اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 161

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 161
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 161

  


حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں کہ کوہ لبنان میں میری ملاقات ایک عورت سے ہوئیجو پرانی مشک کی طرح سوکھی ہوئی اور قبر سے نکلی ہوءی دکھائی دی۔ وہ بڑی عبادت گزار عورت تھی۔ ویسی عورت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

میں نے اس سے پوچھا ”تمہارا وطن کون سا ہے؟“

اس نے جواب دیا ”میرا کوئی وطن نہیں ہے سوائے دوزخ کے مگر یہ کہ حق تعالیٰ عزیز و غفار میری مغفرت کرے۔“میں نے کہا ”خدا تم پر رحم کرے مجھے کچھ پندو نصیحت کرو۔“

اس نے کہا ”کتاب اللہ کو خوان نعمت بناﺅ اور اس کے وعدے وعید کی صحبت اختیار کرو اور نیک ارادوں کے پورا کرنے کے لئے دامن اٹھا کر تیار ہوجاﺅ اور بے ہودہ لوگوں کی جھوٹی امیدوں کو ترک کردو جس کا کوئی وجود نہیں ہے اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ قسم ہے اللہ کی۔ اس منزل پر وہی پہنچتے ہیں جو اہل دل ہیں او راس سے آگے وہی لوگ پہنچتے ہیں جو اہل دل ہیں اور اس سے آگے وہی لوگ پہنچتے ہیں جو مجاہد ہیں۔ اے بھائی! اپنے نفس کے واسطے جو کچھ حاصل کرنا ممکن ہو حاصل کر لے، تو ہی مطلوب ہے۔ عقلمند بن جا۔“

میں نے کہا ”میرے واسطے دعا کیجئے۔“

اس پر اس نے اللہ کی حمد اس طور سے کی کہ میں نے ایسی حمد پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 160 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت حاتم اصمؒ فرماتے ہیں کہ خوبصورت مکان پر نہ اتراﺅ کہ بہشت سے بڑھ کر کون سی جگہ خوبصورت ہوسکتی ہے لیکن آدمؑ نے اس کا کیا دیکھا؟ اور کثرت عبادت پر بھی مت بھولو کہ ابلیس کی مثال تمہارے سامنے ہے کہ ہزاروں برس عبادت کی تھی جو ایک لمحہ میں اکارت ہوگئی اور بہت زیادہ عالم و فاضل ہونے پر بھی غرانے کی ضرورت نہیں کہ بلغم باعور علم میں اس درجہ تک پہنچ گیا تھا کہ حق تعالیٰ کا اسم اعظم تک اس کے علم میں تھا اور اس کی جو حالت ہوئی تھی اس کا ذکر قرآن پاک میں یوں کیا گیا ہے۔

”اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی۔ اگر تو اس پر حملہ کرے تو بھی ہانپے اور اگر اس کو چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔“

اور نیک لوگوں کے دیدار و زیات پر بھی بھول بیٹھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ حضور پاک کے کتنے ہی عزیزوں اور رشتہ داروں تک نے آپ کو بار ہا دیکھا لیکن ایمان سے بے نصیب رہے۔

٭٭٭

حضرت احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ میں نے دعا کی کہ بار خدایا! خوف کا ایک دروازہ مجھ پر کھول دے۔ میری دعاتو قبول ہوگئی لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری عقل ہی نہ جواب دے پس دعا کی کہ بار خدایا! اس دروازے کو میری تاب و طاقت کے مطابق ہی کشادہ کیجیو۔ تب کہیں جاکر میرے دل کو سکون ہوا۔

٭٭٭

حضرت بشر حافیؒ سے ایک شخص نے درخواست کی کہ میرے حق میں دعا فرمائیے کیونکہ میں عیالدار ہوں اور مفلس و نادار ہوں۔“

آپ نے فرمایا ”اے شخص! جب تیرے بیوی بچے کہیں کہ روٹی نہیں ہے اور گھر میں آٹا بھی نہیں ہے اور تو خود کو اس کے فراہم کرنے میں عاجز پائے اور شدت اندوہ سے بے چارگی کے بادل تیرے دل پر چھا جائیں تو لللہ اس وقت میرے حق میں دعا کیجیو کہ اس وقت تیری دعا میری دعا سے بدرجہا افضل ہوگی۔“

٭٭٭

حضرت فتح موصلیؒ کے پاس ایک شخص پچاس ہزار درہم لے کر حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا ”ازروئے حدیث جس کو بلا سوال کچھ دیا جائے اور وہ اسے رد کردے تو گویا اس نے خدا کے دین کورد کیا۔“

یہ کہہ کر ایک درہم اُٹھالیا اور باقی واپس کردئیے۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 162 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے