اللہ کریسی اورجنوبی پنجاب کی محرومیا ں

اللہ کریسی اورجنوبی پنجاب کی محرومیا ں
اللہ کریسی اورجنوبی پنجاب کی محرومیا ں

  

ویسے تو یہ بات زبان زد عام ہے کہ جنوبی پنجاب ماسوائے ملتان کے ترقی کی دوڑ میں صوبہ پنجاب کے دیگر علاقوں کی نسبت کافی پیچھے ہے اور اس خطے کوترقیاتی منصوبوں میں حصہ بقدر جثہ نہ ملنے کی بات اب محض الزام تراشی نہیں رہی بلکہ بطور حقیقت مسلمہ ہو چکی ہے۔ اس کی ایک بڑی اور واضح مثال بہاولپور ڈویژن میں کوئی نیا ضلع نہ بن سکنا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت سے موجود اس ڈویژن کے تین اضلاع میں اضافہ نہیں ہوا حالانکہ اس ڈویژن کے ایک ضلع رحیم یارخان کی آبادی 48لاکھ سے زیادہ ہے جووسطی پنجاب میں واقع ضلع حافظ آباد سے 3 گنا سے بھی زیادہ ہے لیکن یہاں کوئی نیا ضلع تو درکنار اس ضلع میں نئی تحصیل کا بھی اضافہ نہ ہو سکا ۔

صنعتی لحاظ سے پنجاب کے بڑے اضلاع میں شمار ہونے والے اس علاقے کو کبھی بھی اس کا جائز حصہ نہیں مل سکا۔ یہاں صنعتی یونٹ سینکڑوں میں ہیں جہاں سے سوشل سیکورٹی اور او او بی آئی کی مد میں جمع ہونے والی ڈھائی کروڑ سے زیادہ لیکن یہاں کے مزدوروں پر خرچ صرف 50 لاکھ روپے ہوتے ہیں ، صوبے بھر میں شوگر ملز سب سے زیادہ اس ضلع میں ہیں جن کی تعداد 5 لیکن کام کرنے کی استطاعت 9 کے برابر ہے جن کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ رقبے پر گنا یہاں کاشت ہوتا ہے اور سڑکیں اس علاقے کی ٹوٹتی ہیں لیکن اس مد میں شوگر ملز سے حاصل ہونے والا فنڈ خرچ کسی اور علاقے میں خرچ ہو جاتا ہے ۔بجلی اور سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ سمیت ہر معاملے میں یہ جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح رحیم یارخان بھی ہمیشہ صوبہ پنجاب کے دیگر علاقوں سے کئی گنا پیچھے ہی رہا ہے لیکن ان سب میں بڑی ذمہ دار جہاں بیوروکریسی ، حکومت پنجاب اور مسلم لیگ ن ہے وہیں اس کے بڑے ذمہ دار مقامی سیاستدان ، چوہدری ، سردار، مخدوم اور وڈیرے بھی ہیں جنہوں نے کبھی اپنی دھرتی کے حق کے حصول کے لیے دل سے آواز ہی بلند نہیں کی ۔ سنا ہے ان کی رسائی دربار سرکار تک نہیں ہو پاتی اور اگر ہو بھی جائے تو وقت خوشامدوں اور صبر و شکر کے اظہار میں ہی صرف ہو جاتا ہے ، اس کی بڑی مثال وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا ہفتہ 7جنوری کو رحیم یارخان کی تحصیل صادق آباد کا دورہ بھی بن گیا۔ وزیراعظم کی صادق آباد آمد کا جب سے یہاں کے شہریوں کو پتہ چلا تھا تو سب کو توقع تھی کہ جب وزیراعظم یہاں آئیں گے تو ترقی کے بہت سے میگا پراجیکٹس کا تحفہ بھی اس علاقے کو دے کر جائیں گے اور میزبان وزیر سردار ارشد لغاری اپنے سپاسنامے میں ضلع بھر میں ترقیاتی سکیموں کی فرمائشوں کے انبار لگا دیں گے اور وزیر اعظم پاکستان بھی ہر فرمائیش پوری کر دیں گے جیسا کہ اس سے پہلے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دورہ رحیم یارخان کے موقع پر ہوا تھا اور متعدد دیگر ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ پریس کلب رحیم یارخان کے لیے بھی لاکھوں روپے کے فنڈز ملے تھے ۔حتٰی کہ مقامی فوٹو گرافروں کو نئے کیمرے تک اس دورے کے طفیل ملے تھے ۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی صادق آباد پہنچے تو آر ایل این جی پمپنگ سٹیشن کاافتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے وزیراعظم کو منصوبہ کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ یہ منصوبہ ملک بھر میں گیس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا منصوبہ ہے جو سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے مشترکہ طور پر مکمل کیا ہے۔ اس منصوبے میں 1044 کلومیٹر پائپ لائن ایس این جی پی ایل اور 425 کلومیٹر پائپ لائن ایس ایس جی سی نے بچھائی ہے۔ منصوبہ کی تکمیل سے گیس کی دستیابی کا حجم 1200 ایم ایم سی ایف ڈی سے 2400 ایم ایم سی ایف ڈی تک بڑھ جائے گا۔ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پراجیکٹس سے بجلی گھروں ، صنعتوں ، کمرشل اور گھریلو اور صارفین کیلئے گیس کی دستیابی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کے ہمراہ گورنر کے پی کے اور وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں ، وزیر مملکت صنعت و پیداوار سردار ارشد لغاری جن کے حلقہ انتخاب میں یہ تقریب منعقد ہوئی سپاسنامہ بھی سردار موصوف نے خود پیش کیا لیکن ان کا پورا خطاب ہی ان سب شہریوں کی توقعات کے برعکس تھا جو یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ ارشد لغاری خطے کی محرومیوں کا رونا رونے کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی ایک لمبی فہرست وزیراعظم کو تھما دیں گے تو وہ پوری نہ ہو سکیں اور وزیر موصوف نے کوئی ایک بھی مطالبہ یا ترقیاتی منصوبے کی خواہش کا اظہار نہ کیا جس پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خود بھی حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور بولے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی میزبان عوامی نمائندے نے کسی قسم کی کوئی ترقیاتی سکیم نہیں مانگی ۔ایک طرف وزیراعظم کے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے تو مقامی سیاستدانوں کی لمبی لائن لگی رہی لیکن دوسری طرف جب علاقے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کے حصول کا موقع آیا تو یہی عوامی نمائندے منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے ، ان سے زیادہ فائدے میں تو بھونگ کے روساء ہی رہ گئے جنہوں نے وزیراعظم کو اپنی ہمراہی میں بھونگ مسجد کا دورہ بھی کروایا اور ساتھ ہی سی پیک روٹ پر بھونگ کے لیے انٹرچینج بنوانے اور کچھ سڑکوں کی تعمیر کی یقین دہانی بھی حاصل کر لی ۔اگرچہ یہ فرمائش کرنے والے رئیس محبوب بھی رکن پنجاب اسمبلی ہی ہیں لیکن اصلی میزبان اور رکن قومی اسمبلی ہونے کے ساتھ وزارت کا تمغہ اپنے نام کے ساتھ سجائے ہوئے سردار ارشد لغاری کی جانب سے منصوبہ جات کی منظوری لینا تو بعد کی بات کوئی بڑا منصوبہ یا سکیم پیش پیش ہی نہ کرنا عوام کے ساتھ ساتھ خود وزیراعظم کو بھی حیران کر گیا ، اور بے اختیار سابق گورنر پنجاب مخدوم سجاد حسین قریشی یاد آگئے ۔

جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں جب گورنر پنجاب وسیع اختیارات کے مالک ہوتے تھے تب وہ گورنر تھے اور ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جب بھی کوئی سائل کسی کام سے ان کے پاس جاتا تو ان کا جواب یہی ہوتا تھا کہ اللہ کریسی ، اور یوں بیورو کریسی کے ساتھ ساتھ اللہ کریسی بھی مشہور ہو چکی تھی ، اب وزیر اعظم کے حالیہ دورے سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حکومت اور بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ اس خطے کے نمائندے بھی اس کی پسماندگی کے ذمہ دار ہیں کہ جو اپنے حق کے حصول کے لیے کوشش کرنا تو تو بعد کی بات موقع ہونے کے باجود بات نہیں کر سکتے اور اپنی نام نہاد درویشی اور صبر و قناعت کے مظاہرے کرتے ہوئے اللہ کریسی پر اکتفا کرتے ہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -