حکومت کا معاشی پالیسی پر عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

حکومت کا معاشی پالیسی پر عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے نئی معاشی پالیسی پر عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی ہے۔ منگل کووزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اعلی سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا، پارٹی رہنماؤں اور معا شی ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس میں حکومت کو درپیش معاشی چیلنجز کی نئی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئی ایم ایف سے قرض لینے، دوست ممالک سے تعاون اور سرمایہ کاری کے آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔معاشی ماہرین کی جانب سے حکومت کو معیشت کی بہتری کے آپشنز پر بریفنگ دی گئی۔ذرائع کا بتانا ہے معاشی ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا کہ کم عرصہ کیلئے آئی ایم ایف پروگرام لیکر حکومتی اخراجات کم کیے جائیں،جس پر وزیراعظم عمران خان نے حکومت کی معاشی حکمت عملی پر عوام کو تمام پہلوؤں پر اعتماد میں لینے سمیت سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے منفی نتائج سے عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی ۔ذرائع کا کہنا ہے اجلاس میں نئی معاشی پالیسی اور حکمت عملی پر پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا، وزیر اعظم نے اجلاس میں حکومتی میڈیا ٹیم کی غیر موثر کارکردگی پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا ۔ وز یراعظم عمران خان کا کہنا تھا نئی حکومت کے چیلنجز ماضی کی حکومتوں سے کہیں سے زیادہ ہیں اور ان سے نمٹنے کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے وزیراعظم نے خود بھی ہر فورم پر حکومتی معاشی اصلاحات پر نکتہ نظر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔بعدازاں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے 109ویں نیشنل مینجمنٹ کورس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ریاست کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے بیور و کریسی پر قوم کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اداروں کو سیاست سے الگ رکھنے، میرٹ کی بالادستی و شفا فیت کی حکومتی پالیسی بیورو کریسی کیلئے اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور سیاسی وژن کو عملی جامہ پہنانے میں منا سب کردار ادا کرنے کیلئے بہت بڑا موقع فراہم کرتی ہے،موجودہ حکومت کی طرف سے متعارف کرائے جانیوالے مقامی حکومت کے نظام سے کئی مسائل کے حل میں مدد ملے گی، انسانی سرمایہ، معدنیاتی دولت، تذویراتی محل وقوع اور دیگر وسائل سمیت ملک میں پائی جانیوالی بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے دستیاب وسائل کے بہتر انتظام، خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا نے اور سب سے بڑھ کر اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قوم کی خدمت کے جذبہ اور عزم کی ضرورت پر زور دیا۔بعدازں کورس کے شرکاء سے ملاقات میں وزیراعظم نے اپنے وژن سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔ موجودہ اقتصادی صورتحال ،بد عنو انی کی لعنت ، آبادی میں تیزی سے اضافہ سمیت ملک کو درپیش مختلف چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا حکومت ادارہ جاتی اصلاحات کیساتھ استحکام کے اقدامات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے جن کا مقصد تعلیم، صحت، گورننس جیسے اہم شعبوں کی بہتری ہے۔ پاک،بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان کی حالیہ پہل اور سرحد کی دوسری جانب سے مایوس کن ردعمل کے بارے میں سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا یہ بدقسمتی ہے کہ بھارتی قیادت اس امر کے ادراک سے قاصر ہے کہ اس خطہ کو درپیش سب سے بڑا چیلنج تخفیف غربت اور خطہ کے عوام کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنانا ہے۔

حکومت فیصلہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان سے آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے آزاد کشمیر سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم آزادکشمیر نے وزیراعظم پاکستان کو درپیش کئی امور پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ نیلم جہلم منصوبے کے عوامل،منگلا ڈیم اپ ریزنگ متاثرین،ترقیاتی بجٹ،کوہالہ پراجیکٹ ، کنٹر و ل لائن متاثرین سے متعلق معاملات سے آگاہ کیا۔راجہ فاروق حیدر نے وزیراعظم پاکستان کو حکومت کی دو سالہ کارکردگی اور اصلاحات ، 13 ویں ترمیم سے متعلق بھی بتایااور کشمیر کونسل کے انتظامی و مالی اختیارات کی حکومت کو منتقلی پر تمام سیاسی قیادت کا اتفاق ہے، ترمیم سے کشمیر کونسل میں موجود بدانتظامی اور کرپشن کا سدباب ہوا ہے، نیلم جہلم منصوبے میں دریائے نیلم کا رخ موڑنے کی وجہ سے نہ صرف علاقہ شدید ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہوا ہے بلکہ ساتھ ساتھ مظفرآباد اور ملحقہ آبادیوں کو پینے کے پانی کے مسائل کا سامنا ہے،جس کے فوری حل کیلئے تین جھیلوں کی ضرورت ہے،کیونکہ دریا میں ایک خاص مقدار تک پانی چھوڑا جانا بھی اشد ضروری ہے تاکہ آبی حیات کو خطرات لاحق نہ ہوں۔،انہوں نے وزیراعظم پاکستان کو کوہالہ منصوبے کا از سر نو جائزہ لینے کی تجویز دی تاکہ مستقبل میں نیلم جیسی صورتحال سے بچا جا سکے۔انہوں نے ترقیا تی بجٹ سے متعلق بھی بتا یا اور کہا رواں منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے ترقیاتی بجٹ کا تسلسل ناگزیر ہے۔ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کا کام جن میں زیادہ فوکس سکولوں کی تعمیر پر ہے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے، تعمیر نو کے 55 ارب روپے کی منتقلی کے بعد سے اس مد میں خاطر خواہ رقم نہ ملنے کی وجہ سے تعمیر نو کے کاموں میں رکاوٹ آئی ہے،اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے آزادکشمیر کے انتظامی اور مالی معاملات حل کرنے کا یقین دلایا۔بعدازاں وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے پانی کی تقسیم پر فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نئے ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ہوچکی ہے ۔ اس موقع پر فیصل واوڈا نے کہا پانی کی کمی بڑا مسئلہ ہے ، اس حوالے سے سنجیدگی سے اقدامات کئے جائیں گے ۔دریں اثناء وزیر اعظم عمر ا ن خان سے اقلیتوں کے وفد نے بھی ملاقات کی اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا، عمران خان نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اورکہاآ ئین کے تحت اقلیتوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں گے۔

مزید : صفحہ اول