مسلم لیگ(ن) کی بجلی اور گیس چوری ہو گئی، تحقیقات کی ضرورت؟

مسلم لیگ(ن) کی بجلی اور گیس چوری ہو گئی، تحقیقات کی ضرورت؟
 مسلم لیگ(ن) کی بجلی اور گیس چوری ہو گئی، تحقیقات کی ضرورت؟

  

2013ء کے قومی انتخابات میں پاکستانی عوام نے ملک بھر میں جاری18سے20گھنٹے بجلی، کئی کئی دن کی گیس کی لوڈشیڈنگ کا بدلہ پیپلز پارٹی کی حکومت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اس کی چھٹی کروا کر اور مسلم لیگ (ن) کو حکومت دِلا کر لیا تھا اور پھر ہم نے دیکھا اُس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے خصوصی ٹاسک فورسز کے ذریعے مانیٹرنگ کا موثر نظام قائم کر کے پاور کمپنیوں کی ضرورت کو پورا کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے والے کئی کارخانے لگائے اور بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے لمبی منصوبہ بندی کی اور مرحلہ وار بجلی کی لوڈشیڈنگ کم ہوتی چلی گئی، پھر پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان نے ایل این جی کا معاہدہ کیا،جس کے بعد کئی کئی ہفتے بند رہنے والے سی این جی سٹیشن نہ صرف کھل گئے،بلکہ گھریلو اور صنعتوں کو گیس کی فراہمی بھی شروع ہو گئی اور مسلم لیگ(ن) حکومت کے تیسرے سال میں حالات بہتر ہوتے چلے گئے۔

کتنی بجلی کس پاور سٹیشن سے حاصل ہونا شروع ہو گئی، کتنے نئے پاور سٹیشن لگے، اس پر بحث نہیں۔البتہ ایک بات طے ہے2017ء کی گرمیوں میں لوڈشیڈنگ60فیصد کم ہو گئی اور2018ء شروع ہونے تک80فیصد اور انتخابات تک95فیصد بجلی کا لوڈ پورا کر دیا، مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے 2018ء کے انتخابات میں الیکشن جیتنے کا جو سب سے بڑا نعرہ قوم کو دیا وہ یہی تھا کہ ہم نے لوڈشیڈنگ سے قوم کو نجات دلائی۔

بغیر کسی مبالغہ آرائی زمینی حقائق کے مطابق بات کروں گا، الزام لگایا جاتا ہے مسلم لیگ(ن) نے ملک کا ستیاناس کِیا ہو گا، لوٹ مار کی ہو گی، کرپشن کے پہاڑ کھڑے کئے ہوں گے، بجلی اور گیس کے حوالے سے قوم کو سکھ ہی دیا ہے، پاکستانی عوام اِس بات کے گواہ ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے آخری سال میں بجلی کی پیداوار میں20ہزار میگاواٹ اضافہ ہوا، 25ہزار صنعتوں کے لئے زیرو لوڈشیڈنگ کر دی گئی، گردشی قرضوں کے نظام کو مربوط کیا گیا اور ملک میں بجلی کی پیداوار اور آبی ذخائر میں اضافے کے لئے نیلم جہلم، ڈیم کی تعمیر مکمل کی گئی، جبکہ بھاشا ڈیم تعمیر کے لئے چیف جسٹس نے خصوصی فنڈ قائم کیا۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ نئے پاکستان میں عوام تحریک انصاف کی حکومت سے امیدوں کے پہاڑ وابستہ کر رہی تھی۔کرپشن کرپشن کا راگ اس انداز میں الاپا گیا، قوم نے کہا اب صالح ایماندار عمران خان وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہی عوام کی مشکلات حل کریں گے جو میاں برادران عوام پر مسلط کر گئے، بجلی کی زیرو لوڈشیڈنگ کے بعد اگلا ہدف بجلی سستی کرنے اور گیس وافر ہونے کی وجہ سے اگلا ہدف گیس کنکشن ملک کے طول و عرض میں پھیلانے کا ہو گا۔

نئے پاکستان میں کسان خوشحال ہو گا، عمران خان کسانوں کو بجلی مفت فراہم کریں گے، صنعتوں کا جال بچھے گا۔نئے پاکستان میں بجلی آئل کی بجائے کوئلے سے بنے گی اور عمران خان کی خوش قسمت حکومت کو اقتدار بھی اس وقت ملا جب گرمیاں جا رہی تھیں اور سردیاں آ رہی تھیں، عوام بھی خوش تھے اب ہر چند وافر ملے گی، نجانے عوام کو کس کی نظر لگ گئی۔

سہانے خواب ڈراؤنے لگنے لگے، پہیہ اُلٹا گھومنے لگا، اللہ اللہ کر کے قوم کو بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات ملی تھی،وہ عفریت اچانک مسلط ہو گیا۔ 2013ء کے ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ ایک گھنٹہ بجلی والا فارمولا پھر قوم کو ملنا شروع ہو گیا، بجلی کا عذاب اکیلا نہیں ہے، بلکہ اپنے ساتھ گھریلو گیس صنعتوں کی گیس کی لوڈشیڈنگ کا تحفہ بھی لے کر آیا۔ بات یہی ختم نہیں ہوئی۔ پہلی بار بجلی اور گیس کے بعد پانی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا تحفہ بھی قوم کو ملا ہے۔

اِس سے بھی افسوسناک پہلو جو دیکھنے میں آ رہا ہے وہ ہے خوف کی فضا، بے یقینی کی فضا جس نے چاروں اطراف سے پاکستانی قوم کو گھیرے میں لے ر کھا ہے۔ عمران خان کی نڈر بہادر اور ایماندار حکومت کے ڈیڑھ سو دن مکمل نہیں ہوئے تھے کہ ڈالر 10سے15 روپے مہنگا اور ریال7 روپے سے 10روپے ہو چکا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل 25سے30 روپے سستا ہو رہا ہے اور عوام کی قسمت کہ یہاں تیل میں4 روپے سے5روپے سستا مل رہا ہے۔ مارکیٹوں میں خوف کی فضا ہے، دکاندار گاہگ ڈھونڈ رہے، کسان اپنے سال بھر کی کمائی گنے کو سڑکوں پر آگ لگا رہا ہے۔ صنعت کار خوف زدہ ہے، ڈالر کیا سلوک کرے گا،سرمایہ دار اپنا سرمایہ باہر منتقل کرنے پر مجبور ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک وقت میں سینکڑوں محاذ کھول کر پاکستانی عوام کی نبض پر سیاست دانوں کی طرح ہاتھ رکھ کر عارضی انجکشن لگا کر چند ریلیف کے فیصلے دے کر سینکڑوں بڑے میگا سکینڈلز کو پھر التوا کا شکار کر کے آنے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ سیاست دانوں سے مایوس عوام نے سرگرم ہوئی عدلیہ سے امیدیں وابستہ کر لیں، مگر افسوس عوام کے حصے کی خوشیاں شاید کم ہیں، اس لئے انہیں ابھی حب الوطنی کی سزا اور ملنی چاہئے وہ انتظار کی ہو یا ریلیف کی۔چیف جسٹس آف پاکستان الوداعی تقریبات میں ایک جے آئی ٹی مسلم لیگ(ن) کی وافر بجلی اور گیس کی چوری کی تحقیقات کے لئے بھی بنا دیں تاکہ عوام کو کبھی نہ کبھی پتہ چل ہی جائے گا اب کیا ہونے والا ہے۔

مزید : رائے /کالم