی کہ میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ ویسے بھی اس وقت مجھے اس تحریر سے زیادہ ازابیلا کی فکر تھی۔ میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ وہ اس زمین دوز تہہ خانے میں کسی جگہ موجود ہے۔ دس بارہ سیڑھیاں اترنے کے بعد ایک آہنی دروازہ آگیا جس میں ایک چھوٹی سی سلاخ دار کھڑکی تھی جو بند تھی۔ میں نے ہاتھ کا ہلکا سا دباؤ ڈالا۔ دروازہ کھل گیا۔ اندر سے وہی ناگوار بو کا ایک بھبکا میرے نتھنوں کو چھوتا ہوا گزرگیا۔ آگے ایک دالان تھا۔ کسی طرف زرد، کمزور، بیمار سی روشنی آرہی تھی۔ فرش پر کنکر اور خشک گھاس بکھری ہوئی تھی۔ وہ بھدے ستون چھت تک چلے گئے تھے۔ میں ان ستونوں کی اوٹ میں، دبے دبے قدموں سے آگے بڑھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 157 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

زرد دھیمی روشنی ایک محراب میں سے آرہی تھی۔ یہ محراب کسی کھڑخی کی تھی۔ میں نے وہاں سے اندر نگاہ ڈالی تو دہشت کی ایک خفیف سی لہر میرے رگ و پے میں دور گئی۔ یہ ایک گول، پراسرار، نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا کمرہ تھا۔ کونے میں ایک زرد فانوس روشن تھا جس پر سیاہ باریک پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ وسط میں فرش پر ایک دیوان بچھا تھا۔ دیوان پر ازابیلا سینے پر دونوں ہاتھ باندھے لیٹی ہوئی تھی اور ادھیڑ عمر کاؤنٹ میری طرف پیٹھ کیے کھڑا تھا۔ مجھے ازابیلا کا چہرہ دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور معصوم چہرے پر کرب کے اثرات تھے۔ سامنے اندھیرے میں سے ایک عورت کا ہیولا نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک طشتری تھی جس میں عود کی قسم کی کوئی چیز سلگ رہی تھی۔ کاؤنٹ نے چہرہ اوپر اٹھا کر اس عورت کو دیکھا۔ میں نے اسے پہچان لیا۔ یہ کاؤنٹ کی وہی خادمہ تھی جس نے مجھے ازابیلا کی تلاش میں جنگل کی طرف جانے سے منع کیا تھا۔ خادمہ کے بال کھلے ہوئے اور چہرے پر وحشت برس رہی تھی، اس کی آنکھیں کسی بھیڑیے کی آنکھیوں کی مانند چمک رہی تھیں۔ کاؤنٹ نے اسے ہاتھ کا اشارہ کیا۔ خادمہ نے عود کی طشتری ازابیلا کے سرہانے کی طرف رکھ دی اور دونوں بازو پھیلا دئیے۔ کاؤنٹ ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ خادمہ نے اس کے اشارے پر اپنا منہ ازابیلا کی گردن کے ساتھ لگادیا۔ میری روح کانپ گئی، ازابیلا لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔ جب خادمہ نے اپنا منہ ازابیلا کی گردن سے اٹھایا تو اس کے ہونٹوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ کاؤنٹ نے خادمہ کی گردن سے اپنی انگلی کو دبا کر مس کیا اور پھر اسے ساتھ لے کر جدھر سے خادمہ برآمد ہوئی تھی، ادھر اندھیرے میں جاکر گم ہوگیا۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

میں وحشت زدہ نظروں سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ازابیلا اسی انداز میں سینے پر ونوں ہاتھ باندھے آنکھیں بند کئے دیوان پر پڑی تھی۔ میرا خیال تھا کہ کاؤنٹ اور خادمہ وہیں کہیں ہوں گے اور تھوڑی دیر بعد واپس آئیں گے لیکن جب کافی وقت گزرگیا اور دونوں میں سے کئی بھی واپس نہ آیا تو میں کھڑکی میں سے اتر کر ازابیلا کے قریب آگیا۔ اس کی آنکھیں ابھی تک بند تھیں۔ چہرہ چہرہ زرد گلاب کی طرح اداس اور کمزور تھا۔ وہ آہستہ آہستہ سانس لے رہی تھی اور گردن پر خون کے دو ننھے سے قطیر عقیق کی طرح چمک رہے تھے۔ میں نے آہستہ سے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ ازابیلا نے ایک دم سے آنکھیں کھول دیں۔ اپنے سامنے مجھے دیکھا تو اس کے ہونٹ آہستہ سے ہلے ’’سینور! تم۔۔۔ تم یہاں کیوں آئے؟‘‘

میں نے کہا ’’ازابیلا! میں تمہیں یہاں سے لے جانے کے لئے آیا ہوں۔‘‘ ازابیلا ن ے اپنا ہاتھ اٹھا کر میرے ہاتھ کو تھام لیا اور نقاہت بھری آواز میں کہا

’’سینور! خدا کے لئے یہاں سے واپس چلے جاؤ۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ یہ لوگ تمہیں مار ڈالیں گے۔‘‘

میں نے آہستہ سے کہا ’’تم میری فکر مت کرو، اور میرے ساتھ یہاں سے نکل چلو۔ میں تمہیں ان خون آشام درندوں کے پاس نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘

ازابیلا گھبراگئی۔ بولی ’’وہ تمہارے ساتھ مجھے بھی ہلاک کر ڈالیں گے۔ وہ کسی کو روز دار نہیں بناسکتے۔ خدا کے لئے اپنی اور میری جان سے مت کھیلو، سینور!‘‘

میں نے کہا ’’ازابیلا! میں اپنی جان کی بازی لگا کر تمہاری تلاش میں یہاں تک آیا ہوں۔ تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے، میں جانتا ہوں کہ تم زندہ رہنا چاہتی ہو، مگر یہ تمہارا کاؤنٹ مامو۔۔۔‘‘

اس نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی اور آہستہ سے کہا ’’وہ میرا ماموں نہیں ہے۔ میں اس کی بھانجی نہیں ہوں۔‘‘

یہ میرے لئے ایک عجیب مگر حالات کے عین مطابق انکشاف تھا کیونکہ ازابیلا کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کاؤنٹ کررہا تھا، کوئی ماموں اس کا ارتکاب نہیں کرسکتا تھا۔ ازابیلا نے اپنی کمزور آواز میں مجھے بتایا کہ وہ کاؤنٹ کی بھانجی کبھی نہیں رہی، وہ اس کے دور کے ایک رشتے دار کی اکلوتی بیٹی تھی، اس کی ماں مرچکی تھی۔ کاؤنٹ نے اس کے باپ کو سازش کرکے اپنے آدمیوں سے قتل کروادیا اور پھر ازابیلا کو اپنے جزیرے والے پراسرار محل میں لے آیا۔

’’میں ایک برس سے اس کے رحم و کرم پر ہوں۔ اس نے اور اس کی خادمہ نے مجھے اپنے ستم کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ وہ ہفتے میں چار دن مجھے اس زمین دوز تہہ خانے میں لا کر رکھتے ہیں۔ ہر رات یہ دونوں میرے پاس آتے ہیں۔ خادمہ میرا خون چوستی ہے اور اس کے بعد کاؤنٹ اس کے منہ سے خون اگلوالیتا ہے اور خود اس کو پی جاتا ہے۔ مجھے یہ کوئی ایسا مشروب پلادیتے ہیں کہ مجھ پر چار دن تک مدہوشی طاری رہتی ہے۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتی۔‘‘

میں نے ازابیلا کے ساتھ کچھ ایسی باتیں کیں کہ اس کے اندر زندہ رہنے کا ولولہ ایک بار پھر بیدار ہوگیا اور وہ اٹھ بیٹھی۔ میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا ’’تم ابھی یہاں سے اٹھ کر میرے ساتھ چلو۔‘‘

ازابیلا نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ہم جزیرے میں جہاں کہیں بھی چھپے ہوں گے۔ کاؤنٹ کے خفیہ ساتھی ہمیں تلاش کرلیں گے اور پھر ایک عبرت انگیز موت ہمارا مقدر ہوگی۔ کاؤنٹ نے جزیرے میں ای ک جگہ تالاب میں مگر مچھ چھوڑ رکھے ہیں۔ وہ اپنے دشمنوں کو ان مگر مچھوں کے آگے ڈال دیتا ہے اور مگر مچھ ان کی تکا بوٹی کر ڈالتے ہیں۔ میں نے ازبیلا کو بتایا کہ ہم وہاں سے نکل کر جزیرے میں کسی ایسی جگہ چھپ جائیں گے جہاں کاؤنٹ کے آدمی ہمیں کبھی تلاش نہ کرسکیں گے۔ ’’بہرحال تمہیں جتنی جلدی ہوسکے میرے ساتھ یہاں سے نکل جانا چاہیے۔‘‘

ازابیلا پر نقاہت طاری تھی اور ایک رات پہلے اسے کاؤنٹ نے جو مشروب پلایا تھا اس کا اثر اس پر موجود تھ مگر میں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا سیڑھیوں میں سے ہوتا ہوا تابوت میں لے آیا۔ ازابیلا نے مجھے بتایا کہ یہ تابوت کاؤنٹ نے اس لئے وہاں ڈلوارکھا ہے کہ جب میرے جسم میں مزید طاقت باقی نہ رہے اور میں مرجاؤں تو مجھے اس تابوت میں بند کردیا جائے۔ تابوت سے ہم باہر نکلے تو بوندا باندی رک چکی تھی۔ آسمان ابھی تک ابر آلود تھا۔ رات کا تیسرا پہر ڈھل رہا تھا۔ میں نے ازابیلا سے مشورہ کیا کہ اس کے خیال میں جزیرے میں کون سی جگہ سب سے زیادہ محفوظ ہوسکتی ہے۔ اس نے جواب میں بتایا کہ سارا جزیرہ کاؤنٹ کی دسترس میں اور اس کی نگاہ میں ہے۔ ہم جہاں بھیں جائیں گے اس کے آدمی ہمیں تلاش کرلیں گے، پھر بھی جزیرے کے جنوب مشرق کی جانب ایک پرانا قبرستان ہے۔ جہاں آج سے دو سو برس پہلے کی قدیم قبریں موجود ہیں، وہاں ہمیں چھپنے کو جگہ مل سکتی ہے مگر ازابیلا کا کہنا تھا کہ ہم وہاں زیادہ دیر تک اپنے آپ کو نہیں چھپاسکے گیں۔ ہمیں اس جزیرے سے ہی نکلنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

ازابیلا بولی ’’یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ ہم نہتے ہیں اور کاؤنٹ کا جو خاص آدمی تمہارے لئے کشتی لے کر آرہا ہے اس کے ساتھ دو مسلح آدمی بھی ہوں گے جو کشتی پر پہرہ دیں گے۔‘‘

میں نے ازابیلا کو کوئی جواب نہ دیا۔ میں اپنے ذہن میں اس کشتی پر قبضہ جمانے کی ترکیبوں پر غور کرنے لگا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 159 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار