اسلامی فلاحی ریاست

اسلامی فلاحی ریاست

انسانی تاریخ میں ملکوں کی حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور بدلتی رہیں گی۔ نظام حکومت بھی بدل جاتے ہیں ، کچھ حکومتیں انسانوں کے ذریعہ بدلتی ہیں اور کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجود میں آتی ہیں۔ انسان اپنی طرز کا نظام حکومت چلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی لائی ہوئی حکومتیں اللہ کے نظام سلطنت کو اپناتی ہیں ۔ حکومتوں کے ردوبدل سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ آج یہ حکومت ہے اور کل کوئی اور ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی نظام حکومت کو دوام نہیں ہے

ایک ہے حکومتوں کا بدلنا اور دوسرا ہے نظام کا بدلنا۔ حکومتوں کا بدلنا فطری عمل ہے۔ مگر نظام کا بدلنا نظام کی ناپختگی اور ناپائیداری ہے کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے کہ زمانہ متحرک ہے یہ ایک جیسا نہیں رہتا ۔ نظام بھی وقت کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے، مگرایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اللہ کا ’’نظام سلطنت‘‘حق اور سچ ہے ہر بدلتے ہوئے زمانہ میں یکساں اور مکمل نظام حکومت پیش کرتا ہے،جو پوری پوری انسانیت کی اسلاح اور فلاح کا ضامن ہے اور دُنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے ۔ یہی دین اسلام ہے۔ موجودہ حکومت بے یہ عندیہ دیا ہے کہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔ یہ وہی ریاست ہو گی،جو دین اسلام کے اصولوں پر قائم ہو گی۔ کاش کہ ایسا ہو سکے۔

ایسی ہی حکومت کے لئے ایک دفعہ دنیا کے نامور مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن ندوی ؒ نے 1947 ء میں شاہزادہ سعود بن عبدالعزیزولی عہد مملکت عربیہ سعودیہ کے نام خط لکھا، جس کا متن درج ذیل کئے۔

اسلام کے دور اوّل میں اسلامی شہر اور دارلحکومت دراصل مرکز دعوت و ہدایت تھے، جہاں قدم رکھتے ہی انسان کو محسوس ہو جاتا تھاکہ وہ مرکز اسلام میں ہے، اور اس کی فضا میں سانس لے رہا ہے، کیونکہ وہ حدود اللہ کو قائم ، احکام شرع کو نافذ ہوتے ہیں دیکھتا تھا اور دین کے کسی معاملہ میں کسی کو غفلت و تمسخر ، علانیہ فسق فجور ، بدعت و معصیت ، بے حیائی و بے ایمانی ، رشوت وخیانت یا کسی بھی اسلام کے منافی عمل میں مبتلا نہیں پاتا تھا ،بلکہ خدا شناسی آخرت طلبی فضیلت و تعویٰ کی تحصیل کتاب و سنت کے اتباع شرک بدعت سے اجتناب اور دین پر سختی سے عمل پیر ا ہونے کی دعوت ہر جگہ سنائی دیتی تھی اور ہر کوچہ و بازار میں وہ اس عمل ہوتے بھی دیکھتا وہ دینی روح ایمان ودینی حمیت اور اہل دین کی محبت سے سرشار ہو جاتا ہے اور جب وہاں سے واپس ہوتا تھا تو اس کے ایمان وعلم میں ترقی ، دین میں پختگی ، اور دین کے نمائندوں پر اعتماد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

کیونکہ حجاز میں(جو مرکز اسلام تھا) جو کچھ ہوتا تھا وہ عین دین و سنت اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوتا تھا۔ اقتدار عطا فرمایا وہ محض اس دین و دعوت کا انعام تھا۔

خلافت راشدین کے بعد مسلمان بادشاہوں نے اپنی حکومتوں کی بنیاد تحصیل و صول کے اصول پر رکھی، اور خدا اور آخرت کی طرف بلانے کا کام بھول گئے۔ حدود شرعیہ اور احتساب کا نظام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام معطل ہوکر رہ گیا۔ نمازیں ضائع کی جانے لگیں اور ہوائے نفس کی اتباع کی جانے لگی جس کے سبب اسلامی مراکز دین کی درس گاہ اور اس کے تمدن و معاشرت کا آئینہ ہونے کی بجائے آنے والوں کی دلوں میں شک ع نفاق پیدا کرنے کا ذریعہ بن گئے اور عالم اسلام کے مختلف گوشوں سے آنے والے اب وہاں سے شعائر اسلام کے بے وقعتی دین میں سستی وکاہلی بے عملی اور اسلام کے نمائندوں سے بد طنی لے کر جانے لگے اور مرکز اسلام میں ہونے والے ان افسوسناک واقعان اور اخلاقی انتشار کو دلیل بنانے لگے۔ اور یہ اسلامی علاقوں میں دعوت و اصلاح کا کام کرنے والوں کے لئے بڑی آزمائش بن گئی ۔

اور جو دعوت و ہدایت اور خدمت و خیرخواہی کی اساس پر قائم ہو، کیونکہ اسلام ذہنوں پر اپنا اثر اس وقت ڈال سکتا اور لوگوں کی جستجو کی پیاس بجھا سکتا ہے جب روئے زمین پر کوئی علاقہ ایسا ہو جہاں اسلامی زندگی اور اسلامی ثقافت و معاشرے کے نمونے اور دعوت ع تعلیم کے نتیجے دیکھنے میں آئیں اور اگر ایسا کسی چھوٹے سے چھوٹے علاقہ میں بھی ہوتا ہے تواسلام کی طرف لوگ اس تیزی سے آئیں گے، جس کا اس سے پہلے تجربہ نہیں ہوا۔

اگر کسی خطہ زمین پر ایسی کوئی حکومت قائم ہو جاتی ہے تو وہ (خواہ کتنی ہی چھوٹی اور کم مایہ ہو) ایسا کرشمہ اور کارنامہ ہوگی دنیا اس کو دیکھ کر محو حیرت رہ جائے گی اور تجربہ کے بعد ان سب کو یکساں ہی پایا۔ان کی اصل و اساس اور میلان ورجحان میں کوئی فرق نہیں محسوس کیا ، اس نے ان کے ہر پہلو کو آزما کر دیکھا، مگر ان درختوں سے کڑوے اور زہریلے پھلوں کے سوا اس کی جھولی میں کچھ نہ آیا۔ اس نے ان میں سے کسی اپنے دکھ کی دوا نہیں پائی۔

کسی گوشہ زمین میں کسی نئی مسلم حکومت کا قیام ایک ایسا زریں موقع ہے، جو بار بار ہاتھ نہیں آتا اور ایسی مبارک ساعتیں کہیں صدیوں کے بعد ایک جھلک دکھاتی ہیں اور شب تاریک میں بجلی کو کوند نے کی طرح نگاہوں کو خیر ہ کر جاتی ہیں۔

جو حکمت الٰہی نے ان کو نصیب کیا ہے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ اپنے ذاتی مصالح و مفادات پر دین و دعوت کے تقاضوں کو ترجیح دیتے ہیں یا نہیں؟ اگر وہ اس فرصت کو غنیمت جان کر اور دینی د عوت کی بجائے اس سے اپنے شخصی مصالح میں کام لیا اور ان مخلص کار گذاروں اور بے غرض داعیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کر دیا۔ جنھوں نے ان کیلئے زمین ہموار کی اور جن کی بدولت یہ تاج و تخت کے مالک بنے۔

اس وقت مملکت سعودیہ سادہ اور پر مشقت صحرائی زندگی سے نکل کر تمدنی ترقی ملکی خوشحالی اور ترقی یافتہ دنیاوی (سکولز) حکومتوں کی پیروی کے عبوری دور میں داخل ہورہی تھی اور ملکی ومعاشرہ میں اس کے ابتدائی نقوش ابھر رہے تھے۔

یہ ضروری سمجھا کہ ذمہ داران مملکت اور شاہی خاندان کے ان افراد کوجن کے ہاتھوں میں اس مُلک کی زمام اقتدار آنے والی ہے ان کی عظیم و نازک ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائے اور اس کے لئے وہ طرز اختیار کرے جو اس مقصد کی تکمیل کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید اور کامیاب ہو۔

دینی قوت کی بحالی اصلاح معاشرہ اور سماج کو جاہلیت سے ہٹا کر اسلام کی راہ پر لانے کا اتنا کام ایک ہی دن میں کر سکتے ہیں جتنا دوسرے مصلح اور کارکن اور اہل قلم برسوں اور صدیوں میں کرتے ہیں اور اس طرح وہ اللہ کی رضا و نیوی نفع اور اخروہ ثواب کا ایسا وافر حصہ پائیں گے، جس پر بڑے متقی اور خدا کے نیک بندے بھی رشک کریں گے۔

لوگ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مجدد اور خلیفہ راشد اس لئے کہتے ہیں کہ انہوں نے منقعت والی حکومت کا رخ ہدایت کی طرف موڑ دیا ۔زبردست اصلاحات کیں اور اپنے اصلاحی خیالات کی راہ میں پامروی سے جمے رہے۔ انہوں نے جن آنی و فانی لذتوں اور راحتوں اور ان کا شمار دُنیا کے ذہین و عاقل ترین افراد میں کرنا پڑے گا، ہاتف غیب اس وقت بھی نغمہ سرا تھا اور آج بھی اس کی یہ صدا کانوں میں آرہی ہے

اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں

ایک جان کا زیاں ہے سوا ایسا زیاں نہیں

آخر میں میں یہ امید کرتا ہوں کہ حکومت وقت قوم سے جو وعدہ اسلامی فلاحی ریاست کے بنانے کاوعدہ کیا اس پر ڈٹ جائے گی جو لوگ دین اسلام کے اصولوں پر قائم رہتے ہیں اللہ ان کی مدد فرماتا ہے۔

مزید : رائے /کالم