درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 52

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 52
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 52

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

........اور پھر زمین سے لرزا دینے والی آواز ابھری۔ .... خوفزدہ ہتھنی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔اب یہ عظیم الجثہ جانور کوئی بھی رویہ اختیار کر سکتے تھے۔خطرے کی بو پانے کے بعد تھوڑی دیر تک حشر کا سا سماں رہا۔ مائیں اپنے بچوں کو بلا رہی تھیں اور چھوٹے چھوٹے بچے ان کے نیچے پناہ ڈھونڈنے آرہے تھے۔زیادہ خوفناک شورندی کی طرف تھا جو ہم سے چند گزدور تھا۔

”آ....آ....آہا!یہ تو ان کا سردار ہے۔“اس نے خوفزدہ ہتھنیوں کی بے چینی بھانپ لی تھی۔وہ ان کی مدد کے لیے چنگھاڑتا ہوا پانی سے نکلا۔ بائیں طرف سے ایک اور ہاتھی نے مضطرب پکار کا جواب دیا۔

ایک تو ہم پیدل تھے اور دوسرے اسلحے سے بھی محروم۔ہماری حالت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے،دائیں بائیں خونخوار جانور مورچہ زن تھے اور درمیان میں ہم دو نحیف ونزار نہتے انسان ، اب محتاط انداز میں چلنے کا وقت نہ تھا۔ہم راستے سے ہٹ کر لمبے لمبے ڈگ بھرنے لگے۔دونوں ہاتھی اپنے جھنڈے سے ملے تھے۔مائیں ابھی تک اپنے بچوں کو بلا رہی تھیں۔جانوروں کے احساس تحفظ کا یہ نظارہ حیران کن تھا۔

اگر یہ ہاتھی ہمارا تعاقب کرنے کا فیصلہ کر لیتے تو وہ چند لمحوں کے اندر ہمارا کچومر نکال دیتے مگر ان کی چنگھاڑ کا نیا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔حملہ کرنے سے پہلے یہ جانور جو آواز نکالتا ہے وہ تیز اور لمبی ہوتی ہے۔محض خطرے یا خوف کے وقت بلند ہونے والی آواز سہمی سہمی، باریک اور مختصر ہوتی ہے۔

چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی اور پھر جو آواز سنائی دی تو بتدریج دور سے دور تر ہوتی چل گئی۔تھوڑی دیر بعد شڑاپ شڑاپ کی آوازوں سے اندازہ ہوا کہ پورا قافلہ ندی عبور کررہا ہے۔ہم دوڑتے دوڑتے رک گئے اور پھولا ہوا سانس درست کرنے لگے۔

اب ماحول پر پھر سناٹا طاری تھا۔بس پہاڑ پر سے دھیمی دھیمی آوازیں آرہی تھیں مگر ا یرک کے کان کھڑے ہو گئے۔اس نے پھر سرگوشی کی:

”اب کیا ہے؟“

شاید کسی درندے نے نیچے ندی میں شور شرابا سنا تو اس نے خطرہ محسوس کرکے غرانا شروع کر دیا تھا۔میں نے کندھے اچکائے، ہتھیلی فضا میں میں بلند کی اور انگشت شہادت سے وادی کی طرف اشارہ کیا۔مطلب یہ تھا کہ ہمیں ہمت کرکے آگے بڑھنا چاہیے۔ایرک نے میری بات سمجھ لی۔

ہاتھی راستے سے ہٹ گئے تو پندرہ منٹ بعد ہم نے وادی کی طرف بڑی احتیاط سے سفر شروع کر دیا۔جلد ہی ہم ندی پر پہنچ گئے۔یہ کوئی بیس گز چوڑی تھی۔پانی کناروں تک بہہ رہا تھا لیکن گہرائی صرف گھٹنوں تک تھی۔ندی پار کر کے دوسرے کنارے پر پہنچے۔جھاڑ جھنکاڑ کی بہت کثرت تھی۔جنگل بھی کافی گھنا تھا۔بلند و بالا درختوں کی چوٹیاں فضا میں ایک دوسری سے مل گئی تھیں اور عجب ڈراﺅنا سماں پیدا ہو گیاتھا۔

تاریکی میں اضافہ ہو گیا،ہوا بھی تیز ہو گئی تھی، بانسوں کے پودے ایک دوسرے سے بار بار ٹکرا رہے تھے۔ان کے پتے چر چراتے تو یوں لگتا جیسے اداس وادی ہلکی ہلکی سسکیاں بھررہی ہو۔ ہوا ہمارے عقب سے چل رہی تھی اور جنگلی جانوروں تک ہماری بو پہلے ہی پہنچ جاتی تھی۔ہرن اور ہاتھی تو خاص طور پر ہماری آمد سے خبردار ہو سکتے تھے۔تیز ہوا کے شور سے جنگلی جانوروں کی کوئی آواز سننے میں نہ آتی تھی۔

آگے آگے میں تھا اور پیچھے پیچھے ایرک۔میرے ہاتھوں میں تین سیلوں والی بیٹری روشن تھی۔ میں نے ایرک سے کہہ دیا تھا،وہ اپنی ٹارچ نہ جلائے۔اس کی روشنی کا دائرہ مجھ پر پڑتا تو جانور مجھے دیکھ لیتے۔پھر عقب سے آنے والی روشنی اگلے آدمی کے لیے الٹا رکاوٹ بن جاتی ہے۔

چند لمحوں بعد میرے منہ سے کوئی شے چمٹ گئی۔ٹارچ کی روشنی کے باوجود پتا نہ چل سکا۔ پھر احساس ہوا کہ کسی مکڑے کے جالے میں گھس آیا ہوں۔اس وادی میں قدم قدم پر اس مخلوق سے سابقہ پیش آتا ہے۔اسی لیے مکڑوں کے نام سے مشہور ہے۔یہ عظیم الجثہ مکڑے کوئی دس انچ لمبے ہوتے ہیں،اگرچہ میرے چہرے پر جو مکڑار رینگ رہا تھا، وہ جسامت میں زیادہ بڑا نہ تھا۔ان کے پیٹ سیاہی مائل ہوتے ہیں اور کہیں کہیں ہلکے رنگ میں زرد دھاریاں پائی جاتی ہیں۔آنکھیں لمبی لمبی،سیاہ رنگ کی،بغیر بالوں کے اور طاقتور۔یوں لگتا تھا جیسے لوہے کے تارہیں۔یہ مکڑے جال تو عام مکڑیوں کی طرح بنتے ہیں مگر بہت بڑا اور نہایت مضبوط، باریک۔انجینئرنگ کا قاتل فخر کارنامہ۔کیا مجال اس جال میں پھنسا ہوا کوئی شکار نکل جائے۔مچھر ،مکھی یا دوسرے بھونگے تو دم تک نہیں مار پاتے،یہ جھپٹ کر انہیں دبوچ لیتا اور ان کے اردگرد مزید جال بُن دیتا ہے۔ہاں جال میں پھنسنے والا کوئی مکڑا ہی ہو تو پھر لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ایسی لڑائی کا نظارہ میں نے ایک بار خود کیا تھا۔ عام طور پر اپنے مد مقابل کی ٹانگوں پر حملہ کرتا ہے اور چشم زدن میں اسے لنگڑا کرکے رکھ دیتا ہے۔جب وہ بے بس ہو جائے تو عام شکاری کی طرح اسے دام میں گرفتار کرکے اس کا خون پینے لگتا ہے۔

میں نے اپنے چہرے سے جالا صاف کیا اور سفر جاری رکھا۔ راستہ مزید تنگ ہو گیا تھا اور جنگل بھی پہلے سے زیادہ گھنا تھا۔ ٹارچ کی روشنی ایک درخت کے تنے سے دوسرے تنے پر رقص کرتی رہی۔ تنوں کے اوپر اُگی ہوئی کائی یوں لگتی تھی جیسے درختوں کی ڈاڑھیاں نکل آئی ہوں۔اچانک سناٹا طاری ہو گیا۔ ایرک نے کسی نئے خطرے کے پیش نظر اپنی رفتار تیز کرلی۔ میں رکا تو وہ مجھ سے ٹکراگیا۔

اب ایک نئی افتاد نازل ہوئی۔ موسلادھار بارش ہو گئی۔چھتری یا برساتی بھی تو بے کار ثابت ہوتی۔ ہم تو خالی ہاتھ تھے۔نہ صرف بری طرح بھیگ گئے بلکہ پاس تھوڑا بہت کھانے کا جو سامان تھا، وہ بھی ضائع ہو گیا۔

بارش لگاتا برستی رہی۔

چھوٹی سی ندی،طغیانی پر تھی۔ اردگرد کے پہاڑوں کا تمام پانی اس میں شامل ہو رہا تھا۔ درختوں کی ٹوٹی ہوئی شاخیں بھی بہتی چلی آئی تھیں۔ہم جس زمین پر کھڑے تھے وہ ایک ایک فٹ تک دلدل میں تبدیل ہو چکی تھی اور ابھی بارش رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔کوئی گھنٹہ بھر بادوباراں کے اس طوفان میں ہم گھرے رہے۔پھر اچانک مطلع یوں صاف ہو گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ہمارے چاروں طرف بے پناہ شور تھا۔ ایک طرف ندی پھنکار رہی تھی، دوسری طرف حشرات الارض نے آسمان سر پر اٹھالیا تھا۔

ندی کے کناروں اور جھاڑیوں میں سینکڑوں مینڈک ٹرارہے تھے۔پوری وادی ان کے طربیہ کورس سے گونج رہی تھی۔ہم بڑی احتیاط سے قدم بڑھا رہے تھے۔اچانک میرے سامنے سے کوئی سفید سی چیز گزری۔ بس آناً فاناً غائب ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ پھر نمودار ہوئی۔میں نے ٹارچ کی روشنی اس پر پھینکی۔اُف میرے خدا!وہ کوبرا سانپ تھا۔کیچڑ میں دھنسا ہوا۔

میں نے ایرک کو رکنے کا اشارہ کیا۔ سانپوں کے کان نہیں ہوتے لیکن وہ سماعت سے محرومی کی کمی اپنے دوسرے حواس سے پوری کرلیتے ہیں۔وہ پیٹ کے خلیوں کی مدد سے کوئی بھی حرکت محسوس کر سکتے ہیں۔میں نے ٹارچ کی روشنی اس پر مرکوز کر دی۔ وہ ایک بہت بڑا مینڈک نگلنے میں محو تھا۔ بدقسمت جانور کا سر اور ایک ٹانگ تو سانپ کے منہ میں تھی اور تین ٹانگیں باہر لٹک رہی تھیں۔

میں سانپوں کا عاشق ہوں۔میرے پاس طرح طرح کے سانپ موجود تھے مگر اس قسم کا کوبرا پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ میرا جی للچایا اور میں نے اسے پکڑنے کا فیصلہ کرلیا لیکن مصیبت یہ تھی کہ میں جس تھیلے کی مدد سے سانپ پکڑتا ہوں،وہ میرے سامان میں بندھا ہوا تھا۔ میں نے بہت احتیاط سے اپنا سامان کندھوں سے اتار کر کھولا مگر سانپ کو میری موجودگی کی خبر ہو گئی۔اس نے فوراً مینڈک منہ سے نکال کر پھینکا،غصے میں پھنکارا اور تن کر کھڑا ہو گیا اور پھن لہرانے لگا۔ اسے اور غصہ دلانے کے لیے میں نے زور سے زمین پر پاﺅں مارا۔ سانپ اور اونچا ہو گیا۔اس کا پھن بھی پھیل کر چوڑا ہو گیا تھا۔ ساتھ ہی اس نے غوطہ مار کر حملہ کردیا۔ میں پہلے ہی پیچھے ہٹ چکا تھا اور تھیلا نکلانے کی کوشش کر رہا تھا۔میری نظر سانپ پر تھی اور ہاتھ سامان ٹٹول رہے تھے۔

آخر مجھے تھیلا مل گیا اور میں اسے لے کر تیزی سے سانپ کی طرف بڑھا،وہ بھی مقابلے کے لیے پوری طرح تیار تھا۔ کوبرا پکڑنا اس وقت نہایت آسان ہے جب اس کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرلی جائے۔اگروہ حرکت کررہا ہو تو ایسی کوشش خطرناک ثابت ہوتی ہے۔میں نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھا رکھا تھا،تھیلے کو ہینڈل سے پکڑا ہوا تھا اور پھر بڑی پھرتی سے تھیلا سانپ کے منہ کے آگے کر دیا۔وہ غصے میں پھنکارتے ہوئے اس جھپٹا۔میں نے تھیلا پیچھے کریا۔سانپ کا پھن زمین پر جا لگا۔

یہی وقت ہوتا ہے جب انسان کو مہارت دکھانی پڑتی ہے لیکن یہ ایسا مشکل کام بھی نہیں۔مشق سے انسان مہارت حاصل کرلیتا ہے۔میں نے فوراً سانپ کی گردن مضبوطی سے پکڑ لی۔زمین گیلی تھی اور اندیشہ بھی تھا کہ سانپ نیچے سے کھسک ہی نہ جائے۔ادھر ایرک خوف کے مارے دس فٹ پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ میں نے اسے آگے آکر ٹارچ پکڑنے کو کہا، مگر یوں لگتا تھا اس کے قدم وہیں گڑ کر رہ گئے ہیں۔میں نے اسے دوبارہ آواز دی تو وہ بمشکل مجھ تک پہنچا اور ٹارچ میرے ہاتھ سے لے لی۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 51

”ٹارچ اس کے سر پر مرکوز رکھو۔“میں نے ہدایت کی اور پھر میں بیٹھ گیا۔ سانپ نے اس دوران میں اپنی دم سے میرے بازو کے گرد کنڈی مارلی۔ میں نے بائیں ہاتھ سے کنڈی کھولی اور ایرک سے تھیلا اوپر اٹھانے کو کہا۔اس نے ڈرتے ڈرتے تھیلا اٹھایا، پھر میرے کہنے پر تھیلے کا منہ کھولا۔اب آہستہ آہستہ میں نے سانپ کو دم کی طرف سے تھیلے میں ڈالنا شروع کیا اور آخر میں اس کا سر بھی زور سے اندر پٹخ دیا اور اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔ تھیلے کا منہ اچھی طرح بند کر دیا گیا۔پھر اسے دوسرے سامان میں باندھا اور پھر اپنی پیٹھ پر لادلیا۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کوبرا پکڑنے کے لیے مضبوط اعصاب کی ضرورت ہوتی ہے لیکن میری رائے اس کے برعکس ہے۔سانپ پکڑنے والے کے اعصاب سرے سے ہونے ہی نہیں چاہئیں کیونکہ اگروہ کسی بھی مرحلے پر اعصاب پر کنٹرول نہ رکھ سکا تو اس کی ہلاکت یقینی ہے۔ اعصاب کے بجائے مشق اور مہارت درکار ہے۔ایسی مشق اور مہارت کہ کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر وہ برق رفتاری سے سانپ کو اپنی گرفت میں لے سکے۔(جاری ہے)

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 53 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : آدم خور