یکساں نظام کتاب نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،سلیم خان

یکساں نظام کتاب نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،سلیم خان

  

نوشہرہ(بیورورپورٹ) پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک پین کے صوبائی صدر سلیم خان نے کہا ہے کہ حکومت ایجوکیشن ریگولرٹی اتھارٹی کے نام پر یکساں نظام تعلیم کی بجائے یکساں نظام کتاب نافذ کرنے کی گھناؤنا سازش کررہی ہے جو ہمیں کسی صورت منظور نہیں حکومت نے ایجوکیشن ریگولرٹی بل پاس کرانے میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو اعتماد میں نہیں لیاتھا ان خیالات کااظہارانہوں نے نوشہرہ میں صحافیوں کے ساتھ غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پین کے ضلعی صدر زاہد خٹک، سعیدانور درانی، اختر نواز اور دیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تعلیمی اداروں کو بیرونی ڈونرز کے حوالے کیاجارہا ہے جس سے ہمارا نظام تعلیم مفلوج نہیں بلکہ تباہ ہوجائے گا کیونکہ ان کا ایجنڈہ پاکستان نصاب تعلیم سے پاکستانیت، مذہبی اور نظریاتی مضامین نکالنا ہے جو کہ آنے والی نسلوں کو بیرونی ایجنڈے کے الہ کار بنانا ہے انہوں نے مزید کہاکہ بدقسمتی سے ماہران تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی خیبرپختونخوا کی تعلیمی پالیساں سنگرز سے مرتب کئے جارہے ہیں جیسے جواد احمد، شہزاد روائے انہوں نے مزید کہا کہ پین نجی تعلیمی اداروں کے خلاف بنائے گئے کالے قوانین کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور آئندہ بھی تعلیم کی آڑ میں مادر پدر نظام تعلیم کے خلاف جنگ جاری رہے گی انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی وہ نوشہرہ خوشحال کالونی اور اقبال پارک کالونی کے علاقوں میں پرائیویٹ سکولز چلانے میں آنے والے رکاؤٹوں کو ختم کرنے کا حکم جاری کریں کیونکہ ان علاقوں میں درجنوں سکول اور کالجز قائم میں جس میں چھوٹے بچے طلباء وطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں یہاں سے دور دراز علاقوں میں منتقلی سے معصوم طلباء وطالبات شدید مشکلات سے دوچار ہوں گے انہوں نے کہا کہ ان دونوں کالونیوں میں نوشہرہ کے مقامی رہائشیوں نے مکانات ختم کرکے پلازے تعمیر کردئیے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -تجزیہ -کراچی صفحہ اول -