توہین عدالت کا نیا بل

توہین عدالت کا نیا بل

قومی اسمبلی نے انتہائی عجلت میں توہین عدالت کا جو نیا بل کثرت رائے سے بغیر کسی بحث کے منظور کیا ہے اس کے تحت صدر، وزیراعظم، گورنروں، وزیروں، وزرائے مملکت اور صوبائی وزیروں کو توہین عدالت کی کسی بھی کارروائی سے استثناءحاصل ہوگا، اس قانون کے تحت عدالت توہین عدالت کرنے والے شخص کو حراست میں لے کر اسی روز ضمانت منظور کرے گی، مرتکب شخص 30کی بجائے ساٹھ دن میں اپیل کرسکے گا، بل میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی جج کے بارے میں سچا بیان توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔عدالتی فیصلوں پر مناسب تبصرہ ہو سکے گا۔تیرہ شقوں پر مشتمل بل سینٹ سے منظوری کے بعد،صدر کے دستخطوں سے قانون بن جائے گا۔

اس نئے بل کے ذریعے توہین عدالت کے جس قانون کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، اس کے تحت سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو تابرخواستِ عدالت قید کی سزا ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں وہ قومی اسمبلی کی نشست سے محروم ہوگئے۔ان کا وزارت عظمیٰ کا عہدہ 26اپریل سے ختم ہوگیا اور آئندہ پانچ سال کے لئے الیکشن لڑنے کے نااہل ہوگئے، انہیں توہین عدالت کی سزا اس جرم میں دی گئی کہ انہوں نے عدالت کے حکم کے تحت سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار کردیا تھا، ان کی جگہ عہدہ سنبھالنے والے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے بھی 12جولائی تک اس ضمن میں جواب طلب کیا گیا ہے، چونکہ وہ بھی کہہ چکے ہیں کہ خط لکھنے کے سلسلے میں حکومت کا موقف واضح ہے(یعنی خط نہیں لکھا جائے گا) اس لئے عام خیال یہ ہے کہ وہ بھی اپنے پیشرو کے حشر سے دوچار ہوسکتے ہیں۔اس لئے جلد بازی میں یہ ساری قانونی مشق بظاہر ان کو توہین عدالت کے قانون کی زد میں آنے سے بچانے کے لئے ہورہی ہے اور ان کے گرد اس نئے قانون کا حصار اس لئے قائم کیا جارہا ہے ،تاکہ وہ توہین عدالت کے تحت کسی کارروائی سے مامون و محفوظ رہ سکیں۔یہاں یہ حقیقت بڑی دلچسپ ہے کہ سابق وزیراعظم گیلانی نے لندن میں بیٹھ کر ببانگ دہل کہا تھا کہ ملک میں توہین عدالت کا کوئی قانون ہی نہیں،حکومت نے عدالت میں بھی یہی مو¿قف اختیار کیا تھا کہ ملک توہین عدالت کے کسی قانون کے بغیر ہے، تاہم عدالت نے 2003ءکے توہین عدالت آرڈی ننس کے تحت ہی سابق وزیراعظم کو مجرم گردانا، اٹارنی جنرل عرفان قادر اس فیصلے کے بعد بھی عدالت میں یہ موقف دہراتے رہے کہ توہین عدالت کا کوئی قانون وجود نہیں رکھتا، نئے بل کے تحت حکومت نے وہ قانون بھی ختم کردیا ہے جو وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔

قومی اسمبلی سے بل منظور ہونے کے بعد اگرچہ حکومت نے ایک مرحلہ کامیابی سے طے کرلیا ہے اور بظاہر دوسرے مرحلے میں بھی اسے کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی، کیونکہ سینٹ میں بھی حکومت اور اتحادیوں کو اکثریت حاصل ہے۔صدر کے دستخط بھی ہو جائیں گے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس قانون پر عدالتی نظرثانی کے مراحل بھی اتنی ہی آسانی سے طے کرلے گی؟اس سوال کا جواب ایک بڑے نفی کی صورت میں سامنے ہے۔جب یہ معاملہ عدالت کے روبرو پیش ہوگا تو وہ اس امر کا جائزہ لے گی کہ کیا یہ قانون آئین کی منشاءکے خلاف تو نہیں ہے جس میں درج ہے کہ پارلیمنٹ انسانی حقوق کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کرسکتی اور نہ ہی کوئی ایسا قانون بنا سکتی ہے جس میں کسی فرد یا افراد کے کسی گروہ کے خلاف یا حق میں امتیاز برتا گیا ہو بد نیتی کے تحت قانون سازی کو بھی سپریم کورٹ کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ بادی النظر میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ فوری طور پر اس قانون کا مقصد وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو ممکنہ طور پر توہین عدالت کے قانون کی زد میں آنے سے روکنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا حکومت اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جائے گی یا نہیں۔

 کہا جا رہا ہے کہ نئے قانون کا مقصد جمہوریت کو پروان چڑھانا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح جمہوریت واقعی پروان چڑھے گی یا سولی پر لٹک جائے گی۔ بظاہر تو نظر نہیں آتا کہ اس اقدام سے جمہوریت کی مضبوطی کا مقصد حاصل ہو کیونکہ اس طرح تو پارلیمینٹ اور سپریم کورٹ میں ایک نئی محاذ آرائی شروع ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایسی محاذ آرائی میں کبھی جمہوریت پروان چڑھی ہے، جو اب چڑھے گی؟ سپریم کورٹ جو احکامات جاری کرتی ہے اس پر عملدرآمد کے ضمن میں مملکت کے تمام ادارے سپریم کورٹ کی معاونت کے پابند ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو خط لکھنے کا جو حکم دیا تھا سابق وزیر اعظم گیلانی نے اس پر عمل نہیں کیا تھا۔ نتیجے کے طور پر ان کا عہدہ ختم ہو گیا، اب اگر کوئی دوسرا وزیر اعظم بھی یہی عمل دہرائے گا تو عدالت اس کے ساتھ پہلے سے مختلف سلوک نہیں کرے گی اور کیا ایک جیسے مجرموں سے الگ الگ سلوک ہو سکتا ہے؟ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں فاضل عدالتیں توہین عدالت کی کارروائی کرتی ہیں اب اگر مملکت کے تمام بڑے عہدیداروں کو توہین عدالت کے قانون سے ہی ماورا کر دیا جائے گا تو پھر عدالتوں کے احکامات کون مانے گا اور ایسی صورت میں عدالتوں کی افادیت بھی کیا رہ جائے گی؟ اگر حکومت نے اپنے سارے بڑے عہدیداروں کو توہین عدالت سے بالا ترہی قرار دینا ہے تو پھر بہتر ہے عدالتوں کو تالے لگا دیئے جائیں، مزیدبراں عدالتی فیصلوں اور ججوں کی شخصیت کے متعلق ”مناسب الفاظ میں“ تبصروں کے ذریعے جس بحث اور نکتہ چینی کی حوصلہ افزائی اس بل میں کی گئی ہے وہ بھی اپنے اندر بہت سے مضمرات رکھتی ہے اس وقت بھی ٹی وی چینلوں پر ایسے ٹاک شو ہو رہے ہیں جن میں بعض لوگ عدلیہ کے متعلق ایسے تبصرے کرتے ہیں جو ”مناسب الفاظ“کی حدود سے نکل جاتے ہیں، بعض حضرات تو دانستہ ایسی باتیں کرتے ہیں جیسے جان بوجھ کر ججوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو، عدالتوں کے اندر بھی بعض عدالتی افسروں کا رویہ معقولیت کی حدود کو پھلانگتا ہوا محسوس ہوتا ہے، یوسف رضا گیلانی کے خلاف فیصلہ آیا تو بعض وزیروں نے بھی اپنے اپنے انداز میں ایسے تبصرے کئے جو کہیں کہیں قابل گرفت تھے اب اگر کوئی وزیر ایسا کرے گا تو نئے قانون کے تحت تو اسے کھلی چھٹی ہو گی کہ وہ جو چاہے کہے اور جس انداز میں چاہے کہے، اسے تو کو کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہیں ہو گا کہ توہین عدالت کے قانون کے تحت تو وہ بالاتر ہو گیا ایسے میں نہ صرف پیچیدگیاں پیدا ہوں گی بلکہ عدالت اور قانون مذاق اور بازیچہ اطفال بن کر رہ جائیں گے اور قانون کی حکمرانی کا تصور مجروح ہو گا، بہرحال حکومت نے تو جلد بازی میں ایک چال چل دی ہے قانون سازوں کی اکثریت نے نئے قانون کے مسودے کا مطالعہ بھی شاید نہیں کیا ہو گا، بل پیش ہوا رولز معطل ہوئے، بل کسی کمیٹی کے سپرد ہوا اور نہ کوئی بحث ہوئی اور اسی نشست میں منظور بھی ہو گیا، اب ایسی پارلیمنٹ اور ایسے قانون ساز اگر ”بالادستی“ کے راگ الاپیں گے تو کون سے کان ان نعروں کو سنیں گے؟

مزید : اداریہ