کار انداز خواتین کی مالیاتی شمولیت کے فروغ کیلئے گرانٹس فراہم کرے گا

کار انداز خواتین کی مالیاتی شمولیت کے فروغ کیلئے گرانٹس فراہم کرے گا

  



لاہور (پ ر)کار انداز پاکستان نے دو فن ٹیکس اُڑان ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ اور ٹیک لیٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ گرانٹ معاہدوں پر دستخط کئے ہیں جنہیں بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے فنڈز فراہم کئے جائیں گے جبکہ ایک علیحدہ معاہدہ این آر ایس پی مائیکرو فنانس کے ساتھ طے پایا ہے جسے برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) کی جانب سے فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔ ان گرانٹس سے خواتین کی زیادہ سے زیادہ مالیاتی شمولیت اور پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی صنعت میں صنفی فرق کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ ان تینوں شراکت داروں کو 2019-20ء کے دوران ہونے والے کار انداز فنانشل انکلوژن آف وومن چیلنج کے ذریعے منتخب کیا گیا تھا۔ پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی مارکیٹ کے ابتدائی مراحل اور فعال ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی کم تعداد کے پیش نظر قیمتوں کے تعین، مصنوعات اور پیغام رسانی کی حکمت عملیوں میں وسیع پیمانے پر فرق ہے جو غریب اور بینکوں سے محروم آبادیوں کیلئے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو اختیار اور استعمال کرنے کو زیادہ سے زیادہ بڑھا یا جا سکتاہے۔ مالی سہولت تک رسائی، مالی خواندگی، اکاؤنٹ کھولنے، استعمال اور فعال کرنا وہ اہم معاملات ہیں جو ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو اختیار کرنے میں وسیع پیمانے پر رکاوٹ بنتے ہیں۔

اور یہ ملک میں بالعموم اور خواتین میں بالخصوص کم مالیاتی شمولیت کا باعث بنتے ہیں۔ ان گرانٹس کے ذریعے کارنداز کا مقصد ان تینوں گرانٹس کے اقدامات میں مدد فراہم کرنا ہے جو خواتین کی آبادی میں ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے کم استعمال اور فعال استعمال کو براہ راست حل کر سکیں۔ گرانٹ حاصل کرنے والوں کی جانب سے پیش کردہ سلوشنزخواتین آبادی کو ڈیجیٹل مالیاتی خدمات میں اپنا تعارف کرانے اور اپنی روزمرہ زندگی میں ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے مستفید ہونے کے طریقے کو سمجھنے کے قابل بنائے گا۔

کار انداز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی سرفراز نے کہا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے منظر نامے میں پائے جانے والے فرق کو پورا کرنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے کار انداز ان موجدین کے ساتھ شراکت کا خواہش مند تھا جن کے پاس جینڈر۔سمارٹ، وومن۔سینٹرک فنانشل پروڈکٹس اور سروسز کیلئے ماہرین موجود تھے۔ ہمارا مقصد اپنے شراکت داروں اُڑان، ٹیک لیٹس اور این آر ایس پی مائیکرو فنانس بینک کو خواتین کے مختلف طبقات کے لیے عمل کا آغاز کرنے اور جائزہ لینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ پائیدار ترقیاتی اہداف میں طے شدہ اہداف کی جانب مستحکم پیشرفت کے لئے پاکستان کو ترقی کے عمل میں خواتین کی شمولیت کو آسان بنانے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی مالیاتی شمولیت کو فروغ دینا کار انداز کا بنیادی موضوع ہے۔ ہمیں امید ہے کہ خواتین کیلئے معاشی بااختیاری ان گرانٹس کا براہ راست نتیجہ ہوگا اور ہمارے شراکت داروں کو یہ مدد رقم سے زیادہ محروم اور پسماندہ خواتین کی ترقی اور ان کو بااختیار بنانے میں اضافہ فراہم کرے گی اور خواتین کے لئے زیادہ مناسب ماحول تشکیل دے گی تاکہ وہ اپنا مناسب معاشی کردار اداکر سکیں۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ جب خواتین کے پاس پیسہ کمانے، خرچ کرنے، بچانے اور اسے کنٹرول کرنے کی طاقت ہوتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنی کمیونٹیز کیلئے بھی فائدہ حاصل کرتی ہیں۔

اُڑان ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر حلیمہ اقبال نے کہا کہ پاکستان کی بچت میں کمی کے مسائل دستاویزی طور پر موجود ہیں جو بظاہر پیچیدہ ہیں۔ اپنے قیام کے بعد سے اورآن کا مشن خواتین کے لئے مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ کے ساتھ ملک میں مالیاتی رسائی کو توسیع دینا ہے۔ کار انداز کی مدد سے خواتین میں بچت اور معاشی خواندگی کو فروغ دینے کیلئے ہماری کوششوں کو تیز اور وسیع کرنے میں مدد ملے گی تاکہ انہیں معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔

ٹیک لیٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احسن طاہر نے کہا کہ ہماری تجویز 5 لاکھ موثر اور وابستہ شخصیات کے ساتھ کام کے لئے ایک لاکھ سے زائد سماجی طور پر متحرک کاروباری اداروں کو فعال بنانا ہے جنہیں ”Walees“ بھی کہا جاتا ہے تاکہ پاکستان کے 72 ملین سے زائد انٹرنیٹ کے حامل ریٹیل کنزیومرز کے لئے اپنے برانڈز، پیغامات، مصنوعات اور خدمات کو فروغ دیا جا سکے۔ کار انداز کی مدد سے ہمیں ولیز کی اے آئی سے چلنے والی تجارتی صلاحیتوں کو تیز کرنے اور بینکنگ خدمات سے محروم خواتین کے لاکھوں کاروباروں اور کاروباروں پر اثر انداز ہونے والوں کو منسلک کرنے، تعاون کرنے اور کارکردگی کی بنیاد پر معاوضہ ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

این آر ایس پی مائیکرو فنانس بینک کے صدر و سی ای او ظہور حسین خان نے کہا کہ دور دراز دیہی مقامات پر ہماری موجودگی نے ہمیں برانچ لیس بینکنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی اہلیت رکھنے والی خواتین کی کافی حد تک شناخت میں مدد فراہم کی ہے۔ کار انداز کا اقدام این آر ایس پی بینک کو دیہی خواتین کو دیہات کی سطح پر مالیاتی لین دین میں سہولت کے لئے بااختیار بنانے اور انہیں برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس کے طور پر کام کرنے کے لئے فعال بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔

کار انداز کے چیف ڈیجیٹل آفیسر ریحان اختر نے کہا کہ اس چیلنج کے دوران مجوزہسلوشنز کو ان شعبوں میں مدعو کیا گیا تھا جن میں خواتین کی مالیاتی شمولیت کی سہولیات بشمول کریڈٹ، بچت، ادائیگیاں، متبادل کریڈٹس، ای کامرس، انشورنس، ترسیلات زر، پنشن وغیرہ شامل ہیں۔ وہ تمام شعبے جو خواتین کی مالیاتی صحت پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں، ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی طرف خواتین کو راغب کرنے اور مالیاتی شمولیت کے دائرہ میں انہیں داخل کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔

کار انداز پاکستان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مدد، بینکنگ سے محروم آبادی کے لئے مالی سہولت میں اضافہ، شواہد پر مبنی بصیرت کو رائج کرنے اور مالیاتی شعبہ میں جدتوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ کار انداز پاکستان کو برطانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن (بی ایم جی ایف) کا مالی تعاون حاصل ہے۔

مزید : کامرس