اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 162

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 162
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 162

  


جب حضرت منصور حلاج کو سولی کے نیچے لے گئے تو آپ نے باب الطاق سے سولی کو بسہ دیا اور سیڑھی کے پائے پر قدم رکھا۔

لوگوں نے پوچھا ”کیا حال ہے؟“

آپ نے فرمایا ”مردوں کی معراج سردار ہے۔“

اس وقت آپ ایک چادر کمر پر باندھے ہوئے تھے اور دوسری کندھے پر پڑی تھی آپ نے ہاتھ اٹھائے اور قبلہ رو ہوکر مناجات کی اور فرمایا ”جو کچھ چاہا پایا۔“

جب آپ کو سولی پر چڑھایا گیا تو آپ کے مریدوں نے پوچھا ”ہم لوگ جو آپ کے مقربین ہیں اور وہ لوگ جو آپ کے منکر ہیں اور آپ کو سولی چڑھارہے ہیں۔ دونوں گروہوں کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔“

آپ نے فرمایا ”تم کو ایک ثواب اور ان کو دوہرا ثواب ملے گا۔ چونکہ تم کو میرے ساتھ ایک نیک گمان ہے اور وہ لوگ توحید کی قوت اور شریعت کی سختی سے لرز رہے ہیں اور شریعت میں توحید اصل ہے اور حسن ظن فرع ہے۔“

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 161 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت ابو بکر شبلیؒ آپ کے سامنے تشریف لائے اور فرمایا الم ننھک عن العلمین اور پوچھا ”حلاجؒ! تصوف کیا ہے؟“

آپ نے فرمایا ”کمترین درجہ تصوف کا یہ ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔“

پوچھا ”بلند ترین درجہ کون سا ہے۔“

فرمایا ”تیری وہاں تک رسائی نہیں ہے۔“

پھر لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکنے شروع کردئیے۔ حضرت شبلیؒ نے بھی آپ کی طرف ایک چھ وٹا سا ڈھیلا مارا جس پر منصور حلاجؒ نے آہ بھری۔

لوگوں نے پوچھا ”آپ کے اتنے پتھر مارے گئے مگر آپ نے اُف تک نہ کی اور شبلی کے ایک چھوٹے سے ڈھیلے پر آپ آہ کررہے ہیں۔“

آپ نے فرمایا ”وہ لوگ نہیں جانتے اس وجہ سے معذور ہیں اور شبلی جانتے ہیں اس لیے انہیں ڈھیلا نہیں پھینکنا چاہیے تھا۔“

بعدازاں دار کی سیڑھی پر آپ کے ہاتھ کاٹے گئے، تو آپ ہنسے۔ لوگوں نے دریافت کیا ”یہ ہنسنے کا کون سا موقع ہے۔“

آپ نے فرمایا ”یہ ہاتھ کاٹنے آسان ہیں۔ ایسے مرد آئیں جو ہمارے صفات کے ہاتھوں کو کاٹیں جن سے ہمت کا تاج عرش کے سر سے اُتارا ہے۔“

اس کے بعد جب آپ کے دونوں پاﺅں کاٹے تو آپ مسکرائے اور فرمایا ”اگرچہ میں نے دنیا کا سفر ان پاﺅں سے کیا ہے لیکن ان کے علاوہ دوسرے قدم بھی رکھتا ہوں۔ جو اب بھی دونوں جہاں کا سفر کرسکتے ہیں۔ا گر تم قدرت رکھتے ہو تو ان قدموں کو قطع کرکے دکھاﺅ۔“ پھر دونوں خون آلود ہاتھ منہ پر ملنے لگے یہاں تک کہ کلائیاں اور چہرہ خون سے لتھڑ گیا۔

لوگوں نے پوچھا ”ایسا کیوں کرتے ہیں۔“

آپ نے جواب دیا ”میرے جسم سے خون بہت نکل چکا ہے اور میرا خیال ہے کہ میرا چہرہ زرد ہوگیا ہوگا اور شاید تم یہ خیال کرو کہ یہ خوف کی وجہ سے زرد ہوگیا ہے۔ اس لیے منہ پر خون مل رہا ہوں تاکہ تمہاری نظروں میں سرخ رو نظر آﺅں۔“

لوگوں نے پوچھا ”کلائیوں پر کیوں مل رہے ہیں؟“

آپ نے فرمایا ”وضو کررہا ہوں۔ چونکہ منزل عشق میں دو رکعت ایسی ہیں کہ ان کا وضو خون سے درست ہوتا ہے۔“

اس کے بعد جب آپ کی آنکھیں نکالی گئیں تو لوگوں میں ایک حشر باپر ہوگیا۔ پھر آپ کیز بان نکالنی چاہی۔ آپ نے فرمایا ”ذرا ٹھہرا جاﺅ، میں ایک بات کرلوں۔“

آپ نے آسمان کی طرف منہ کر کے کہا ”الہٰی! اتنا رنج یہ لوگ تیرے لیے مجھے دے رہے ہیں تو ان کا بدنصیب نہ کرنا“ اور فرمایا ”الحم للہ! اگر میرے ہاتھ پاﺅں کاٹے تو تیری راہ میں کاٹے اور اگر میرا تن سر سے جدا کررہے ہیں تو وار کے سر پر تیرے جلال کے مشاہدے میں کررہے ہیں۔“

اس کے بعد آپ کے کان اور ناک کاٹے گئے۔ آپ کا آخری کلام یہ تھا ”یکتا کی دوستی یکتا کو یکتائی سے یکتا کر کے دیکھتی ہے۔“

اس کے بعد آپ کی زبان کاٹی گئی۔ عین مغرب کے وقت خلیفہ وقت مقتدر باللہ کا حکم آیا کہ اس کا سر تن سے جدا کردو۔ جب سر کاٹا گیا تو آپ نے ایک قہقہہ مارا اور جاں بحق ہوگئے۔ آپ کے ہر عضو سے اناالحق کا شور برپا ہوگیا۔ آپ کے تمام اعضاءکو کاٹ دیا گیا۔

دوسرے روز آپ کے تمام اعضاءکو اکٹھا کر کے جلایا گیا اور خاک کو دجلہ میں بہادیا گیا درویشان فنافی اللہ کا حال ایسا ہی ہوتا ہے۔

٭٭٭

ایک مرتبہ حضرت ابو عثمان حیریؒ نے حضرت ابو عبداللہ محمد بن فضلؒ سے خط کے ذریعے دریافت کیا کہ شقاوت کی علامت کیا ہے۔“

آپ نے جواب میں تحریر کیا ”تین چیزیں شقاوت کی علامت ہیں۔ اول علم بے عمل، دوم عمل بے اخلاص، سوم بزرگوں کی تعظیم سے محرومی۔“

اس جواب کے بعد حضرت عثمان حیریؒ نے تحریر کیا کہ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو زندگی بھر آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوتا رہتا۔

٭٭٭

حضرت ابو محمد العتایدیؒ روزانہ صرف نصف مانگ (دو دمڑی) کماتے تھے جس سے اپنی غذا فراہم کرتے۔ ایک دمڑی کی بھوسی خرید لیتے اور اس سے دو روٹیاں پکاتے ایک روٹی وہ خود کھاتے اور دوسری روٹی خیرات کردیتے تھے۔

شیخ عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں اُن کی خدمت میں گیا۔ ان کے پاس صرف ایک کپڑا تھا، جس کو چوہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا۔ میں نے کہا کہ شیخ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ”میں خود بھی چوہوں سے پریشان ہوں۔ رات کو یہ میرے سر اور منہ پر دوڑتے پھرتے ہیں۔“

میں نے کہا کہ رات کو آپ چراغ کیوں نہیں جلاتے۔ روشنی میں چوہے نہیں آئیں گے۔“

آپ نے فرمایا ”چالیس سال ہوگئے ہیں مَیں نے چراغ نہیں جلایا ہے۔ یعنی مَیں اس کے حساب سے ڈرتا ہوں کہ اس کے جلانے کے لیے کتنا کمانا چاہیے کیونکہ ہر چیز کا حساب ہوگا۔“

٭٭٭

شیخ ذوالنون مصریؒ کہتے ہیں کہ یہ ایک سیاہ فام (حبشن لونڈی رحمہا اللہ) لونڈی تھی۔ میں نے دیکھا کہ لڑکے اس کو پتھر مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بے دینیہ کہتی ہے کہ ”میں خدا کو دیکھتی ہوں۔“

میں اس کے پیچھے پیچھے گیا اس نے خود مجھ کو آواز دی ”اے ذوالنونؒ!“

میں نے کہا ”تم نے مجھ کو کیسے پہچان لیا؟“

وہ بولی ”اس کے دوستوں کی جانیں اُس کے سپاہی ہیں جو ایک دوسرے سے واقف ہیں۔“

میں نے کہا ”یہ کیا بات ہے کہ جو بچے کہتے ہیں۔“

اس نے پوچھا ”کیا کہتے ہیں؟“

میں نے کہا ”بچے کہتے ہیں کہ تم کہتی ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتی ہوں۔“

فرمایا ”وہ سچ کہتے ہیں۔ جب سے میں نے اس کو پہچان لیا ہے کبھی پردے میں نہیں ہوئی۔“

٭٭٭

کوئی بیمار ہوتا یا درد میں مبتلا ہوجاتا۔ تو شیخ خیرچہؒ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ وہ الحم اللہ پڑھ کر دم کردیتے۔ اسی وقت آرام آجاتا۔

ایک دفعہ ایک عالم کے دانتوں میں شدید درد ہوا۔ وہ شیخ کی خدمت میں گئے۔ انہوں نے حسب معمول الحمد اللہ پڑھ کر دم کیا اور وہ اچھے ہوگئے۔

عالم نے درد سے آرام پاکر کہا کہ ”اے شیخ! تم“ الحمد“ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے۔ میں تم کو صحیح کرادیتا ہوں۔“

شیخ خیرچہؒ نے جواب دیا۔ اس کے بجائے تم اپنے دل کو صحیح اور درست کرو۔“(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 163 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے