” پھانسی کے پھندے تیار رکھو“ بیروت دھماکے کے بعد عوام نے حکومت کو الٹی میٹم دے دیا، صورتحال سنگین ہوگئی

” پھانسی کے پھندے تیار رکھو“ بیروت دھماکے کے بعد عوام نے حکومت کو الٹی میٹم ...
” پھانسی کے پھندے تیار رکھو“ بیروت دھماکے کے بعد عوام نے حکومت کو الٹی میٹم دے دیا، صورتحال سنگین ہوگئی

  

بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک) لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر 4اگست کو ہونے والے ہولناک دھماکے کے خلاف گزشتہ رات بیروت میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ میل آن لائن کے مطابق بندرگاہ کے ویئرہاﺅس 12میں ہزاروں ٹن امونیم نائٹریٹ غیرمحفوظ طریقے سے 7سال سے ذخیرہ کی گئی تھی جو تباہ کن دھماکے کا سبب بنی۔ لبنانی حکومت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ اس امونیم نائٹریٹ کو کسی اور محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں ناکام رہی کیونکہ اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد انسانی آبادی کے قریب ذخیرہ کرنا بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ چنانچہ مشتعل شہری بیروت کی سڑکوں پر نکل آئے اور پارلیمنٹ کے ارگرد جمع ہو کر احتجاج کرتے رہے۔

اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں جس سے یہ احتجاج پرتشدد مظاہرے میں بدل گیا۔ اس احتجاج کے باعث وزیراطلاعات منال عبدالصمد سمیت دو وزراءنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ احتجاج اس قدر شدید تھا کہ ایک وقت پر لگا کہ پوری حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مظاہرین نے منتشر ہونے سے پہلے دھمکی دی ہے کہ ”پھانسی کے پھندے تیار رکھو، کیونکہ ہمارا غصہ ایک دن میں ٹھنڈا ہونے والا نہیں ہے۔ ہم دوبارہ سڑکوں پر آئیں گے۔“

دوسری طرف دھماکے کی جگہ پر تحقیقات کرنے والے فرانسیسی ماہرین نے بتایا ہے کہ اس دھماکے سے زمین میں 140فٹ گہرا گڑھا پڑا ہے۔ واضح رہے کہ اس دھماکے سے 160لوگ ہلاک اور 6ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ بندرگاہ کے آس پاس کی 50سے زائد عمارتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئی اور لگ بھگ شہر بھر کی تمام عمارتوں کو کسی نہ کسی حد تک نقصان پہنچا جس سے 3لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس دھماکے سے لبنان کو 5ارب ڈالرکا معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -