غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی، مکہ کی 50 فیصد بیکریاں بند

غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی، مکہ کی 50 فیصد بیکریاں بند

ریا ض (آن لائن)سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں موجود غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی تو شروع کی ہے مگر مقامی سطح پر اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہونے لگے ہیں۔ غیرملکی شہریوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن کے خوف سے ملک کے بڑے شہروں میں موجود تجارتی مراکز بند ہیں۔ دیگر شعبوں کے ساتھ بیکریوں کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے غیر ملکیوں کے کاغذات کی درستی کے لیے دی گئی سات ماہ کی مہلت سے فائدہ نہ اٹھانے پر بیکریوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ گذشتہ تین دن سے جاری تلاشی کی کارروائیوں کے نتیجے میں صرف مکہ مکرمہ میں 50 فی صد بیکریاں بند ہوچکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ سیکٹر کی بیکریوں کی بندش کے باعث تمام بوجھ سرکاری بیکری اسٹورز کی جانب منتقل ہو گیا ہے، جس کے باعث سرکاری بیکریوں کو نہ صرف عملے کی مزید ضرورت پڑ رہی ہے بلکہ آٹے سمیت دیگر ضروری خام مال کی طلب بھی بڑھ گئی ہے۔ریاض میں ایوان صنعت و تجارت کے ایک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں مکہ مکرمہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں پرائیویٹ سیکٹر کی پچاس فی صد بیکریاں اور روٹی تیار کرنے والے تندرو بند ہوچکے ہیں۔مکہ مکرمہ میں ایک نجی بیکری کے مالک ترکی بدر کہا کہ غیر ملکیوں کے انخلائ کے لیے کی جانے والی کارروائی سے حکومت کو فائدہ ہوا ہے کیونکہ سرکاری بیکریوں پر خریداروں کا ھجوم بڑھ گیا ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کی پچاس فی صد بیکریاں ورکز نہ ہونے کے باعث بند ہوچکی ہیں۔

مزید : عالمی منظر