صدیاں حسینؓ کی ہیں زمانہ حسینؓ کا

صدیاں حسینؓ کی ہیں زمانہ حسینؓ کا
صدیاں حسینؓ کی ہیں زمانہ حسینؓ کا

  


حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی تو اس خوشخبری کو سن کر آپﷺ  تشریف لائے، حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں لیا، داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دی، پیغمبر علیہ السلام کا مقدس لعاب دہن حضرت حسینؓ  کی غذا بنا،ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔ آپؓ کی پیدائش سے خاندان میں انتہائی خوشی اور مسرت محسوس کی جاتی تھی۔ حضرت محمد ﷺ اپنے دونوں نواسوں کیساتھ انتہائی محبت فرماتے ، کبھی سینہ پر بیٹھاتے ، کبھی کاندھوں پر چڑھاتے ، نماز میں سجدہ کی حالت میں حضرت حسینؓ  عنہ پشت مبارک پر چڑھ جاتے تو سجدہ طویل کردیتے یہاں تک کہ بچہ خود سے پشت پر سے علیحدہ ہوجاتا۔اور جب حضرت حسینؓ مسجد کے دروازے سے داخل ہوتے ہوئے زمین پر گر گئے تو رسول اللہﷺ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اپنا خطبہ منقطع کردیا، منبر سے اتر کر بچے کوزمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لائے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے ہوئے کہادیکھو یہ حسینؓ ہے اسے خوب پہچان لو اور ان سے محبت رکھو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” حسینؓ مجھ سے اور میں حسینؓ سے ہوں، جو شخص حضرت حسینؓ سے محبت کرے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ محبت فرمائے گا“۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺے عرض کیا کہ اہل بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کو ن ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ اور آپ ﷺ حضرت عائشہ صدیقہؓ  سے کہا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ اور آپﷺ ان کو سینے سے لگا لیتے۔حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت حسنؓ ابن علیؓ  کو کندھے پر اٹھایا ہوا تھا کہ ایک شخص نے کہا ”کیاہی اچھی سواری ہے،جس پر آپ ﷺ   نے ارشاد فرمایا کہ” سوار کتنا اچھا ہے“۔

مگر جب آنے والے حالات کا آپﷺ  کو علم ہوا تو آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو برس پڑے، آپﷺ  نے فرمایا میرے پاس جبرائیلؑ آئے اور مجھے بتایا کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کر دے گی، جبرائیلؑ اس جگہ کی سرخ مٹی بھی میرے پاس لائے جہاں اسے قتل کیا جائے گا اور پھر جب اسلامی خلافت کے بعد بادشاہت کا دور آیا تو حضرت سیدنا امیر معاویہؓ کے فرزند نے اپنے عظیم والد گرامی کے مشن سے باغی ہوکر اسلامی حکومت کو قیصر وکسریٰ کی طرز پر ملوکیت سے بدلنا چاہا اور اس پر امام حسینؓ سے بیعت چاہی، یہی وہ موڑ ہے جو تاریخ اسلامی میں واقعہ کربلا کا سبب بنا۔ اسلامی نظام شریعت کے روشن چہرے کو یزید شہنشاہی کے زعم میں مسخ کرنا چاہتا تھا۔جس دین کی اکملیت فخر موجدات ﷺکی آمد کے ساتھ ہو گئی تھی۔ اسی دین کے اصول حرام و حلال میں یزید اپنے نفس کے فیصلے نافذ کرنا چاہتا تھا۔ اس کے سامنے دو نمونے تھے، اسلامی نظام حکومت کا نمونہ اور کسریٰ کے استبداد کا نمونہ۔ اس نے اسلامی نظام حکومت کا نمونہ نہیں اپنایا بلکہ اس نے کسریٰ کی آمریت کو نمونہ عمل بنایا۔ اسی کی تصدیق کیلئے اس نے نواسہ رسول حضرت حسینؓ  کو مجبور کرنا چاہا، وہ چاہتا تھا کہ اسلامی تعزیرات میں رد و ترمیم کر دی جائے، شریعت کو طبیعت کے مطابق ڈھال لیا جائے اور ان سب کے باوجود امام حسینؓ بیعت یزید کرکے یزیدی قوانین کو تسلیم کر لیں۔ معاملہ چونکہ اسلامی قوانین کی حفاظت کا تھا، یزید شریعت اسلامی میں تحریف چاہتا تھا، حضرت حسینؓ کا بیعت کر لینا مثال بن جاتا، یزیدی فتنے پر مہر تصدیق ثبت کرنے کا ذریعہ بن جاتا، اسلام کا وہ روشن چہرہ باقی نہ رہتا جس کیلئے خاتم الانبیا ءمحمدﷺ تشریف لائے تھے۔

حضرت حسینؓ نے مستقبل کیلئے ایک مثال قائم کر دی کہ یزید کی بیعت دراصل باطل کی توثیق ہے اس لئے آپ نے بیعت یزید سے صاف انکار کرکے دنیا کو صدق و وفا کا وہ عظیم درس دیدیا کہ ہر باطل کے مقابل حضرت حسینؓ حق کی علامت بن چکے ہیں۔ باطل چاہے اسلامی کلمے کے ساتھ آئے یا صیہونیت کی شکل میں؟ایک مسلمان کیلئے سچے اسلامی احکام ہی کافی ہیں، انہیں کی پیروی میں اس کیلئے نجات ہے۔ اس دنیائے فانی میں اپنے مکرو فریب اور جبروتشدد سے حاصل کی ہوئی قوت کے بل بوتے پر کسی کا بظاہر کامیاب نظر آنا اور اقتدار حاصل کرلینا، اصل کامیابی نہیں۔ بلکہ حقیقی اوردائمی کامیابی یہ ہے کہ انسان کو تخت ملے یا تختہ وہ دنیاوی جاہ وحشمت کے لئے اللہ تعالیٰ اوراس کے رسولﷺ کی اطاعت کا دامن ہرگز نہ چھوڑے۔ حضرت حسینؓ  کی عظیم شہادت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ باطل کو ترک کرکے حق پر ڈٹا جائے،ہمیشہ دین حق کا علم بلند کیا جائے، چاہے اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان راہ خدا میں نچھاور کرکے حضرت حسینؓ  نے بتا دیا کہ جب بھی اسلام کے مقابل یزیدیت سر ابھارے میری شہادت سے درس لے کر استقلال کی تاریخ رقم کر لینا، باطل کے آگے سرنگوں نہ ہونا۔ جان دیدینا مگریزیدیت کی اطاعت قبول مت کرنا۔ تاریخ انسانی میں ایسے خونیں سانحہ کی مثال نہیں ملتی، جان دینا آسان نہیں، عزیزوں کو قربان کرنا بڑا مشکل کام ہے ۔ یہ سب صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور دین حق کی سربلندی کیلئے امام حسینؓ نے قبول کیا اور امت محمدیہ کو بتا دیا کہ خودداری یہ نہیں کہ اسلام سے جدا راہ قبول کر لی جائے ،خودداری تو یہ ہے کہ راہ حق پر چلا جائے چاہے اس کیلئے اپنے لہو سے ہی چمن کی آبیاری کرنی پڑے۔ حضرت حسینؓ  نے اپنے لہو سے ایک درخشاں تاریخ لکھ دی ہے جس کی سرخی آج بھی ہویدا ہے۔

اک پل کی تھی بس حکومت یزیدکی

صدیاں حسین ؓ کی ہیں زمانہ حسین ؓ کا

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...